سیاست کا طلسم کدہ اور اقتدار کی بندر بانٹ

  سیاست کا طلسم کدہ اور اقتدار کی بندر بانٹ
  سیاست کا طلسم کدہ اور اقتدار کی بندر بانٹ

  

 پاکستانی سیاست بھی حیرتوں کا طلسم کدہ ہے۔منظر کتنی جلدی  پس منظر میں تبدیل ہونے لگتے ہیں،حالات کی گردش کیسے لمحوں میں سازشوں کے جال بننے لگ جاتی ہے، آس پاس تناور درختوں کی مانند کھڑے لوگ پل بھر میں خزاں کے پتوں کی طرح تیزی سے جھڑنے لگ جاتے ہیں،بزعم خود قائم کئے ہوئے مضبوط قلعے دیکھتے ہی دیکھتے ریت  کی دیوار ثابت ہونے لگتے ہیں،   ہیروں سے بھری ہوئی مٹھی، پلک جھپکتے مشت خاک بن جاتی ہے، آنکھوں کا تارا بنے ہوئے لوگ دیکھتے ہی دیکھتے نشان عبرت بنا دئیے جاتے ہیں،اچھے خاصے جیتے جاگتے انسان کٹھ پتلیوں کی طرح ان دیکھی انگلیوں میں محو رقص ہونے لگتے ہیں اور یہی پاکستانی سیاست کی جادونگری ہے۔ایسا نہ تو پہلی بار ہو رہا ہے اور نہ ہی آخری بار لیکن اس بار کا منظر نامہ اور کردار قدرے مختلف ہیں۔جدید تحقیق کہتی ہے کہ عرصہ دراز تک غلامی کی زندگی گزارنے والے آزادشخص کے ذہن سے غلام ہونے کا تاثر زائل کرنا اس کی آزادی سے بھی کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔ اب قوم پہلے کی نسبت بالغ نظر اور شعوری طور پر قدرے مستحکم ہو چکی ہے۔سب کی نظریں آج گواہ ہیں کہ کس طرح سے  اچانک گری پڑی اپوزیشن میں توانائی کا لہو دوڑنے لگا۔سیاسی،نظریاتی اور فکری طور پر ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف آناً فاناًہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جمہوریتکی پینگ جھولنے لگ گئے۔کیسے اقتدار کی بندر بانٹ کا حساب و کتاب ہونے لگا۔جیتے جاگتے انسانوں کی بولیاں لگنے کی آوازیں گنبد میں لگنے والی صداؤں کی طرحچاروں اطراف سے سنائی دے رہی ہیں۔کاش سیاسی طور پر لگنے والے یہ شدیدجھٹکے موجودہ قیادت کو اپنی  کی جانے والی  غلطیوں کے احساس کی طرف غور وفکر کا  موقع فراہم کردیں جس کا آغاز ہی الیکٹیبل کی افلاطونی اصطلاح سے ہواتھا۔ دو دہائیوں تک دن رات محنت کرنیوالے سنجیدہ اور مخلص ورکرز کی جگہ ان  لوگوں نے لے لی جو پچھلی حکومتوں میں بھی برائے فروخت کے ٹائٹل کے ساتھ پیش پیش تھے۔ان لوگوں کو ہر ڈوبتی کشتی سے اترنے اور نئے کروز کے پائدان پر قدم رکھنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ دوسرے معنوں میں یہ وہ مضر صحت سرنجیں ہیں، جن کے دوبارہ استعمال سے ڈاکٹر سختی سے منع کرتے ہیں۔ایک عادت تو ہو بہو سابق وزیراعظم کے ساتھ کلیتاً ملتی جلتی تھی کہ انہوں نے بھی حلف کے بعد خود کو دوسروں کے لئے شجر ممنوعہ قرار دے دیا تھا اوریہ سلسلہ  دھرنوں کے سر پر سوار ہونے تک جاری رہا اور پھر اعتزاز احسن صاحب کو  پارلیمنٹ میں تھانیدار والا لطیفہ سنانا پڑ گیا،جس نے  چور کوماں یاد کروا دی تھی۔وزیراعظم ہاؤس کے دروازے پر شرف باریابی پانیو الے خوش نصیبوں کی تعداد اس بار بھی بہت محدود تھی۔