لاک ڈاؤن سے عوام فاقوں کاشکار، یوٹیلیٹی بل معاف، امداد 20ہزار دی جائے: اے پی سی

  لاک ڈاؤن سے عوام فاقوں کاشکار، یوٹیلیٹی بل معاف، امداد 20ہزار دی جائے: اے پی ...

  

لاہور(این این آئی)پیپلز پارٹی پنجاب کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کی جانب سے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب میں لیڈرشپ نام کی کوئی چیزنظرنہیں آرہی جس سے نا صرف کنفیوژن بڑھ رہی ہے بلکہ ہرکام تاخیر کاشکار ہے،پنجاب حکومت کی نا اہلی نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے لوگوں کی زندگیاں دا ؤپرلگا دی ہیں،پنجاب میں مستحق افراد کو فی الفور د و اقساط میں 20ہزار روپے ادا کئے جائیں،پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں پرمشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جس کو روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دی جائے،اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو سپیکر پنجاب اسمبلی اس عمل کو یقینی بنائیں،بجلی کے5ہزار،گیس کے2ہزار اور پانی کے1ہزار کے بل معاف کئے جائیں،زراعت کو خصوصی پیکج دیا جائے،زرعی قرضوں پر سود معاف کیا جائے اور ان کی وصولی فوری روک دی جائے،کرونا وائرس کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات کا فوری ازالہ کیا،قومی ہم آہنگی اورعوام میں اعتماد کو فروغ دینے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو کرونا کے حوالے سے قومی منصوبہ کی تیاری اور عملدرآمد میں شامل کیا جائے،وزیراعظم اپنے اثاثوں کا 10فیصد ریلیف فنڈ میں دیں تاکہ دیگر لوگوں کے لئے بھی ایک مثال بن سکے جبکہ اے پی سی میں شامل حکومتی اتحاد میں شامل جماعت مسلم لیگ (ق) کے رہنما کامل علی آغانے کہا کہ صرف پنجاب نہیں ملک بھر میں کرونا کے بڑھنے پر اظہار تشویش کریں۔کرونا وائرس بارے پیپلزپارٹی پنجاب کے زیر اہتمام ویڈیولنک آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی چودھری منظور احمد اور سید حسن مرتضی نے کی۔کانفرنس میں ن لیگ، جماعت اسلامی،ق لیگ،اے این پی،برابری پارٹی،جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے تجاویز پیش کیں۔کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں شہید ڈاکٹر اسامہ کو خراج عقیدت اوردوسرے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل عملہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ طبی عملہ اس کسمپرسی کے عالم میں بغیرحفاظتی سازوسامان کے جنگ لڑرہا ہے،لا ء انفورسمنٹ ایجنسیز پولیس، فوج، رینجرز اور دیگر سرکاری اداروں کے اہلکار دن رات اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی عوام کی خدمت کر کررہے ہیں۔ جبکہ پنجاب حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے پنجاب میں کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ ایک طرف حقائق کو چھپایا جارہا ہے اور ٹیسٹنگ کے نتائج لوگوں کو نہیں بتائے جارہے جبکہ دوسری طرف ٹیسٹنگ بہت ہی کم کی جا رہی ہے۔پنجاب ٹیسٹنگ کے اعتبار سے اور آبادی کے تناسب سے سب سے پیچھے کھڑا ہے جس پرگہری تشویش ہے۔پنجاب میں لاک ڈاؤ ن کو اتنے روز گزر جانے کے باوجود راشن کی تقسیم کا کوئی حکومتی میکانزم نظرنہیں آرہا۔اڑھائی ماہ گزرجانے کے باوجود ڈاکٹروں اور میڈیکل کے عملے کوحفاظتی کٹس اور دوسرا سامان مہیا نہیں کیا گیا جو قابل تشویش ہے،پنجاب کو فنڈز کی منتقلی نہ ہونا بھی تشویش کا باعث ہے،وزیراعلیٰ تو بات کرنہیں سکتے اس لیے تمام جماعتیں مطالبہ کرتی ہیں کہ وفاق پنجاب سمیت تمام صوبوں کشمیراور گلگت بلتستان کے فنڈز فوری جاری کرے۔ ان حالات میں بھی ٹائیگرفورس جیسی حرکتیں لوگوں کو منظم کرنے کے بجائے مزید تقسیم کا باعث بن رہی ہیں۔ ٹائیگرفورس والا ڈرامہ بند کیا جائے، بلدیاتی ادارے بحال کیے جائیں اور ان کے ذریعے امداد دی جائے اور محلہ لیول پر کمیٹیاں بنائی جائیں جن میں مقامی این جی اوز اور ان صاحب ثروت لوگوں کو شامل کیا جوخود بھی اس میں فنڈز مہیا کرسکیں۔اگر یہ بھی قابل قبول نہیں تو لیڈی ہیلتھ ورکرزاور دوسرے محکموں کے سرکاری ملازمین کے ذریعے ریلیف کے اس عمل کو مکمل کیا جائے اگر 3دنوں میں پولیو کے قطرے سارے پنجاب میں پلائے جاسکتے ہیں تو راشن یا رقم کیوں تقسیم نہیں کی جاسکتی۔ حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ماہانہ150ارب روپیہ لوگوں سے زائد وصول کررہی ہے وہ واپس لوٹانے کا وقت آگیا ہے۔منافع خوری کی وجہ سے جو غذائی قلت پیدا ہوئی ہے حکومت فی الفور منافع خوروں کے خلاف کاروائی کرے اور اس قلت کو ختم کرے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلی اے پی سی کی میزبانی ن لیگ کرے گی اوراسی طرح کانفرنسز کا سلسلہ جاری رہے گا۔اجلاس سے پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، ن لیگ کے رانا ثنا اللہ،سید حسن مرتضی،ق لیگ کے کامل علی آغا،جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر جاوید قصوری،عوامی نیشنل پارٹی کے منظورخان،جے یو آئی ف کے ڈاکٹر عتیق الرحمن،عوامی ورکرز پارٹی کے عمار رشید اور برابری پارٹی کے جواداحمد سمیت دیگر بھی شریک ہوئے۔

اے پی سی

مزید :

صفحہ آخر -