لاک ڈاؤن میں اپنا وقت کیسے گذاریں؟مدینہ منورہ میں مقیم معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر احمد علی سراج نے فرصت کے لمحات کو قیمتی بنانے کا نسخہ بتا دیا

لاک ڈاؤن میں اپنا وقت کیسے گذاریں؟مدینہ منورہ میں مقیم معروف اسلامی سکالر ...
لاک ڈاؤن میں اپنا وقت کیسے گذاریں؟مدینہ منورہ میں مقیم معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر احمد علی سراج نے فرصت کے لمحات کو قیمتی بنانے کا نسخہ بتا دیا

  

خطرناک وبائی مرض کورونا نے گلوبل ویلیج کامنظر تبدیل کر کے رکھ دیاہے ..شرق سے غرب ہر ملک وقوم پر سکتہ طاری ہے ....مچھر سے کہیں چھوٹے وائرس نے دنیا کو عالم گیر لاک ڈائون پر مجبور کر دیا ہے..خواتین و مرد اور بچے سب گھروں میں محصور ہو کر اپنا دفاع کر رہے ہیں...یہ وقت رجوع الی للہ و رجوع الی الرسولﷺ کا ہے....موجودہ حالات میں ہم سب جانتے ہیں کہ ہر ایک کے پاس معمول کی مصروفیت موجود نہیں ہے بلکہ ہر ایک کے پاس بے حد فرصت اور فراغت میسر ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فرصت اور فراغت کے لمحات کی قدر نہیں کی جاتی

نبی کریم ﷺ نے فرمایا ”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔“(صحیح بخاری ، رقم :6412)

اس لیے ہم سب پر فراغت کے اوقات کو قیمتی سے قیمتی تر بنانا بے بہت ہی ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو ، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنےمرض سےپہلے،اپنے مالدارہونےکو اپنی محتاجی سےپہلے،اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سےپہلےاور اپنی زندگی کو اپنی موت سےپہلے “ ۔

(السنن الکبری للنسائی، رقم: 11832)

چنانچہ بندہ نے سوچا کہ فرصت کے خاص ان موجودہ ایام کی نسبت سے مختصرا کچھ گذارشات آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کروں تاکہ جس خوش نصیب کو اس پر عمل کی توفیق ہو جائے تو بندہ بھی اس کے اجر کا مستحق ہوسکے۔

درج ذیل کاموں سے بچنے کا اہتمام کریں:(1) ہر قسم کے گناہوں سے بچنے کا اہتمام کریں خاص کر

نامحرم عورتوں کو دیکھنے سے،

موسیقی اور میوزک سننے سے،

گھروں میں تصاویر لٹکانے اور رکھنے سے،

بے پردگی اور بے حیائی کی تمام شکلوں سے وغیرہ وغیرہ۔

(2) بے فائدہ تبصروں اور تجزیوں سے بچنے کا اہتمام کریں۔

(3) بلا ضرورت بار بار سوشل میڈیا کے استعمال سے بچنے کا اہتمام کریں۔

(4) بغیر تحقیق کے کوئی خبر کسی کو بتانے اور شئیر کرنے سے بچنے کا اہتمام کریں۔

(5) معاشرہ میں دہشت اور خوف پھیلانے سے بچنے کا اہتمام کریں۔

(6) چھ سے آٹھ گھنٹے سے زیادہ سونے سے بچنے کا اہتمام کریں۔

(7) ہر وقت موبائل کے استعمال اور لیٹے رہنے اور موبائل میں گیم کھیلنے سے بچنے کا اہتمام کریں۔

درج ذیل چیزوں کا اہتمام کریں؛

(1) گھر پر جگہ اور وقت کے تعین کے ساتھ پنج وقتہ نمازوں کی باجماعت ادائیگی کا اہتمام کریں، مسنون نوافل تہجد،اشراق، چاشت اور اوابین وغیرہ کا بھی اہتمام کریں۔

(2) نمازوں کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام کریں۔

(3) روزانہ ایک سپارہ اور حفاظ تین سپارے تلاوت کرنے کی کوشش کریں۔

(جن حفاظ کی منزل کمزور ہے ان کے لیے منزل پختہ کرنے اور رمضان المبارک میں تراویح کی تیاری کا بہترین موقع ہے)

(4) صبح و شام کی مسنون دعاؤں کا فجر اور مغرب بعد پڑھنے کا اہتمام کریں۔

(5) درود شریف،استغفار،آیت کریمہ ،لاحول ولا قوۃ الا باللہ اور پہلے اور تیسرے کلمہ کی تین تین تسبیحات کرنے کی کوشش کریں۔( اگر کوئی دینی و دنیوی مصروفیت ایسی ہو جس میں اس کا معمول نہ ہوسکے تو حسب سہولت اس کو کم کرلیں اور اگر فرصت زیادہ ہو تو حسب توفیق اس میں اضافہ کرلیں)

(6) پورے چوبیس گھنٹے میں کم از کم مکمل دس سے پندرہ منٹ اللہ کے سامنے یکسوئی سے دعاؤں میں لگائیں۔

(7) جس مستند دینی کتاب تک رسائی ممکن ہو اس کا کچھ وقت مطالعہ کریں اور بہتر یہ ہے حیاۃ الصحابہؓ یا کسی اللہ والی شخصیت کی سوانح کا مطالعہ کریں  نیز جس عالم دین سے تعلق ہو اس سے اگر کتاب مطالعہ کرنے کے بارے میں مشورہ کرلیں گے تو اس سے زیادہ فائدے کی امید کی جاسکتی ہے۔

(8) شعبان میں اللہ کے نبی کریم ﷺ کثرت سے روزے رکھتے تھے تو ان دنوں نفلی روزے بھی رکھ لیں تو بہتر ہے، البتہ جن کے ذمہ قضاء روزے ہوں وہ پہلے ان کو مکمل کرلیں۔اسی طرح قضاء نمازیں اور ذمہ میں واجب سجدہ تلاوت ادا کرنے کی ترتیب بنائیں۔

(9) اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کو وقت دیں،ان سے باتیں کریں اور ان کو اپنے سے باتیں کرنے کا موقع فراہم کریں۔

گھر کے کاموں میں گھر والوں کا ہاتھ بٹائیں۔ان کے ساتھ صفائی ستھرائی اور دھلائی استری وغیرہ میں معاونت کریں۔

(10) کچھ وقت گھر میں ہی ورزش کا اہتمام کریں۔

(11) گھر میں کسی وقت سب محرم رشتہ داروں کے ساتھ مل کر بچوں کو ساتھ بیٹھا کر کسی مستند کتاب کی تعلیم کروائیں۔

(12) کچھ وقت اپنی تعلیمی کمزوریوں کو دور کرنے اور مزید کچھ سیکھنے کی تگ و دو میں صرف کریں۔ اور اس کے لیے ماہرین سے مشورہ بھی کرلیں تو اچھا ہوگا۔

(13) اپنے یومیہ نظام الاوقات کو مرتب کریں،اور روزانہ اس کے مطابق دن گذارنے کی کوشش کریں۔

مزید :

روشن کرنیں -