ووہان میں چینی تحقیق کار چمگادڑیں پکڑتا ہوا ڈاکومنٹری میں سامنے آگیا، کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ ویڈیو دیکھ کر لوگوں نے نئی بحث شروع کردی

ووہان میں چینی تحقیق کار چمگادڑیں پکڑتا ہوا ڈاکومنٹری میں سامنے آگیا، ...
ووہان میں چینی تحقیق کار چمگادڑیں پکڑتا ہوا ڈاکومنٹری میں سامنے آگیا، کورونا وائرس کہاں سے آیا؟ ویڈیو دیکھ کر لوگوں نے نئی بحث شروع کردی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) جب سے کورونا وائرس پھیلنا شروع ہوا ہے امریکہ اور چین کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ دونوں کی طرف سے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس اس نے لیبارٹری میں تیار کیا اور پھیلایا۔ سائنسدانوں نے کئی تحقیقات میں یہ ثابت کرکے ان الزامات کی قلعی کھولی کہ یہ وائرس لیبارٹری میں تیار ہی نہیں ہوا۔ تاہم اب ایک نئی ڈاکومنٹری میں ایسی چیز نظر آ گئی ہے کہ لوگوں نے ایک بار پھر چین کو اس کا موردالزام ٹھہرانا شروع کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اس ڈاکومنٹری میں چین کا ایک تحقیق کار غاروں سے چمگادڑیں پکڑتا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اس تحقیق کار کا تعلق چینی شہر ووہان کی اسی سائنسی تحقیقاتی لیبارٹری ’ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی‘ سے ہے جہاں مختلف قسم کے وائرس پر تحقیق کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کار کا نام ’تیان جن ہوا‘ہے۔ ڈاکومنٹری میں اسے ووہان کے گردونواح میں موجود غاروں سے چمگادڑیں پکڑتے دیکھ کر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ لیبارٹری میں تجربات کے لیے چمگادڑیں پکڑ رہا تھا۔ کورونا وائرس بھی چونکہ چمگادڑ سے ہی پھیلا چنانچہ لوگ شبے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر چمگادڑوں پر تحقیق کرکے ان میں پایا جانے والا وائرس بنایاگیا جو حادثاتی طور پر ووہان میں پھیل گیا۔7منٹ کی اس ویڈیو میں تیان درجن سے زائد غاروں میں جاتا ہے اور کئی چمگادڑیں پکڑتا ہے۔ اس ویڈیو سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کورونا وائرس ماہرین نے لیبارٹری میں تیار کیا یا چمگادڑیں کھانے سے انسانوں میں منتقل ہوا۔

مزید :

بین الاقوامی -