کورونا بحران، عثمان بزدار کی صلاحیتوں کا امتحان

کورونا بحران، عثمان بزدار کی صلاحیتوں کا امتحان
کورونا بحران، عثمان بزدار کی صلاحیتوں کا امتحان

  

کورونا وائرس کے بحران میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے اندر چھپا ہوا وسیم اکرم پلس باہر آ گیا ہے۔ ان دنوں ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے لیکن عثمان بزدار ٹھنڈے مزاج سے فیصلے کر رہے ہیں، متاثرین اور غریبوں کے لئے سب سے بڑا امدادی پیکج بھی پنجاب نے دیا ہے اور چار ہزار روپے فی شخص گھرانا آسان طریقے سے گھر بیٹھے دینے کی سکیم بھی پنجاب حکومت نے دی ہے۔ جو امدادی تھیلے بنائے گئے ہیں، ان میں اچھا خاصا راشن موجود ہے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پنجاب کی سرکاری مشینری بہت فعال ہے۔ ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اپنے طور پر عوام کی مشکلات کم کرنے میں لگا ہوا ہے اور ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر میں بیٹھنے کا رجحان ختم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک پنجاب کے کسی ضلع سے کسی بڑے غذائی بحران یا کورونا وائرس کو کنٹرول نہ کرنے کے حوالے سے کوئی بڑی اطلاع نہیں آئی۔

میں سوچ رہا ہوں کہ بیورو کریسی میں یہ تبدیلی کیسے آئی ہے۔ شہباز شریف کے زمانے میں تو کہا جاتا تھا کہ وہ لٹھ لے کر پیچھے پڑ جاتے ہیں، عثمان بزدار تو دھیمے مزاج سے بات کرتے ہیں، بہت زیادہ کھڑکا دڑکا بھی نہیں کرتے، اس کے باوجود صوبے میں بحرانی کیفیت نظر نہیں آتی۔ پنجاب میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے انتظامات بھی بڑی تیزی سے ہوئے ہیں۔ علاج معالجے کے لئے سہولتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، ایک ٹھہراؤ کی سی صورت حال ہے، جیسے وقت کو قابو کر لیا گیا ہو۔ یہاں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ پنجاب کی آبادی ملک کے تینوں صوبوں کی آبادی سے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے آبادی ہی سے مسائل بھی بڑھتے ہیں، ایک نو آموز وزیر اعلیٰ سے اس بات کی امید کم ہی تھی کہ وہ کسی بڑے بحران یا آفت کے موقع پر صوبے کو سنبھال سکیں گے۔ مگر پچھلے دو ہفتوں کے اقدامات اور ان کے نتائج کے بعد لوگوں کو یقین ہو چلا ہے کہ صوبہ پنجاب ایک مضبوط گورننس کے ماتحت چل رہا ہے۔

یقیناً اس میں کریڈٹ چیف سکریٹری اعظم سلیمان کو بھی جاتا ہے اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر بھی پولیس کو فعال رکھے ہوئے ہیں۔ صوبے میں بتدریج پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اگرچہ اس پر تنقید بھی ہو رہی ہے لیکن جلد بازی میں پابندیاں لگانے سے سندھ میں جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور جس طرح لوگ خوراک نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں، وہ کوئی خوشگوار صورتحال نہیں ہے۔ پنجاب میں شروع دن سے اس پہلو کو پیشِ نظر رکھا گیا کہ لوگوں میں بے چینی نہ پھیلے۔ اب جبکہ لوگ کافی حد تک لاک ڈاؤن کے عادل ہو گئے ہیں تو پابندیاں مزید بڑھائی جا رہی ہیں۔ مثلاً ایسا کریانے کی دکانیں، سبزی و فروٹ شاپ اور بیکریوں کو صبح 9 بجے سے شام پانچ بجے تک کھلے رکھنے کا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ کل میں کافی دنوں بعد ایک ضروری کام سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ پولیس نے بڑی سمجھداری سے شہر کی ٹریفک کو لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔ یعنی وہ چلتی بھی رہے لیکن آسانی سے ادھر اُدھر جانا بھی ممکن نہ ہو۔

سڑکیں خالی تھیں، البتہ جہاں دکانیں اور بیکریاں کھلی تھیں وہاں لوگ موجود تھے۔ کئی جگہوں پر لوگوں کو مخیر حضرات امداد بھی تقسیم کر رہے تھے اور ایسی فضا نہیں تھی کہ جیسے کوئی بڑی آفت آنے والی ہو۔ اگرچہ یہ خیال تو وزیر اعظم عمران خان کا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہ کیا جائے تاہم آگے ذمہ داری صوبوں کی تھی کہ وہ صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں ان حالات میں کہ جب وزیر اعظم عمران خان کے پاس بھی سر کھجانے کی فرصت نہیں اور روزانہ کئی اجلاس کرتے ہیں، صوبہ پنجاب پر ان کی شاید اس طرح نظر نہ ہو، جیسے پہلے تھی، اب اس خلاء کو وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پر کرنا تھا اور بڑی اچھی قیادت کے ذریعے وہ پورا کر رہے ہیں اس بحران کے دوران ان کی صرف ایک بار وزیراعظم عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ختم ہو گیا ہے کہ عثمان بزدار سانس بھی عمران خان سے پوچھ کر لیتے ہیں۔ آج کل کے حالات میں فیصلے اتنی تیزی سے کرنے پڑ رہے ہیں کہ اتنا وقت ہی نہیں ہوتا اوپر سے آنے والے فیصلوں کا انتظار کیا جائے۔ پنجاب میں پچھلے کچھ دنوں سے ریلیف، علاج، ضروریات اشیاء کی فراہمی اور گڈ گورننس کے حوالے سے فیصلے بڑی تیزی کے ساتھ ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں حکومت نے وسائل کی کمی کا رونا رویا ہے اور نہ ہی امدادی پیکج کی منظوری میں تاخیر کی ہے۔

میں شروع دن سے کہہ رہا ہوں کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال حکومت کے اعصاب کا امتحان بھی ہے فیصلے اگر اعصاب برقرار رکھ کر کئے جائیں تو وہ مسائل پیدا نہیں کرتے بلکہ مسائل کے حل کی طرف جاتے ہیں پنجاب میں بتدریج اقدامات اٹھائے گئے ہیں ڈر تھا کہ اگر عوام کے اندر بے چینی یا بے یقینی پھیل گئی تو قحط کی فضا پیدا ہو جائے گی۔ اتنے بڑے صوبے میں اگر گھبراہٹ کا شکار ہو کر اشیائے ضروریہ اکٹھی کرنے پر لگ جاتے تو دو دن میں سٹور اور دکانیں خالی ہو جاتیں۔ پنجاب حکومت یہ یقین دلانے میں کامیاب رہی کہ صوبے میں غذا کا کوئی بحران ہے اور نہ کمی، نہ ہی خریداری پر کوئی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بارہ دن گزر جانے کے باوجود صوبہ بحرانی یا اضطرابی کیفیت سے دو چار نہیں۔ اب پنجاب حکومت کے سامنے دو ٹاسک ہیں۔ پہلا ٹاسک کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے اور دوسرا وہ لوگ جو بے روز گار ہو کر گھروں میں بیٹھے ہیں ان کی دال روٹی کا بندوبست کرنا ہے۔ جہاں تک پہلے ٹاسک کا تعلق ہے تو پنجاب حکومت کے بڑھتے ہوئے سخت اقدامات سے شہروں میں عوام کی آمد و رفت کم ہو گئی ہے، دوسری طرف اس بات کی کڑی نگرانی بھی کی جا رہی ہے کہ جہاں کہیں سے کورونا وائرس پھیلنے کا امکان ہو اسے قرنطینہ کیا جا رہا ہے۔

رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے سارے علاقے کو قرنطینہ قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے، اسی طرح ملتان میں ابدالی مسجد جو تبلیغی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک بہت بڑا مرکز ہے، اسے بھی قرنطینہ کیا گیا ہے۔ وہاں سے ایک چینی مبلغ کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی رپورٹ آئی تو انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا اور ڈپٹی کمشنر عامر خٹک خود وہاں پہنچ گئے اور مسجد اتنظامیہ کی رضا مندی سے اسے لاک ڈاؤن کر دیا گیا، جس میں باہر سے کوئی اندر جا سکتا ہے اور نہ اندر سے باہر آ سکتا ہے۔ پنجاب میں انتظامیہ اور پولیس کی یہ کارکردگی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یوں لگتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ ایک قومی جہاد سمجھ کے کر رہے ہیں امید ہے کہ مشکل کی یہ گھڑیاں جلد ختم ہو جائیں گی۔ اب تو عوام بھی بڑی حد تک تعاون کر رہے ہیں، رضا کارانہ گھروں تک محدود ہو چکے ہیں کچھ ایسے گنجان آباد علاقے ہیں کہ جہاں لوگوں کے گھروں میں بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں، ایک دو کمروں کے مکان میں دس دس افراد رہ رہے ہیں، ظاہر ہے وہ باہر آ جاتے ہیں، تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب حکومت نے کوئی بڑی سختی کئے بغیر 90 فیصد آبادی کو گھروں تک محدود کر دیا ہے، گویا کورونا پھیلنے کا امکان 90 فیصد کم ہو گیا ہے۔ اگر ریلیف کا کام تیزی اور مہارت سے کیا گیا تو پنجاب جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے کسی نا خوشگوار واقعہ کے بغیر اس کرونائی بحران کے موسم سے گزر جائے گا۔

جس طرح قومی ٹیم میں کسی کھلاڑی کو موقع ملے اور وہ ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے اچھی اننگز کھیل جائے تو اس کی جگہ پکی ہو جاتی ہے، اس طرح وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بھی ایک بہت بڑے بحران میں صوبے کی قیادت کرنے کا موقع مل رہا ہے، اگر وہ اسی طرح بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے صوبے کو کسی بڑے بحران سے بچا گئے تو کپتان کی یہ بات درست ثابت ہو گی کہ عثمان بزدار، وسیم اکرم پلس ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -