وہ 6ارب کیوں خرچ نہیں ہوئے جو 20لاکھ افراد میں تقسیم کرنا تھے، حلیم عادل شیخ

وہ 6ارب کیوں خرچ نہیں ہوئے جو 20لاکھ افراد میں تقسیم کرنا تھے، حلیم عادل شیخ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے سندھ کے وزیر اعلی کو خط لکھ دیا۔ وزیر اعلی سندھ کو خط لکھ کر سندھ حکومت کے کرونا وائرس پر اٹھائیگئے اقدامات پر تحفظات پیش کئے خط میں حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ کس نے لکھا یہ مت دیکھیں کیا لکھا اس پر غور کریں چھبیس فروری کو پہلا کیس سندھ میں رپورٹ ہوا جس کے بعد ہم نے بھی آپکا ساتھ ہر فیصلے میں دیا لاک ڈاون کو گیارہ دن گزر گئے کوئی حکمت نہیں بنائی گئی۔ ایک راشن کا تھیلا بھی نہیں بانٹا گیا نہ یومیہ اجرت کمانے والوں کا خیال کیا گیا۔ یومیہ اجرت کمانے والوں کے گھر فاقہ کشی کء صورتحال ہے اور ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ تنقید کو اصلاح میں تبدیل کیا جائے تاکہ سندھ کی عوام کو ریلیف میسر ہو۔ آپکے فیصلے ایسے ہیں کہ سب نے سراہا لیکن عملدرآمد نہیں ہوا۔ سکھر کی مثال سب کی سامنے ہے جنہیں کرونا نہیں تھا انہیں بھی ہوگیابجلی، گیس کے بل نہ لینے اور کرائے داروں کو معافی کے فیصلے کو پزیرائی ملی لیکن ایسا کچھ نہیں جوا۔ کروناُسے لڑنے کے لئے وفاقی حکومت نے دس کروڑ ڈالر امداد دی کہاں گئی؟ جو فیصلے ہوئے ان پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ جنہیں کرونا کء علامات ہیں ان کے گھروں پر ٹیسٹ نہیں کیے جارہے۔ خط مزید حلیم عادل شیخ نے کہا بیس لاکھ افراد کو روشن اور تین ہزار دینا تھا، وہ چھ ارب کیوں خرچ نہیں ہوئے۔ صرف 58 کروڑ مختص ہوئے، کیا ایک گھر انیس روپے فی دن میں چل سکتا ہے؟ راشن تقسیم کا جو نظام اس وقت کام کررہا ہے وہ سیاست کی نظر ہو چکا ہے ٹیسٹ کٹس موجود ہونے کی باوجود بھی ٹیسٹ نہیں ہورہے اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو لوگ کرونا سے نہیں بھوک سے مر جائیں گے۔ہم سندھ گورنمنٹ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں لیکن کوئی حکمت عملی واضح کی جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -