شاہ محمود کا سعودی ہم منصب سربراہ، یورپی یونین خارجہ امور سے رابطہ، کرونا سے ملکر نمٹنے پر اتفاق

  شاہ محمود کا سعودی ہم منصب سربراہ، یورپی یونین خارجہ امور سے رابطہ، کرونا ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے کرونا کا پھیلاؤ روکنے اور عالمی چیلنج سے نمٹنے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سعو د ی وزیر خارجہ نے پاکستانی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ موجودہ عالمی وبائی چیلنج کے پیش نظر کم وسائل کے حامل ممالک کے قرضوں کی ری سٹرکچر نگ اور معاشی معاونت کو جی 20 سربراہی اجلاس میں زیر غور لایا گیا، دونوں وزرائے خارجہ نے کرونا کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کیلئے مشاورتی سلسلے اور تعاون کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے کہا حج کی ادائیگی کے حوالے سے صورتحال کا ہم جائزہ لے رہے ہیں، صورتحال ابھی واضح نہیں، عمرے کی ادائیگی پر پابندی اور مساجد کی بندش بہت مشکل فیصلے تھے، انسانی جانوں کو بچانے کیلئے مشکل اقدامات اٹھانے پڑے، دین اس بات کی اجازت دیتا ہے،قرضوں کی ریسٹرکچر نگ اچھی تجویز ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی اس حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں،پاکستان اس تجویز کو آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔دریں اثناء وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے کرونا عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے، اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور وائرس کے سبب یورپی یونین کے ممبر ممالک میں ہونیوالے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہااس عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے، یورپی یونین کی جانب سے کیے گئے بروقت اقدامات قابل ستائش ہیں۔انہوں نے مشکل گھڑی میں یورپ بالخصوص سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے اظہار یکجہتی اور رضاکارانہ سرگرمیوں پر بھی گفتگو کی۔وزیر خارجہ نے موجودہ وبائی تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری مسلسل کرفیو کے باعث وہاں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، اس وبا کا پھیلاؤ ر روکنے کیلئے ان پابندیوں کو ہٹایا جانا ناگزیر ہے۔ 80 لاکھ کشمیری، بھارتی استبداد سے نجات کیلئے عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔ وباء کے باعث ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں توقع ہے کہ یورپی یونین، ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ری اسٹرکچر کی تجویز کو آگے بڑھانے میں ہماری بھرپور معاونت کریگا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان افغان امن عمل بالخصوص امریکہ اور طالبان کے مابین طے پانیوالے حالیہ امن معاہدے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔دونوں رہنماؤں نے اس امن معاہدے کو افغانستان میں قیام امن کیلئے سنگ میل قرار دیتے ہوئے، اسے افغان قیادت کیلئے ایک نادر موقع قرار دیا۔انہوں نے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل کو حالات معمول پر آنے کے بعد دورہ ء پاکستان کی دعوت دی، جو انہوں نے شکریہ کیساتھ قبول کی۔دونوں رہنماؤں نے اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

شاہ محمود رابطے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہماری پہلی ترجیح پاکستان واپسی کے منتظرہے،دنیا بھر میں ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے لوگوں کو واپس لانا ہے،اسی مقصد کیلئے ہم نے وزارت خارجہ میں فوری طور پر کرایسز مینجمنٹ سیل قائم کیا جو دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے، تھائی لینڈ سے آنیوالی ٹیسٹ فلائٹ پر 170 مسافر لائے گئے اور ان سب کو ٹیسٹ کیا گیا الحمد للہ سب کے سب نیگٹو تھے، ہمیں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ روزانہوں نے اپنی زیر صدارت، وزارت خارجہ میں کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب میں کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خا ن،معاون خصوصی اوورسیز پاکستانی سید ذوالفقار بخاری، معاون خصوصی نیشنل سکیورٹی ڈاکٹر معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سیکرٹری ہوا بازی ڈویژن حسن ناصر جامی اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام اور اعلیٰ عسکری حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس میں بیرونی ممالک میں وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کی مرحلہ وار واپسی ممکن بنانے کیلئے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا ہمیں ایئرپورٹس پر کرونا پازیٹو کیسز کیلئے کوارنٹائین سمیت دیگر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے،اس وقت بہت سے ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے فلائٹس آپریشن معطل ہیں۔پی آئی اے کی طرف سے اس حوالے سے کی گئی تیاریوں کے حوالے سے شرکاء اجلاس کو بریفنگ دی گئی،اجلا س میں 4 اپریل کو بین الاقوامی فلائیٹس بحال ہونے کی صورت میں، لائحہ عمل مرتب کرنے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت ہوئی،اس اجلا س میں متفقہ طور پر سامنے آنیوالی تجاویز کو نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ قبل وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا پاکستان میں کرونا ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،قرنطینہ کی سہولت کو بتدریج بڑھا رہا۔ ہم انسانی جانوں کو بچانے کیلئے لاک ڈاؤن کی ضرورت کو سمجھتے ہیں اور دوسری طرف ہم لاک ڈاؤن کے مضر اثرات کو بھی نظر میں رکھ رہے ہیں تاکہ اشیائے ضرورت کی قلت پیدا نہ ہو۔ ہم ایک فارمولے کو پوری دنیا پر نافذ نہیں کر سکتے ہر ملک کو اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔بھارت کی صورتحال ہمارے سامنے ہے، وزیر اعظم عمران خان لاک ڈاؤن سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں اور چاہ رہے ہیں ہم بتدریج آگے بڑھیں۔

شاہ محمودخطاب

مزید :

صفحہ اول -