ٹیکس وصولی کا نیا نظر ثانی شدہ ٹیکس ہدف 10اپریل تک طے پانے کا امکان

      ٹیکس وصولی کا نیا نظر ثانی شدہ ٹیکس ہدف 10اپریل تک طے پانے کا امکان

  

اسلام آ باد (آئی این پی) کرونا وائرس کی وباسے معاشی سرگرمیاں ماند پڑنے سے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں نمایاں کمی ہوگئی۔ مارچ میں ہدف سے 200 ارب روپے کم ٹیکس وصول ہوا۔کرونا وائرس کی وبا سے معیشت کا پہیہ جام ہونے سے ایف بی آر کا مالی سال کا نظر ثانی 52 ہزار ارب روپے کاہدف حاصل کرنا بھی مشکل ہوگیا۔ مارچ میں 325 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا جو مقررہدف 525 ارب روپے کے مقابلے میں 38 فیصد یا 200 ارب روپے کم ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولی ہدف سے 470 ارب روپے کم رہی ہے اور ایف بی آر کو رواں مالی سال کے نظر ثانی سالانہ ہدف کو حاصل کرنے کیلئے آخری سہ ماہی میں 2178 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنا ہوگا، جو ناممکن نظر آہا ہے۔غیرسرکاری ماہرین کے مطابق آئندہ سہ ماہی میں ٹیکس وصولی میں 300 ارب روپے کی کمی آ سکتی ہے۔ ملک میں معاشی سرگرمیوں میں کمی کے باعث پہلے ہی رواں مالی سال کے55 ہزار ارب روپے کے ٹیکس ہدف کوکم کر کے 52 ہزار ارب روپے کم کیا گیا تھا، ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا معاشی بحران کی وجہ سے ٹیکس ریونیو پر منفی اثر پڑا ہے، حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان کرونا وائرس کے باعث رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا نیا نظر ثانی شدہ ٹیکس ہدف 10 اپریل تک طے پانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں سیلز ٹیکس کی مد میں 20 فیصد اضافہ کے ساتھ 1250 ارب روپے جبکہ انکم ٹیکس وصولی 16 فیصد اضافہ کے ساتھ 1139 ارب روپے رہی تاہم کسٹم ڈیوٹی 7 فیصد کمی کے ساتھ 471 ارب روپے رہی جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 188 ارب روپے حاصل کیے گئے۔

ایف بی

مزید :

صفحہ آخر -