وہی عامر لیاقت جو تین سال اپنے ہی وزیراعظم سے چند منٹ ملاقات کی  آس لگائے بیٹھا رہا اورجب منظر بدلا تو  چند منٹوں میں یہ اہتمام کر بھی دیا گیا۔ یہ اردگرد آخر کن لوگوں کا حصار ہوتا ہے، جو  پہلے بڑی بڑی دیواریں کھڑی کرتے ہیں اور پھر  اچانک زمین پر لا کے رکھ دیتے ہیں۔یہ کون لوگ تھے جنہوں نے جہانگیر ترین جیسے محسن کو شاطرانہ چالوں کے ساتھ منظر سے ہی غائب کر وا دیا جو اس پارٹی میں لوگوں کو ساتھ ملانے اور یکجا کرنے والی تنہا توانا آواز تھی۔جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین جیسے بالغ نظر اور سنجیدہ فکر بزرگ کو  رسوا کروانے والے آخر آسمان سے تو نہیں اترے تھے۔ایک طویل فہرست ہے ان کوتاہیوں کی جن پر نظر ڈالنے اور انہیں نئے سرے سے ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات میں انہی الیکٹیبل کی مدد سے ہی سارا منظر نامہ تبدیل کروایا گیا جن کو نظریاتی اور مخلص کارکنوں پر وننگ ہارس کہہ کر ترجیح دی گئی تھی۔اپوزیشن کے موجودہ اتحاد میں اکٹھے نظر آنے والے چہرے کبھی بھی ایک دوسرے  کے لئے قابل قبول نہیں رہے اور نہ ہی مستقبل میں مستقل نظر آئیں گے،لیکن کوئی تو ہے،جس نے مخالف سمت چلنے والی  ہواؤں کو باندھ رکھا ہے جوگرہ کھلتے ہی اپنی اپنی سمت کو دوڑ پڑیں گی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتے صرف ایم کیو ایم کے مطالبات کی فہرست  دیکھ لی جائے، جس میں تعاون کے بدلے سندھ کی گورنر شپ، پورٹ اینڈ شپنگ کی وفاقی وزارت اور نوکریوں میں 40فیصد حصہ اور دیگر بہت سارے ناقابل ِ عمل مطالبات  رکھے گئے جن کو خبروں کے مطابق تسلیم بھی کر لیا گیا۔باقی جماعتوں کیساتھ عوام کے اقتدار کی بندر بانٹ کا کیا کچھ طے ہوا ہے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اگر حکومتی بیان کئے گئے خدشات کی روشنی میں یہ کھیل بیرونی قوتوں کے اشارے پر ترتیب دیا گیا ہے تو قومی سیاسی قیادت پر پہلے سے  بہت بڑا سوالیہ نشان پیدا ہو تا ہے، لیکن اس سارے طلسم ہوشربا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے ایک چیز تو کھل کر سامنے آتی ہے کہ مغربی جمہوریت کے بستر پر دراز ہو کر ریاست مدینہ کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔موجودہ جمہوری نظام میں کسی بھی صورت محب وطن اور سنجیدہ فکر عوامی نمائندے سامنے نہیں آ سکتے۔یہ نظام جس قسم کے سیاسی نمائندے حکومتی ایوانوں تک لے کے جاتا ہے ان سے ایسی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ عوامی شعور کی اس تیزی سے بدلتی صورت حال میں جمہوریت کے متبادل کسی نظام پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا جائے، جس کے نتیجے میں ہم واقعی  ہجوم سے ایک قوم بن کر سامنے آ سکیں،لیکن اس غلامی کا کیا کریں جو عملی طور پر کچھ کرنا تو دور کی بات، آقاؤں کی ناراضی کے خوف سے کچھ سوچنے سے بھی روک دیتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -