گلشن اقبال میں سیر

گلشن اقبال میں سیر
گلشن اقبال میں سیر

  



قدیم زمانے کی غلامی تو اب شاذ ہی دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن غلامی کی جدید اشکال نہ صرف موجود ہیں، بلکہ ان میں اضافہ روز افزوں ہے۔ ذہنی غلامی، معاشی غلامی، امریکی غلامی، اغیار کی غلامی جیسے الفاظ ہمیں از بر ہو چکے ہیں، لیکن غلامی کی بہت سی اقسام ایسی بھی ہیں، جنہیں بیان کرنے کے لئے مخصوص الفاظ تو موجود نہیں، لیکن ان اقسام کو غلامی کے زمرے میں ہی شمار کیا جا سکتا ہے۔ ملازمت بھی غلامی کی ایک جدید شکل ہے جسے انسان ارادتاً قبول کرتا ہے، غلامی کی اس شکل میں زیادہ تر فیصلے بادل نخواستہ کرنا پڑتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک فیصلہ ہمیں بھی گزشتہ دنوں کرنا پڑا جو چھوٹے سے پُرسکون قصبے کو خدا حافظ کہہ کر لاہورشفٹ ہونا تھا۔ خوش قسمتی سے گلشن اقبال علامہ اقبال ٹاﺅن ہماری رہائش کے قریب ہی ہے، اس لئے اس پارک میں سیر کرنے کی سہولت ہمیں شفٹنگ کے پہلے روز ہی میسر آ چکی تھی۔ گلشن اقبال کی سب سے بڑی خوبی،جو ہمیں نظر آئی وہ بچوں، نوجوانوں اور معمر افراد کے لئے یکساں تفریح کے مواقع کی دستیابی ہے۔ پارک میں داخل ہوتے ہی آپ انواع و اقسام کے جھولوں سے متعارف ہوتے ہیں، جو بچوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ نوجوانوں کو ہم نے کرکٹ اور فٹ بال وغیرہ کھیلتے دیکھا اور معمر افراد جاگنگ ٹریک پر واک کر کے بڑھتی عمر کے آثار کم کرنے میں مصروف نظر آئے۔ قصہ مختصر اس پارک سے مختلف عمر کے لوگ یکساں استفادہ کر سکتے ہیں۔

 ہمارے ہاں تمام شعبہ ہائے زندگی میں بنیادی مسئلہ ایک ہی ہے کہ ہم معیاری سہولیات تو تعمیر کر لیتے ہیں، لیکن مناسب دیکھ بھال کے فقدان اور عدم توجہی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ آپ بیرون ملک کسی پارک میں جائیں تو وہاں پودے اور لانز وغیرہ سر سبز اور ترو تازہ نظر آئیں گے جنہیں دیکھ کر دل کو راحت ملتی ہے اور انسان فرحت محسوس کرتا ہے۔ دراصل سیر گاہوں اور پارکوں کی ضرورت ہی اس لئے پیش آتی ہے کہ ایسی جگہوں پر پہنچ کر انسان نئے ماحول میں تبدیلی محسوس کرے اور دلکش اور پُرسکون ماحول سے لطف اندوز ہو سکے۔ پودوں اور گھاس کی صحت کے علاوہ پارکوں میں سب سے اہم صفائی اور ستھرائی کا اعلیٰ معیار ہے۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ چند خاکروب یا صفائی والے یہ فریضہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ اگر پوری قوم پارک میں گندگی پھیلانے کو معیوب تصور نہ کرے۔ اس پر حیران ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بہرحال یہ کوئی ایسے امور نہیں، جنہیں ہم انجام دینے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ پودوں اور گھاس کی صحت اور صفائی ستھرائی کے معاملات کو سنجیدگی سے لے کر ان امور میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

 پارک کی جاگنگ ٹریک تو عمدہ ہے اور اسے جان بوجھ کر پختہ نہیں کیا گیا، کیونکہ کنکریٹ اور پختہ ٹریک پر جاگنگ کرنا گھٹنوں کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن جاگنگ ٹریک پر جاگنگ کرنے والوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنے کلو میٹر جاگنگ یا واک کر لی ہے۔ صرف ایک دو جگہوں پر پیمائش کی تختی موجود ہے، لیکن اس بات کا قطعاً اندازہ نہیں ہوتا کہ کس پوائنٹ سے کس پوائنٹ تک اگر جاگنگ کی جائے تو اتنے کلو میٹر بنتے ہیں۔ پارک میں پینے کا پانی تو موجود ہے، لیکن ساتھ ہی ہمارا قومی مسئلہ بھی کہ یا تو پانی پینے کے لئے گلاس موجود نہیں ہیں یا گندے ہیں یا انہیں قابو کرنے کے لئے زنجیروں سے باندھا گیا ہے۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے اور بیرون ممالک سے آنے والے سیاح اس صورت حال سے حیران ہی ہوتے ہیں۔ سیر کرنے والوں میں زیادہ تر معمر افراد نظر آئے اور نوجوانوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ شاید نوجوان دیر تک سوتے ہیں یا اُن کے پاس سیر کے لئے وقت ہی نہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایک دو انتہائی بوڑھے افراد اتنی تیزی اور چابکدستی سے واک کر رہے تھے جو کہ نوجوانوں کے لئے بھی مشکل نظر آئے۔

سائنسی طور پر بھی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ انسان 70یا80 سال کی عمر تک بھی فٹنس کے اعلیٰ معیار حاصل کر سکتا ہے اور نوجوانوں کی طرح معمولات زندگی انجام دینے کی صلاحیت کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹر دل کو صحت مند رکھنے کے لئے روزانہ نصف گھنٹہ سے زیادہ تیز واک کی سفارش کرتے ہیں۔ ہفتہ میں دو ناغے بھی کئے جا سکتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں جو تحقیق ہوئی ہے اس کے مطابق تو ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انجائنا یعنی دل کے درد کا علاج بھی ورزش (تیز واک، جاگنگ یا اسی طرح کی دیگر ورزش) سے بھی ممکن ہے، لیکن ان امور پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور اس طرح کے علاج سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ اور نگرانی انتہائی ضروری ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ مختلف انسانوں پر ورزش کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ تیز واک یا جاگنگ سے دل کے امراض میں بہتری آتی ہے۔اگر ہفتے میں دو مرتبہ مزاحمت والی ورزشیں بھی کی جائیں، تو واک کرنے یا جاگنگ کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ یہ ورزشیں معمر افراد کے لئے زیادہ ضروری ہیں، لیکن انہیں مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی کرنا چاہئے۔

جدید تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسکراہٹ کے تبادلے سے انسانی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ شاید اسلام میں السلام علیکم کہنے کے احکامات بھی اسی وجہ سے ہیں۔ السلام علیکم کہنے سے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اچھے جذبات کا باہمی تبادلہ ہوتا ہے اور اگر السلام علیکم کے ساتھ مسکراہٹیں بھی شامل ہو جائیں تو انسان کافی بہتر محسوس کرتا ہے۔ سیر کرنے والوں میں سے ایک صاحب کو مَیں نے بغور دیکھا کہ وہ ہر ملنے والے کو السلام علیکم کہہ رہے تھے۔ اس عمل سے ان کے دوسروں کے لئے اچھے جذبات کی بھرپور عکاسی ہوتی تھی۔ جب ہم السلام علیکم کہتے ہیں تو کچھ لوگ جاندار آواز میں جواب دیتے ہیں۔ کچھ بددلی سے، کچھ ناگواری سے، کچھ خوش دلی سے جبکہ کچھ جواب ہی نہیں دیتے۔ ایسی صورت میں سلام کرنے والوں کو بددل نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس میں نیت کا نہیں بلکہ شخصیت کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ مختلف افراد کے بولنے اور جواب دینے کا اندازہ مختلف ہوتا ہے اور اس کا اظہار سلام لینے اور اس کا جواب دینے میں بھی ہوتا ہے۔ ایک سیر کرنے والا یا کافی معمر تھا اس نے دو روز تک میرے سلام کا جواب نہیں دیا، جس سے مجھے کافی تشویش لاحق ہوئی۔ تیسرے روز مَیں نے السلام علیکم کہنے کے ساتھ ہی اشارہ بھی کیا، تو انہوں نے خوشدلی سے میرے سلام کا جواب دے دیا، جس سے مَیں نے نتیجہ نکالا کہ انہیں اونچا سنائی دیتا ہو گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ سلام کرنے کے بعد جواب دینے والے کے رسپانس پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یقینا اپنا شہر چھوڑنا یا ہجرت کرنا مجبوری کے تحت ہو سکتا ہے اور یہ خوشگوار صورت حال نہیں ہوتی، لیکن ناموافق اور ناخوشگوار تجربات سے بھی مثبت پہلو تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح آپ منفی پہلوﺅں کے اثرات کو حاوی نہیں ہونے دیتے اور مثبت اثرات سے استفادہ کرنے اور ناموافق حالات کو موافق بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم