9/11حملے، سعودی عرب نے امریکی عدالت سے درخواست کردی کہ۔۔۔

9/11حملے، سعودی عرب نے امریکی عدالت سے درخواست کردی کہ۔۔۔
9/11حملے، سعودی عرب نے امریکی عدالت سے درخواست کردی کہ۔۔۔

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں 9/11 دہشت گردی کی تحقیق کیلئے قائم کئے گئے کمیشن نے واضح طور پر ثابت کردیا کہ اس دہشت گردی سے سعودی عرب کا کوئی تعلق نہ تھا لیکن اس کے باوجود مملکت کو اس معاملے کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ 9/11 متاثرین کی طرف سے دائر کئے گئے ایک مقدمے میں ایک دفعہ پھر سعودی عرب کا نام شامل ہونے پر مملکت نے جمعرات کے روز اپنے وکیل کے ذریعے اپنا نام مقدمے سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔

مملکت کے وکیل مائیکل کیلگ نے نیویارک میں ایک عدالت میں بتایا کہ سعودی مملکت کا اس دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، تاہم جج نے اس معاملے میں فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ مملکت کے وکیل کا کہنا تھا کہ متاثرین مملکت کے خلاف آج تک کوئی قابل قبول شواہد نہیں لاسکے۔

دوسری جانب متاثرین کے وکیل سین کارٹر کا کہنا تھا کہ 9/11 حملے کیلئے ذمہ دار قرار دئیے گئے 19 میں سے 15 ہائی جیکر سعودی شہری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت اس بات پر غور کرے کہ سعودی عرب کی طرف سے ہائی جیکروں کو آپریشنل مدد تو فراہم نہیں کی گئی۔

امریکی حکومت نے 9/11 دہشت گردی کیلئے خصوصی کمیشن قائم کیا تھا جس نے 10 سال قبل اپنے فیصلے میں واضح کردیا تھا کہ سعودی عرب کا اس دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ سعودی عرب کو اس معاملے میں ملوث کرنے کی خواہش رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کی حکومت نے کمیشن کی رپورٹ کے 28 صفحے جاری نہیں کئے تھے جن میں مبینہ طور پر سعودی عرب کے کردار پر بات کی گئی تھی۔

مزید :

بین الاقوامی -