کاشانہ سکینڈل، اقرا کائنات کی موت دراصل کیسے ہوئی ؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایسا انکشاف کہ ہرآنکھ نم ہوگئی

کاشانہ سکینڈل، اقرا کائنات کی موت دراصل کیسے ہوئی ؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ...
کاشانہ سکینڈل، اقرا کائنات کی موت دراصل کیسے ہوئی ؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایسا انکشاف کہ ہرآنکھ نم ہوگئی

  

لاہور(ویب ڈیسک) کاشانہ سکینڈل کی اہم گواہ اقرا کائنات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس کی موت بھوک اور پیاس کی وجہ سے ہوئی۔کاشانہ سکینڈل کی اہم گواہ اقرا کائنات کو بیمار ہونے پر بلقیس ایدھی سینٹر لاہور سے گنگا رام ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ 5 فروری 2020 کو انتقال کر گئی تھی۔کائنات شادی سے قبل کاشانہ لاہور میں رہائش پذیر رہی تھی۔ کاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے الزام لگایا تھا کہ کائنات کو سب نے ملکر ثبوت مٹانے کی نیت سے قتل کیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کائنات کی موت کی وجہ ہسپتال میں بھوکا اور پیاسا رکھنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کائنات کو زہر دینے یا نہ دینے سے متعلق مزید معلومات کے لیے اس کے پیٹ سے مزید نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ فرانزک رپورٹ میں زہر دینے سے متعلق رپورٹ سامنے آئے گی۔کاشانہ لاہور کی سابق انچارج افشاں لطیف کی جانب سے سیاست دانوں پر مختلف الزام عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد کائنات کو پولیس کی جانب سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

کاشانہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد کائنات کی 5 فروری کی پر اسرار موت واقع ہوگئی تھی۔افشاں لطیف کے مطابق کائنات کاشانہ اسکینڈل کی اہم گواہ تھی جسے سب نے ملکر ثبوت ختم کرنے کی نیت سے قتل کیا گیا۔سابق انچارج کاشانہ لاہور افشاں لطیف نے الزام عائد کیا تھا کہ پکڑے جانے کے ڈر سے کائنات کو بھوکا پیاسا رکھ کر قتل کیا گیا۔دارالامان لاہور میں پناہ لینے والی بچیوں اور لڑکیوں سے مبینہ زیادتی کے حوالے سے افشاں لطیف نے الزام لگایا تھا کہ کاشانہ میں دو لڑکیوں کے ساتھ ذیادتی کی گئی اور حقائق چھپانے کے لیے دونوں بچیوں کو پاگل خانے منتقل کیا گیا۔

افشاں لطیف نے دعویٰ کیا تھا کہ 20 سال کی آمنہ بھولا اور 38 سال کی ساجدہ کو زیادتی کے بعد دارالسکون منتقل کردیا گیا۔ دونوں بچیاں باالترتیب 5 سال اور 25 سال سے کاشانہ میں مقیم تھیں۔کاشانہ لاہور کی سابقہ سپرنٹنڈنٹ کا کہنا تھا کہ دونوں لڑکیوں سے زیادتی کا واقعہ میرے علم میں لایا گیا تو میں یہ بات افشاں کرن اور میڈم بشریٰ کے علم میں لے آئی۔افشاں لطیف نے دعویٰ کیا تھا کہ افشاں کرن اور صائمہ ارشد نے ان پر چھوٹے الزامات لگا کر پاگل خانے منتقل کروا دیا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -