جمہوریت ناقابلِ عمل نہیں....تاہم!

جمہوریت ناقابلِ عمل نہیں....تاہم!

  



آج ہم پاکستانیوں کو جمہوریت کا تلخ تجربہ ہو رہا ہے۔ آمریت اور جمہوریت میں کوئی واضح فرق معلوم نہیں ہوتا، اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ جمہوریت میں کوئی خامی در آئی ہے یا ایک ناقابل عمل نظام ٹھہرا ہے۔ ایسا قطعاً نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ان ہاتھوں میں آگئی ہے جو اس کو اس کی روح اور قومی، عوامی اور ملی مفادات کے بجائے محض اپنے مفادات میں چلانا چاہتے ہیں اور اپنے جیسے کچھ گروہوں کی مدد سے ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہیں پارلیمینٹ کے اندر موجود تقریباً ہر پارٹی اسی کے اوپر سمجھوتہ کرتی نظر آتی ہے۔ سیاستدانوں کی اسی عمومی روش اور رویے کے باعث قوم، خصوصاً نئی نسل میں ایک مایوسی سی پھیل رہی ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا سیاست دانوں نے ایسی ہی جمہوریت کی بحالی کی خاطر قربانیاں دیں اور ہم نے دعائیں کی تھیں۔ جمہوریت تو عوام کی ریلیف دینے کا نام ہے۔ اس کے برعکس اس جمہوریت کی کوکھ سے مصائب اور مسائل نے ہی جنم لیا ہے۔ اعلیٰ پیمانے پر اس طرح کی کرپشن کبھی ہوئی نہ سنی گئی ہے۔ نا اہل اور سزا یافتہ لوگوں کو ڈھونڈ کر اعلیٰ منصبوں پر تعینات کیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ کرپشن کے الزامات پر ایک وفاقی وزیر جیل میں پڑا ہے، جہاں مجھے گڈ گورننس کے حوالے سے حضرت عمر کے دور کا واقعہ یاد آ رہا ہے:

عیاض بن غنمؓ کی وفات کے بعد جب حمص کی گورنری خالی ہوئی تو حضرت عمرؓ نے سعید بن عامرؓ کو اس جگہ متعین کیا۔ کچھ عرصہ بعد کسی نے مرکز خلافت میں خبر دی کہ سعید بن عامرؓ پر جنون کا اثر رہتا ہے تو حضرت عمرؓ نے تحقیقات کے لئے فوراً طلب فرمایا۔ اس طلبی پر حمص کا گورنر جس شان سے مدینے آیا، اس کا نقشہ سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں ان الفاظ کے ساتھ کھینچا گیا ہے کہ سعید بن عامرؓ گورنر حمص کے ہاتھ میں صرف ایک عصا اور کھانے کے لئے ایک پیالہ تھا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: ”سنا ہے تم پر جنون کا اثر رہتا ہے، تم پر غشی کے دورے پڑتے ہیں“؟ .... ہاں یہ سچ ہے ، لیکن اس کا سبب کسی قسم کا جنون نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ خبیب بن عدیؓ کی شہادت کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں بھی قریش کے ساتھ موقع شہادت پر موجود تھا۔ وہ اس حالت میں قریش کے لئے بددعا کرتے تھے، چونکہ میں بھی قریشی ہوں اس لئے جب خبیب بن عدیؓ کی بددعا یاد آتی ہے تو ڈر کے مارے بے ہوش ہونے لگتا ہوں“۔ حضرت عمرؓ نے پھر ان کو گورنری واپس کرنا چاہی تو انہوں نے انکار کر دیا، لیکن پھر خلیفہ کے حکم سے مجبور ہوگئے اور حمص کی گورنری سنبھال لی۔ جب سعید بن عامرؓ حمص کے گورنر تھے تو ایک بار حضرت عمرؓ حمص اس غرض سے تشریف لے گئے کہ وہاں فقراءاور مساکین کی معاش کا انتظام کریں۔ خلیفہ نے کاتبوں سے ان کی فہرست تیار کرائی، اس میں سعید بن عامرؓ بھی ایک نام تھا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا یہ سعید بن عامرؓ کون ہیں؟.... عرض کیا گیا: ”یا امیر المومنین! ہمارے اور آپؓ کے امیر، حمص کے گورنر“۔ حضرت عمرؓ نے متحیر ہو کر پوچھا: تمہارا امیر اور فقیر! وظیفے کا کیا کرتا ہے؟“.... لوگوں نے بتایا: ”وظیفے کو تو وہ چھوتے بھی نہیں ، غریبوں میں تقسیم کر دیتے ہیں“۔ حضرت عمرؓ سعید بن عامرؓ کی بے نیازی دیکھ کر رونے لگے اور اسی وقت ایک ہزار دینار کی تھیلی ان کے پاس بھیجی تاکہ اس کو وہ اپنی ضرورت پر خرچ کریں، لیکن انہوں نے دولت کو اپنے لئے فتنہ سمجھا اور اگلے روز صبح اسلامی لشکر ادھر سے گزرا، آپ نے کل رقم اس کی ضرورت کے لئے دے دی“۔

 قرون اولیٰ میں سلطنت وسیع ہوتی رہی، کامیابیوں کے پھریرے لہراتے رہے، عوام خوش حال اور امن وامان کی مثالی صورت حال تھی۔ ایک خاتون زیورات کے ساتھ تن تنہا مکہ سے مدینے تک بلا جھجک اور بغیر کسی خطرے کے سفر کر سکتی تھی، اس لئے کہ انصاف کی فراہمی یقینی تھی۔ سینکڑوں میل دور کتا بھوک سے مر جائے تو مدینے میں بیٹھا حکمران خود کو اس کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔ عوام کی زندگی آسان، حکمرانوں کی کٹھن تھی۔ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس کے برعکس ہے۔ برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ چند کمروں پر مشتمل ہے۔ یہ اخراجات ان کی حکومت پورے کرتی ہے۔ بدیس میں حکمرانی کے لئے آئے تو گورنر ہاو¿س جیسے شاہی قلعے بنا دئیے، جس میں پورا شہر آباد ہے۔ باغات، پہاڑیاں اور چڑیا گھر تک، یہ اخراجات غلاموں کا خون نچوڑ کر پورے کئے جاتے تھے، انگریزگیا، فرق صرف یہ پڑا کہ مکینوں کی شکلیں بدلیں، نسلیں بدلیں اور رنگ بدلے، اعمال وہی رہے۔ ظاہر ہے گورے انگریزوں کی جگہ کالے ”انگریزوں“ نے لے لی تو مسائل بڑھنا ہی تھے۔

عام آدمی کے حالات آج بھی بدل سکتے ہیں اگر حکمران زبانی کلامی خود کو عوام کا خادم کہلانے کی بجائے ایسا بن کر بھی دکھا دیں۔ حضرت سعید بن عامرؓ کی طرح۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی اپنے پیشرو گیلانی کی طرح کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا ارتقا جاری ہے، کیا یہ ارتقا قیامت کو مکمل ہوگا؟.... اپنی مراعات کے لئے تو ارتقا کی بات نہیں کی جاتی۔ ملک و قوم کے لئے خود مسائل کھڑے کر کے اس کو ارتقائی مراحل کا نام دے دیا جاتا ہے۔ اب الیکشن سر پر ہیں۔ اب تک جووعدے اور دعوے کئے، ان کو ایفا کرنے کی کوشش کریں۔ اسی راجہ نے وزیراعظم بنتے ہی ایک بار پھر رمضان میں سحری و افطاری کے اوقات میں تسلسل کے ساتھ بجلی کی فراہمی کا وعدہ کیا جو حسب سابق ایک فریب، دھوکہ اور جھوٹ ثابت ہوا۔ خدا کا خوف کریں۔ اگر حکمرانوں نے راست سمت اختیار نہ کی، تو اس کا خمیازہ آئندہ عام الیکشن میں بھگتنا پڑے گا جب لوگوں کو کسی بھی امیدوار کو اس کی اہلیت کے مطابق منتخب کرنے کا موقع ملے گا۔ حکمران جمہوریت کے لئے کلنک کا ٹیکہ نہ بنیں۔  ٭

مزید : کالم