لاک ڈاؤن میں 14اپریل تک توسیع، کرونا کا ایک اور مریض چل بسا، مزید 86افرا د میں وائرس کی تشخیص تعداد 2119ہو گئی ،یقین دلاتا ہوں فنڈز کا غلط استعمال نہیں ہوگا، راشن کی تقسیم میں سیاسی مداخلت نہیں ہو گی: عمران خان

لاک ڈاؤن میں 14اپریل تک توسیع، کرونا کا ایک اور مریض چل بسا، مزید 86افرا د میں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے صوبوں کی جانب سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید 2 ہفتوں کا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد 14 اپریل تک لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے 2 ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور تمام صوبوں نے مشاورت سے فیصلہ کیاکہ بندشوں کو 2 ہفتوں کے لیے پورے ملک میں جاری رکھا جائے گا اور مشترکہ طورپر فیصلہ ہوا کہ یکم سے 14 اپریل تک موجودہ صورتحال جاری رہے گی۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ 14اپریل سے پہلے قومی رابطہ کمیٹی کی دوبارہ میٹنگ ہوگی جس میں فیصلہ کریں گے کہ بندشیں کم کی جائیں یا بڑھائی جائیں تاہم اس دوران وہ سروسز اور صنعتیں جو بنیادی ضرورت کی چیزیں بناتی ہے، بدستور کھلی رہیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء، ادویات کی صنعتوں کو مکمل طورپر کھلا رکھنا بہت ضروری ہے جبکہ گْڈز ٹرانسپورٹ پر کوئی بندش نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ اب تمام فریقین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ این سی سی کے فیصلے پرعمل درآمد یقینی بنائیں گے تاہم 4 اپریل کو بیرون ملک سے ایک پرواز اسلام آباد آئے گی جس کے تمام مسافروں کو ائیرپورٹ پر قرنطینہ میں رکھ کر ٹیسٹ کیاجائے گا اور منفی آنے پر ہی انہیں جانے دیاجائے گا۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ ماضی میں بیرون ملک سے آنے والوں کی وجہ سے کورونا پھیلا ہے، بیرون ملک سے اسلام آباد آنے والی پرواز کے مسافروں کو شہر کے دیگرعلاقوں میں بھجوانے کا انتظام کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اندرون ملک پروازوں پر بندش جاری رہے گی، جتنا ہم تجزیے، ڈیٹا پر فیصلے کریں گے، اتنے ہم بہتر فیصلے کرسکیں گے، جو بندشیں کی گئیں اس سے کیسز کی تعداد میں کمی آئی ہے، اگر بندشیں نہ لگاتے تو کورونا کیکیسز کئی گنا زیادہ ہوتے لہٰذا مزید بندشوں کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ شکایات آئی ہیں کہ کچھ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے دفاتر بائیو میٹرک مشین سے حاضری لگارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بندشوں پر مزید عمل کریں تو صورتحال میں بہتری آسکتی ہے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈویڑن ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ تین سے 11 اپریل تک پی آئی اے کے ذریعے 17 پروازیں اڑیں گی جن کے ذریعے 2 ہزار کے قریب مسافروں کو پاکستان لایاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ، کینیڈا، ترکی، باکو اور کوالالپمور کی خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔دریں اثنا سندھ حکومت نے جمعہ کے روز پورے صوبے میں دوپہت بارہ بجے اے ایک بجے تک مکمل لاک ڈاون اور جمعہ کے اجتماعات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق تمام مزہبی جماعتین اور علما بھی اس فیصلے سے متفق ہیں دریں اثناکرونا وائرس کی صورتحال پر وزیراعظم نے وفاقی وزرا کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کہا وزرا دفاتر کے علاوہ اپنے حلقوں میں ریلیف آپریشن کی نگرانی کریں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا وزرا مخیر حضرات کے ساتھ مل کر غریبوں کی مدد کا نظام تشکیل دیں، وزرا اور ارکان اسمبلی غریب طبقہ تک راشن کی رسائی ممکن بنائیں۔قبل ازیں وزیراعظم نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا پرائم منسٹر کورونا ریلیف فنڈ بنایا جا چکا ہے، یہ فنڈ ہمیں اس وبا سے نمٹنے میں مدد دے گا، میں چاہتا ہوں ہر کوئی اس فنڈ میں عطیہ کرے، فنڈ لاک ڈاؤن سے متاثر نچلے طبقے کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان نے کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال راولپنڈی کا افتتاح کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہیلتھ سیکٹر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی، 70 کی دہائی تک ہیلتھ شعبہ بہتر تھا،پوری دنیا میں ہیلتھ ورکرز پر دباؤ ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال راولپنڈی کا افتتاح کر تے ہوئے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور سہولتوں کا جائزہ لیا۔کنٹونمنٹ جنرل ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا 15 جنوری سے تیاری کر رہے تھے، ہمیں احساس تھا ہیلتھ ورکرز اس جنگ میں فرنٹ لائن ہیں، ہیلتھ سیکٹر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی، 70 کی دہائی تک ہیلتھ شعبہ بہتر تھا۔عمران خان کا کہنا تھا پوری دنیا میں طبی آلات کی ایک دم مانگ بڑھ گئی، ہماری خوش قسمتی ہے چین نے ہمیں ترجیح دی، تمام طبی آلات اس وقت چین سے آ رہے ہیں، پوری دنیا میں ہیلتھ ورکرز پر دباؤ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کورونا وائرس کے سدباب کیلئے قائم کیے گئے فنڈ کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہوگا۔نجی ٹیلی وڑن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سب نے مل کر کورونا کا مقابلہ کرنا ہے۔ حکومت تنہا کچھ نہیں کر سکتی، پوری قوم سے مل کر کورونا کو شکست دیں گے۔ ہمارے پاس ایمان کی بہت بڑی قوت ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشی مشکلات کے باوجود ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج 8 ارب ڈالر کا پیکج دیا ہے۔ راشن تقسیم کے معاملے پر سیاسی مداخلت نہیں ہوگی۔ ٹائیگر فورس سے کام غیر سیاسی لیا جائے گا۔ کورونا ٹائیگر فورس یونین کونسل میں مستحقین کا پتا لگائے گی۔انہوں نے قوم کو یقین دہانی کرائی کہ کورونا وائرس کے سدباب کیلئے قائم کیے گئے فنڈ کا کسی صورت غلط استعمال نہیں ہوگا۔ ڈیٹا بنا رہے ہیں، غلط استعمال نہیں ہوگا، میں اسے خود مانیٹر کر رہا ہوں۔ فنڈ اکٹھا کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہوں۔ شوکت خانم کیلئے تاریخ کا سب سے بڑا فنڈ اکٹھا کرنے والا ہوں۔ایک سوال کا جاواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ کورونا کب تک چلے گا، دیکھنا ہے کہ اس وبا کیخلاف جنگ کتنا عرصہ جاری رہتی ہے۔ کورونا امیر اور غریب میں فرق نہیں کرتا، کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زلزلہ اور سیلاب کے دوران پاکستانیوں نے دل کھول کر مدد کی۔ اب کورونا کی صورتحال کے پیش نظر ہم نے لوگوں کو گھروں میں رکھنا ہے تو کھانا بھی دینا ہوگا۔وزیراعظم نے بتایا کہ ہمارے پاس ایک کروڑ 20 لاکھ خاندان رجسٹرڈ ہیں۔ ہم احساس پروگرام کے ڈیٹا کے ذریعے لوگوں کو کیش ٹرانسفر کریں گے۔ امریکا اور یورپ کے تمام مزدور رجسٹرڈ ہیں لیکن پاکستان میں 80 فیصد مزدور رجسٹرڈ ہی نہیں، ہم نے اپنے مزدور طبقے کے پاس پہنچنا ہے۔ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیم فنڈز کے پیسے سابق چیف جسٹس نے اکٹھے کیے، کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ ڈیم فنڈز کے پیسے محفوظ ہیں۔

لاک ڈاؤن توسیع

لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں،)پاکستان میں بدھ کو مزید ایک شخص جاں بحق جبکہ 86 نئے کیسز سامنے آئے، سندھ میں تین مریض صحتیاب ہوگئے۔ پاکستان بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے جب کہ مزید 86 کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 2119 تک جا پہنچی ہے۔کورونا وائرس سے بدھ کو پنجاب میں ایک اور ہلاکت ہوئی جس کے بعد صوبے میں وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہوگئی۔۔پاکستان میں بدھ کو کورونا وائرس کے مزید 86 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے سندھ میں 33، بلوچستان 4، گلگت میں 6، آزاد کشمیر 3 اور پنجاب میں 40 کیسز آئے۔پنجاب میں بدھ کورونا وائرس کے مزید 40 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 748 ہوگئی ہیترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق راولپنڈی میں 83 سالہ شخص کورونا وائرس سے جاں بحق ہوا۔پنجاب میں اب تک کورونا سے 10 ہلاکتوں میں سے لاہور میں 4، راولپنڈی 4 جب کہ رحیم یار خان اور فیصل آباد میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔سندھ میں بدھ کورونا وائرس کے مزید 33 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد709 ہوگئی ہے جب کہ صوبے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 8 ہے۔۔بلوچستان میں بدھ کورونا وائرس کے مزید 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کی تصدیق صوبائی ترجمان لیاقت شاہوانی نے کی۔صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 158 ہوگئی ہے۔۔گلگت بلتستان میں بدھ کورونا وائرس کے مزید 6 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 184 ہوگئی ہے۔دوسری جانب مشیر اطلاعات گلگت بلتستان کا کہنا ہیکہ علاقے میں 6 نئے کیسز سامنے اانے کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 183 ہے۔آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی۔ امریکہ میں نوول کروناوائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد1لاکھ88ہزار سے تجاوز کر گئی امریکہ مصدقہ مریضوں کی تعداد میں پوری دنیا میں سب سے اوپر ہے، یونیورسٹی کے سسٹمز سائنسز وانجینئرنگ کے مرکز کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق منگل کی رات تک امریکہ میں مصدقہ مریضوں کی تعداد1لاکھ88ہزار172ہوگئی جن میں 3ہزار873افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ملک میں وباء کی مرکز نیویارک کی ریاست میں 75ہزار833سے زائد مریض جبکہ 1ہزار550ہلاکتیں ہیں، یہ ہلاکتیں اور مریضوں کی تعداد امریکہ کی کسی بھی ریاست یا خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ پوری دنیا میں نوول کروناوائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 8لاکھ59ہزار796ہوگئی ہے،دنیا بھر میں سب سے زیادہ مریض امریکہ میں 1 لاکھ 89 ہزار 618 ہیں، اٹلی میں 1لاکھ5ہزار792، سپین میں 95ہزار923اور جرمنی میں 71ہزار808مصدقہ مریض ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ فرانس میں 52ہزار 836،ایران میں 44ہزار605اور برطانیہ میں 25ہزار481مصدقہ مریض ہیں جبکہ سوئٹزرلینڈ میں 16ہزار605،ترکی میں 13ہزار531اور چین میں 82ہزار294مریض ہیں۔یران میں مہلک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ایرانی وزیر صحت کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید ایک سو اڑتیس افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ کورونا وائرس کے تقریبا تین ہزار نئے کیسز کے ساتھ وہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر اب پینتالیس ہزار چھ سو تک پہنچ چکی ہے۔ ابھی تک پندرہ ہزار چار سو تہتر مریضوں کے صحت یاب ہونے کا بتایا گیا ہے۔کورونا وائرس اٹلی میں مزید837 زندگیاں نگل گیا، جان سے جانے والوں کی تعداد 12 ہزار 400 سے اوپر چلی گئی۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین میں بھی 553 افراد جان سے گئے جہاں اموات کی تعداد 6 ہزار 400 سے اوپر چلی گئی، مزید ساڑھے چھ ہزار مریض سامنے آگئے، برطانیہ میں کورونا وائرس نے ایک ہی روز میں 381 شہریوں کو زندگی سے محروم کردیا، مریضوں کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی۔ادھر بیلجیم میں 192 اور نیدر لینڈز میں 175 افراد ایک ہی روز میں موت کا شکار بن گئے۔وائرس نے دنیا بھر میں 8 لاکھ 37 ہزار افراد کو جکڑ لیا، 41 ہزار اموات سامنے آچکیں تاہم ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد صحت یاب ہوئے ہیں۔برطانیہ میں ایک ہی روز 563 افراد لقمہ اجل بن گئے،مزید 4324افراد میں کرونا کی تشخیص ہو ئی ہے

کرونا ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -