ترکی میں رمضان: چند قابلِ تقلید مثالیں

ترکی میں رمضان: چند قابلِ تقلید مثالیں
ترکی میں رمضان: چند قابلِ تقلید مثالیں

  

دیگر مسلمان ممالک کی طرح ترکی میں بھی رمضان بڑے مذہبی اور روایتی طور طریقے سے گزارا جاتا ہے،تاہم اس حوالے سے چند قابل تقلید مثالیں پیش خدمت ہیں:

رمضان سے قبل حکومت ، نجی ادارے اور تاجر تنظیمیں خود یہ اعلان کرتی ہیں کہ رمضان کے دوران کسی بھی اشیائے خوردنی یا اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ رمضان کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتیں نارمل رہیں۔ تاجر، دکاندار ، مارکیٹیں اور ہول سیلز تنظیمیں خود رضا کارانہ طور پر یہ اعلان کرتی ہیں کہ رمضان کے دوران مہنگائی نہیں ہوگی اور نہ ہی قیمتیں بڑھائی جائیں گی۔ حکومت اس بات کا بھی خاص خیال رکھتی ہے کہ تمام اشیاءمارکیٹ میں وافر مقدار میں موجود ہوں۔ کسی ضروری چیز کی کمی نہیں ہونے پائے۔ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ حکومتی قوانین بہت سخت ہیں۔ تاجر اور دکاندار رضا کارانہ طور پر رمضان میں ناجائز کمائی سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ رمضان کے دوران عام دنوں کی نسبت خرید و فروخت میں اضافہ ہوگا اور وہ حلال اور جائز طریقوں سے عام دنوں سے زیادہ پیسہ کما لیں گے۔

رمضان کے دوران ترکی کی وفاقی اور ضلعی حکومتوں کے تحت پورے ملک میں جگہ جگہ سحری اور افطاری کا فری انتظام کیا جاتا ہے۔مساجد، کمیونٹی سنٹرز پارک، میدان اورحتیٰ کہ گراﺅنڈز اور اسٹیڈیم میں بڑے بڑے سحری اور افطاری کے دستر خوان سجائے جاتے ہیں۔تاجر اور صاحبِ ثروت حضرات حتیٰ کہ ممبران اسمبلی کی طرف سے بھی سحر و افطار دستر خوان پورے مہینے سجائے جاتے ہیں اور بلا تفریق ہر کوئی ان دستر خوانوں سے استفادہ کرتا ہے، حتیٰ کہ سیاح بھی رمضان کے دوران صبح اور شام کا کھانا ان دستر خوانوں سے فری کھاتے ہیں۔لوگ اپنے گھروں سے تیار کردہ حسب توفیق سحری اور افطاری کا سامان لے آتے ہیں۔سڑک کنارے یا پارک میں روزہ داروں کا انتظار کیا جاتا ہے اور روزانہ کسی نئے مہمان کے ساتھ سنتِ ابراہیمی پوری کی جاتی ہے۔

تاجر، کاروباری حضرات، مل مالکان اور دیگر نجی اداروں کے سربراہان اپنے ماتحتوں کے ساتھ افطار و سحر کا بندوبست کرتے ہیں۔ فرداً فرداً مالک یا سربراہ ادارہ اپنے ملازموں اور ورکرز کے گھر اپنی فیملی کے ساتھ جاتا ہے۔راشن اور تحفے تحائف دیتا ہے۔اس طرح دفتروں اور فیکٹریوں میں مالک خود ورکروں کے ساتھ پورا مہینہ ایک ہی دستر خوان پر ایک جیسی چیزوں سے افطار و سحر کرتا ہے۔

مساجد میں تراویح کے لئے حکومت خود پورے ملک میں خوش الحان حفاظ کا اہتمام کرتی ہے۔بعض اوقات مصر یا دیگر ممالک سے بھی حافظ اور قراءحضرات منگوائے جاتے ہیں۔ختم القرآن کا بندوبست ہوتا ہے۔ایک ماہ کے لئے قرآن اور تجوید و قرآت کورس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ درس قرآن کا انتظام بھی وسیع پیمانے پر ہوتا ہے جس کا اہتمام حکومت کرتی ہے۔پورے ترکی میں سحرو افطار اور نماز و اذان کا وقت ایک ہی ہے،حتیٰ کہ دوچار منٹ کا فرق بھی نہیں ہے۔ایک ہی شہر میں اوقات نماز و اذان اور سحر و افطار یکساں ہیں۔

پورے رمضان کے دوران لوگ غریب، مسکین، یتیم، نادار، غریب اور فقیر و فقراءاور مستحق لوگوں اور طالب علموں کی مدد اور مالی اعانت کرتے رہتے ہیں۔صاحبِ حیثیت لوگ جب اپنی اور اپنے بچوں کی عید کی شاپنگ کرتے ہیں تو ساتھ ساتھ نادار اور مستحق لوگوں کے لئے بھی وہی چیزیں خریدتے ہیں، جووہ اپنے لئے پسند کرتے ہیں۔صدقہ و خیرات بہت دیتے ہیں اور قرآن کی بہت تلاوت کرتے ہیں۔لوگ اپنی زکوٰة وخیرات اور فطرانہ امدادی اور فلاحی تنظیموں اور انفرادی طور پر بھی مستحق لوگوں کو دیتے ہیں۔خاص طور پر مستحق طالب علموں کی کھل کر مالی اعانت کی جاتی ہے اور پیسوں کی شکل میں طالب علموں کے وظائف مقرر کئے جاتے ہیں۔صدر، وزیراعظم اور وزراءناظمین شہدا کے ورثاءاور مستحقین کے لئے خصوصی افطارکا بندوبست کرتے ہیں۔ان کی طرف سے پورا مہینہ افطار و سحری دستر خوان اپنے اپنے حلقوں میں لگائے جاتے ہیں۔

ایک اور خاص بات یہ بھی کہ اکثر ترک لوگ اپنی عید غریب مسلمان ممالک کے آفت زدہ یا مصیبت میں پھنسے لوگوں کے ساتھ بیرون ملک گزارتے ہیں، یعنی وہ اپنی عید اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہیں، بلکہ غریب ،محتاج اور ضرورت مند لوگوں کے ساتھ فیملی کے باہر مناتے ہیں۔لوگوں کو تحفے تحائف دیتے ہیں اور عیدی دیتے ہیں، مثلاً میانمار، افغانستان،عراق، فلسطین، ایتھوپیا وغیرہ وغیرہ۔دوسرے لفظوں میں ترکی میں رمضان اسلام کی حقیقی روح کے مطابق گزارنے اور اس کے حقیقی نعمتوں اور برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔     ٭

مزید :

کالم -