کرونا امریکی شہروں سے جنگی بیڑوں تک جا پہنچا، 4ہزار اہلکار جکڑ لئے

      کرونا امریکی شہروں سے جنگی بیڑوں تک جا پہنچا، 4ہزار اہلکار جکڑ لئے

  

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک) کرونا وائرس امریکی شہروں سے نکل کر سمندر میں موجود جنگی بحری بیڑوں تک جاپہنچااور 4ہزار سے زائد اہلکاروں کو لپیٹ میں لے لیا،امریکی جنگی بحری بیڑے ”روز ویلٹ“کے کپتان نے محکمہ دفاع سے فوری مدد کرنے کی اپیل کر دی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بحری بیڑے ”روز ویلٹ“ کے کپتان بریٹ کروزیئر نے پینٹاگون کو اپنے چار صفحات پر مشتمل خط میں آگاہ کیا ہے کہ بیڑابحرالکاہل کے امریکی علاقے گوام میں موجود ہے۔کرونا وائرس ہمارے پیچھے یہاں بھی پہنچ گیا ہے اور بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکار زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔امریکی اخبار سان فرانسسکو کرونیکل نے بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا ہے۔خط کے متن کے مطابق کپتان بریڈ کروزیئرنے کہا کہ ہم حالت جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں سیلرز اپنی جانیں دیں۔ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔ متاثرہ اہلکاروں کی بیڑے پر موجودگی بہت بڑا خطرہ ہے۔ جبکہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ وہ بحری بیڑے سے سیلرز کو کسی دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبی امداد اور دیگر ضروری اشیا روزویلٹ کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں اور سیلرز کی دیکھ بھال کیلئے اضافی طبی عملہ بھی بھجوایا جا رہا ہے۔بحریہ وائرس پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ٹیسٹ کٹس بھجوا دی گئی ہیں۔ ادھر امریکی بحریہ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بحری بیڑے کے کپتان کروزیئر کے خط کی تصدیق کی ہے۔

جنگی بیڑے

مزید :

صفحہ آخر -