آن لائن شاپنگ کورونا وائرس کی روک تھام میں معاون

آن لائن شاپنگ کورونا وائرس کی روک تھام میں معاون

  

اسلام آباد (پ ر)پاکستان ٹیلی کمیونکیشنز اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق گزشتہ ہفتے سے ملک میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر محکمہ صحت کی ہدایات کے مطابق لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا گھروں سے کام کرنا ہے۔ اس حوالے سے صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے اور بیشتر ملکی آبادی اپنا تحفظ یقینی بنانے کے لئے فکر مند ہے۔ یہ پہلو بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ اس وبائی مرض کے پھیلنے سے لوگوں نے روزمرہ اشیاء اس خوف سے ذخیرہ کرنا شروع کردی ہیں کہ اگر صورتحال لاک ڈاؤن کی طرف گئی یا کرفیو لگ گیا تو پھر روزمرہ اشیاء کا حصول شائد مزید مشکل کام ہوجائے گا۔ یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اسے عالمی وبا قرار دینے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں بھی لوگوں کی جانب سے بھگدڑ میں خریداری کا مشاہدہ سامنے آیا ہے۔ بڑی بڑی مارکیٹوں کے خالی شیلفوں کی تصاویر سامنے آئیں، اشیاء کی خریداری کے لئے لوگوں کی طویل قطاریں نظر آئیں اور سوشل میڈیا پر فیس ماسک، ہینڈ سینی ٹائزرز، اور حفظان صحت کی مصنوعات کی قلت کی خبریں ہر طرف پھیل گئیں۔

پاکستان میں سندھ حکومت نے سب سے پہلے صوبائی سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا اور اسے حال ہی میں سخت کرفیو کی شکل دی گئی، ماسوائے سرکاری نوٹیفکیشن میں استثنیٰ کی حامل بنیادی اشیاء والی گاڑیوں کے، ہر طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی لگادی گئی۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا تاہم ابھی انکی جانب سے سخت کرفیو کے نفاذ کا اعلان ہونا باقی ہے۔

لوگ اپنے گھروں میں قید اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ اس مشکل صورتحال سے کیسے سامنا کریں گے۔ اس پیچیدہ صورتحال کا ایک آسان حل باسہولت ای کامرس ڈیلیوری سسٹم کی شکل میں موجود ہے جو صارف کی دہلیز پر کھانے پینے کی مصنوعات اور بنیادی روزمرہ اشیاء کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق فراہمی یقینی بنا سکتا ہے تاکہ لوگوں کو گھرکے آرام میں ہر چیز میسر آسکے اور وہ کسی بھی طرح کی افراتفری یا بے چینی سے بچ سکیں۔

بدقسمتی سے سندھ حکومت کی جانب سے اس ای کامرس سسٹم کے فعال ہونے کے لئے لازم سپلائی چین لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن کو استثنائی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا اور اس چیز کا خدشہ بھی لاحق ہے کہ کرفیو کی صورت میں دیگر صوبے بھی ایسا لائحہ عمل اختیار کرینگے۔

پاکستان میں ماجد الفطیم کی جانب سے فعال ادارہ کارفور نے اپنے پاکستانی صارفین کو بہتر انداز سے خدمات کی فراہمی کے لئے حال ہی میں ایک موبائل ایپلی کیشن متعارف کرائی ہے۔ یہ نئی ایپلی کیشن لاہور اور کراچی کے صارفین کو گھر بیٹھے سادہ، ڈیجیٹائزڈ، اور باسہولت انداز سے کارفور میں موجود 5ہزار سے زائد مصنوعات کی آن لائن خریداری میں سہولت فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اس ایپلی کیشن کے ذریعے خریداری میں 70 فیصد کا تیز اضافہ دیکھنے میں آیا، خریداروں کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی اور لوگوں کی بڑی تعداد نے وبائی مرض سے بچاؤ کے پیش نظر گھر بیٹھے یہ سروس استعمال کرکے خریداری کی۔

آن لائن آرڈرز کی تکمیل کے سلسلے میں کارفور کا ڈیلیوری سسٹم ہر آرڈر کی تکمیل کے بعد فیس ماسک، ڈسپوزیبل گلوز، کپڑوں اور گاڑیوں کو جراثیم کش ادویات سے پاک کرنے کے سمیت تمام احتیاطی اقدامات پر عمل پیرا ہے تاکہ اس وائرس کے پھیلاؤ سے اپنے عملے اور اپنے صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ تاہم کراچی میں یہ سروس حال ہی میں کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے معطل ہوگئی اور مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر میں اسکی ڈیلیوری گاڑیوں کے سفر پر پابندی عائد کردی کیونکہ سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ نے اپنے لاک ڈاؤن کے نوٹیکفیشن میں اسے استثنیٰ نہیں دیا۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آن لائن شاپنگ کے رجحان میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے لیکن حالیہ بحران میں اسکی اہمیت زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ کھانے پینے کی مصنوعات اور روزمرہ اشیاء کی رسائی اور قلت سے متعلق عوامی بے چینی کے خاتمہ اور کورونا وائرس سے لڑائی کے لئے آن لائن شاپنگ ایک موثر ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔

کارفور پاکستان جیسے بڑے ملٹی نیشنل ریٹیلرز جو حفظان صحت، حفاظت اور بین الاقوامی معیار کے قوانین پر کوالٹی کنٹرول رکھنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عوام کا اعتماد رکھتے ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ملنا چاہیئے تاکہ صارفین گھروں سے باہر نہ نکلیں اور انکی دہلیز پر ہر ممکن طریقے سے روزمرہ اشیاء کی فراہمی مسلسل اور یقینی بنائی جاسکے۔

مزید :

کامرس -