سخت لاک ڈاؤن پر عوام سے مودی کی معافی

سخت لاک ڈاؤن پر عوام سے مودی کی معافی
سخت لاک ڈاؤن پر عوام سے مودی کی معافی

  

بھارتی عوام کے بعد کرونا بھارتی فوج میں بھی سرائیت کر نے لگا۔ متعدد بھارتی فوجی اس کا شکار ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں تعینات غاصب بھارتی فوجی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ چونکہ مودی سرکار نے وادی میں کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ضروری اقدامات نہیں کئے لہذا اب عوام کے بعد بھارتی فوج کی باری ہے۔

حال ہی میں لداخ سکاوٹ کے جوان میں کورونا وائرس کی علامت دیکھے جانے کے بعد اس کی جانچ کرائی گئی جو مثبت آئی۔ بھارتی فوجی کو جہاں ہسپتال بھیج دیا گیا ہے وہیں اس کی بہن اور اہلیہ کو بھی آئیسولیٹ کر دیا گیا ہے۔ جس فوجی کو کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی اْس کی عمر 34 برس ہے اور اْس کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں البتہ اْس کے والد حال ہی میں ایران سے وطن واپس پہنچے تھے۔لیہہ کے چوہوٹ گاؤں کا رہنے والا یہ بھارتی فوجی اپنے والد کے رابطہ میں آیا جو پہلے سے ہی انفیکشن کا شکار ہو چکے تھے۔ ان کے والد 20 فروری کو ایران سے تیرتھ یاترا پر لوٹے تھے اور 29 فروری سے لداخ ہارٹ فاونڈیشن میں آئسولیشن میں ہیں۔

بھارتی فوج کے کرنل سمیت کئی سپاہیوں میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ بھارت کے علاقے کوکلتہ میں موجود بھارتی فوج کے کرنل میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جو میڈیکل ونگ کا ہے۔ ایک جے سی او میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو دہرہ دون میں تعینات تھا۔ متعدد سپاہیوں میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔بھارتی فوج کے افسر میں کرونا وائرس کی تشخیص ہونے پر فوج میں کھلبلی مچ گئی۔کرنل کی پوری یونٹ کے ٹیسٹ کروانے کی تجویز دی گئی ہے جس پر پوری یونٹ کے ٹیسٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ کرنل کی کن کن افراد سے ملاقات ہوئی تھی اس پر بھی کام جاری ہے سب کے ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔اسی لئے بھارتی آرمی چیف نے بھارتی فوج کے آفیسرز اور سپاہیوں کو ایک ہفتے کے لئے قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی فوج میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد بھارتی فوج میں کافی افرا تفری پھیل گئی اورفوجیوں نے استعفے دینا شروع کردیے۔اس سلسلے میں بھارتی فوج نے اپنے سینئرز کے احکام ماننا بھی ختم کر دیے۔ خاص طورپر بھارتی فوج کی لداخ میں تعینات بٹالین میں ایک فوجی کی ہلاکت ہوئی جب پتا چلا کہ اس کی ہلاکت کورونا سے ہوئی ہے تو پوری بٹالین میں افرا تفری پھیل گئی۔ مزید تحقیقات پر پتا چلا کہ پوری بٹالین کورونا کا شکار ہے۔ بھارتی فوج اس وقت شدید خوف و ہراس ہے۔

آرمی ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے بھارتی فوج کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دفاتر میں حاضری کو کم از کم کیا جائے۔ صرف وہی آفیسر اور جوان دفاتر میں موجود ہوں گے جو کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی ریلیف کے کام کر رہے ہیں۔15 اپریل تک فوج کے تمام تقررو تبادلوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ جو فوجی پہلے سے چھٹی پر موجود ہیں ان کی چھٹیوں میں 15 اپریل تک توسیع کردی گئی ہے۔ کورونا کی خبر کے بعد فوج میں خوف اور دہشت کا یہ عالم ہوا کہ بھارتی فوج نے چھٹیاں لینے کے لیے درخواستیں جمع کرانا شروع کروادیں۔ اکثر نے ڈیوٹی دینے سے انکار کردیا۔ بھارتی فوج میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس وجہ سے دہشت اور خوف کے ماحول کو بھارتی میڈیا چھپا رہا ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس 20 ریاستوں میں پھیل چکا ہے اور مریضوں کی تعداد مہاراشٹر میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوچکی ہے۔بھارتی وزیراعظم مودی نے ملک میں کورونا کی روک تھام روکنے کے لیے 21 روز کے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا جسے جنتا کرفیو کا نام دیا گیا اور یہ بھارت میں 25 مارچ سے نافذ کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے کورونا کے باعث 22 ارب ڈالر سے زائد کے پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے جس کے ذریعے غریب افراد کو کیش اور اشیائے خوردونوش فراہم کی جائیں گی۔

اس جنتا کرفیو کی وجہ سے بھارتی عوام بڑی مشکلات کا شکار ہوئی۔لہذا نریندر مودی نے سخت لاک ڈاؤن پر عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں ان سخت اقدامات پر آپ سے معافی مانگتا ہوں جو آپ کی زندگی میں مشکلات کا سبب بنے، خاص کر ملک کے غریب عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ مجھے علم ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ مجھ سے ناراض ہیں مگر یہ سخت اقدامات ہی اس جنگ کو جیتنے کے لیے ضروری ہیں۔

بھارت میں ایک کروڑ 30 لاکھ آبادی لاک ڈاون ہونے کے بعد بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کام کرنے والے مزدور اپنے آبائی علاقوں کی جانب ٹرانسپورٹ میسر نہ ہونے پر پیدل جانے پر مجبور ہیں۔ اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے والے مزدوروں کا کہنا تھا کہ یہاں نئی دہلی میں رہ کر بھوک سے مرنے سے اچھا ہے کہ ہم واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ جائیں۔ دوسرے علاقوں سے آئے مزدوروں کے واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے کے بڑھتے واقعات کے بعد نئی دہلی کے وزیراعلیٰ ارویند کیجریوال نے اپنی ٹویٹ میں مزدوروں سے اپیل کرتے ہوئے لکھا ”آپ جہاں ہیں وہیں رہیں کیونکہ بڑے مجمعے میں کرونا کے پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ جبکہ آپکے کھانے پینے کا بندوبست کرنا میری ذمہ داری ہے۔

بھارتی حکومت کی نااہلی اور بد دماغی کے باعث بھارت کے اندر بھی انسانی المیہ جنم لینے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔پورے بھارت میں لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں جو خوراک اور پانی کے حصول کیلئے جدوجہد کرنے گھر سے نکلے تھے۔ ان افراد کیلئے ریاستی مشینری کرونا وائرس سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔ مودی سرکار نے بغیر مناسب اقدام کیے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے پورے بھارت میں کرفیو کی طرز پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ جس پر ریاستی مشینری نے عوام پر بے پناہ تشدد کیا۔ لوگوں نے لاک ڈاؤن کے احکامات ہوا میں اڑاتے ہوئے خوراک کی تلاش میں باہر نکلنا شروع کر دیا۔ ہنگامے ہوئے۔ جلوس نکلے اور بڑے بڑے شاپنگ ہالز اور دکانوں کو لوٹ لیا گیا۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مودی نے عوام سے معافی مانگی۔ مگر اب عوام مودی کی بات پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -