سفر سہل تو نہ تھا... قسط 3

سفر سہل تو نہ تھا... قسط 3
سفر سہل تو نہ تھا... قسط 3

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دنیا بھر سے متعلق کئی معلومات تو گویا اسے ازبر تھی سو اس کی محفل میں کوئی بور نہیں ہو سکتا تھا ، کئی مرتبہ اسکرپٹ کی تیاری میں شازیہ نے اس کی بے لوث مدد کی تھی اور وہ تہ دل سے اس کی شکر گذار بھی تھی  ۔

اسے مستقل اینکر بنا دیا گیا تھا ، تنخواہ بھی زیادہ تھی اور پک اینڈ ڈراپ بھی دے دی گئی تھی مگر وقت کب پلٹا کھا جائے حالات کب بدل جائیں یہ کب کس کے بس میں ہوتا ہے ۔۔۔

سو وہ وقت کے ساتھ ساتھ پریشان ہونے لگی ، اس کے ساتھ بھی پروفیشنل جیلسی ہونے لگی ۔

جمشید صاحب جو پہلے اس کے ساتھ اینکر تھے اپنے تعلقات کا بھرپور استعمال کر کے اس اسٹیشن کے ایس ڈی بن چکے تھے ۔وہ ان کی گندی نظروں کا سامنا پہلے بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ان کی جانب سے ہر فضول بات کے جواب میں وہ خاموش رہی تھی لیکن اب چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے انہی کو رپورٹ بھی کرنا تھی جو اسے جوئے شیر لانے کے مترادف لگ رہا تھا ۔۔

زمانے کا تو دستور ہی یہی ہے کہ کمینے عروج پاتے ہیں اور باصلاحیت افراد سڑکوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہوتے ہیں ، یہ پاپی پیٹ بھی بہت ظالم چیز ہے انسان کو دو وقت کی روٹی کے لیے کتنا مجبور کر دیتا ہے ۔۔۔

آج جب وہ اپنا پروگرام ختم کر چکی تو آفس بوائے نے اسے جمشید صاحب کا پیغام دیا وہ اسے بلا رہے تھے کہ میٹنگ ہے اور سب ہال کمرے میں موجود ہیں ۔۔

وہ جلدی جلدی سے سامان سمیٹنے لگی اور ہال میں جا پہنچی لیکن وہاں تو جمشید صاحب کے سوا اور کوئی بھی نہ تھا ، لاریب کو ایک لمحے کے لیے خوف محسوس ہوا لیکن چند ثانیے کے بعد وہ خود پر قابو پا کر آ گے بڑھی ۔" جی سر آپ نے بلایا ؟ بلکہ مجھے تو آفس بوائے نے سٹاف میٹنگ کے بارے میں بتایا تھا " 

" ہاں میٹنگ؟ کیسی میٹنگ ؟ جمشید صاحب خباثت سے ہنسنے لگے ۔

" میٹنگ تو ہے لیکن صرف میری اور آپ کی ، مس لاریب آپ مجھ سے اتنی کھنچی کھنچی کیوں رہتی ہیں ؟۔دیکھو میری طرف سے تمھیں پہلے بھی دوستی کی آفر تھی جو ہنوز برقرار ہے لیکن تم نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ۔" 

" کیسی دوستی ؟ میں کچھ سمجھی نہیں " لاریب نے کچھ اونچی آواز میں کہا ۔۔۔

" دیکھو چلانے کی ضرورت نہیں ہے میں تم سے صرف دوستی کرنا چاہتا ہوں ، تم بہت معصوم بہت اچھی لگتی ہو مجھے بلکہ مجھے کہنے دو کہ شاید میں تمھارے حسن کا دیوانہ ہو چکا ہوں ، تم میرے لیے ایک چیلنج بن چکی ہو اور میں بہت مشکل پسند ہوں مجھے مشکل حالات کو اپنے حق میں ہموار کرنا خوب آتا ہے ، تمھیں صرف اس لیے ہی بلایا تھا کہ میری دوستی کی پیشکش پر ضرور غور کرنا میں تمھارے جواب کا منتظر رہوں گا " یہ کہہ کر جمشید صاحب کمرے سے باہر چلے گئے  ۔

لاریب جمشید صاحب کی حرکتوں سے تنگ آ چکی تھی لیکن وہ اخلاقی طور پر ایک مضبوط لڑکی تھی جس کے لئے اس کا کردار ہی سب کچھ تھا اس لیے وہ جمشید صاحب کی کسی کال اور بلوائے کا جواب نہیں دے رہی تھی ۔۔۔گھر پر بھی اسکی بے چینی کو اس کی ماں نے محسوس کیا تھا ۔وہ سوچ رہی تھی کہ اماں تو پہلے ہی اتنی پریشان رہتی ہیں اگر انھیں اپنی نوکری کے بارے میں کوئی الجھن بتائے گی تو وہ اور بھی پریشان ہو جائیں گی ۔۔۔ریڈیو کی نوکری وہ چھوڑنا نہیں چاہتی تھی ایک تو وہ اس کا شوق تھا اور دوسرا کچھ آمدنی بھی ہو رہی تھی لیکن اس سب کو ایسے برداشت بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔۔اگرچہ کہ شازیہ اسے جمشید صاحب سے نہ الجھنے کا مشورہ دے چکی تھی ۔ ۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں ۔

۔۔ گزشتہ حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔ 

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں او ر اس میں پیش کیے گئے تمام نام فرضی ہیں، کسی سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ 

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔
 

مزید :

بلاگ -