یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کا بھی دل کرے گا کہ بچوں کی طرح درخت پر چڑھنے کی کوشش کریں

یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کا بھی دل کرے گا کہ بچوں کی طرح درخت پر چڑھنے کی کوشش ...
یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کا بھی دل کرے گا کہ بچوں کی طرح درخت پر چڑھنے کی کوشش کریں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے دیکھا ہو گا کہ بچوں میں نئی نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت کس قدر تیز ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمر میں انسان کا دماغ بہت تیز کام کرتا ہے اور دنیا کے بکھیڑوں سے دور ہونے کی وجہ سے یکسو بھی ہوتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا دماغ بھی تیز ہو جائے تو آج ہی سے بچپن کی درختوں پر چڑھنے، ٹہنیوں پر توازن قائم رکھنے، ننگے پاؤں چلنے اور زمین پر رینگنے جیسی حرکتیں دوبارہ اپنا لیجیے۔ آپ شاید مذاق سمجھ رہے ہوں لیکن یہ حقیقت ہے۔ فلوریڈا کے محققین نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ ان بچگانہ حرکتوں سے انسان کا دماغ حیران کن طور پر مضبوط اور یادداشت تیز ہوجاتی ہے۔

یونیورسٹی آف نارتھ فلوریڈا کے محققین کا کہنا ہے کہ اوپر بیان کی گئی بچگانہ حرکتوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے فون نمبر اور شاپنگ لسٹ یاد کرنے کی مسلسل مشق سے یادداشت کی قوت میں50فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔جو لوگ بڑی عمر میں بچگانہ حرکتیں نہیں کرنا چاہتے ان کے لیے بھی محققین نے حل تلاش کیا ہے۔ایسے لوگ سکواش، ٹینس اور فٹ بال کھیل کر اپنی یادداشت تیز کر سکتے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کھیلوں سے بھی ان بچگانہ حرکتوں کے برابر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کن جوڑوں کے بچوں میں ذہنی معذوری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ؟تاریخ سازتحقیق میں سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ وہ باتیں بتا دیں جو ہمیں معلوم نہ تھیں

تحقیق کاروں نے اپنی ریسرچ میں 72مردوخواتین کو شامل کیا جن کی عمریں 18سے 59سال کے درمیان تھیں۔ محققین نے ان کی دماغی طاقت کا ٹیسٹ کیا اور پھر انہیں فون نمبر دیئے گئے اور انہیں کہا گیا کہ یہ نمبر الٹ سمت سے یاد کریں۔ اس کے بعد شرکاء کو درختوں پر چڑھنے، ننگے پاؤں چلنے اور بچوں کی طرح زمین پر رینگنے کے لیے کہا گیا۔ شرکاء نے دو گھنٹے تک ان تمام کاموں کی مشق کی۔ یہ سب کرنے کے بعد دوبارہ ان کی یادداشت کی قوت کا ٹیسٹ کیا گیا۔ جن لوگوں نے مشق میں اچھی کارکردگی دکھائی ان کی یادداشت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -