چیف جسٹس کی برادر ججز کے ہمراہ اچانک ہائی کورٹ بار آمد ، خاتون جج اور وکلاءکا تنازع حل ہوگیا

چیف جسٹس کی برادر ججز کے ہمراہ اچانک ہائی کورٹ بار آمد ، خاتون جج اور وکلاءکا ...
چیف جسٹس کی برادر ججز کے ہمراہ اچانک ہائی کورٹ بار آمد ، خاتون جج اور وکلاءکا تنازع حل ہوگیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )عدالت عالیہ کی خاتون جج اور بار کے صدر کے درمیان تنازع کے حل کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منطور احمدملک برادر ججوں کے ساتھ اچانک لاہور ہائی کورٹ بار پہنچ گئے جس کے بعدوکلاءنے خاتون جج کی عدالت کا بائیکاٹ ختم کردیا۔لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس منظور احمد ملک کا ساتھی ججز مسٹر جسٹس عبدالسمیع خان ،مسٹر جسٹس سیدمنصور علی شاہ ،مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ اور مسٹر جسٹس عاطر محمود کے ہمراہ اچانک ہائیکورٹ بار کے کمیٹی روم پہنچ گئے۔بار کے عہدیداروں اور وکلاءنے چیف جسٹس اور ججز کی بار آمد پر انکا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پرچیف جسٹس نے کہا ہے کہ بار ججز کے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے ،بار سے تنازع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دوسری جانب ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاﺅس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بار پیر مسعود چشتی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے بار میں آ کر بڑئے پن کا مظاہرہ کیا اور وکلاءکی دلجوئی کی ہے۔چیف جسٹس کی آمد پر وکلاءکی کمیٹی نے عدالتی بائیکاٹ کے خاتمے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد چیف جسٹس اور دیگر ججز نے بار کا دورہ کیا اور وکلاءسے ملاقات کی۔بار کے دورہ کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کہ گھر میں بھی تنازع ہو جاتا ہے جسے فوری حل کیا جاتا ہے یہ گھر کا معاملہ تھا جو سلجھا لیا گیا ہے،کسی نے کسی سے معذرت نہیں کی ،وکلاءاور ججز کے درمیان کوئی تنازع نہیں تھاہم اپنے گھر آئے ہیں کسی پرائی جگہ نہیں آئے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اچھے خوشگوار موڈ میں چائے پینے آئے تھے پی کر واپس جا رہے ہیں۔بار سے ججز کی روانگی کے بعد ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاﺅس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیر مسعود چشتی نے کہا کہ چیف جسٹس نے فوری نوعیت کے مقدمات کو التوا ءمیں نہ رکھنے سے متعلق وکلاءکا مطالبہ بھی منظور کر لیاہے ،توقع ہے کہ آئندہ کسی وکیل کے ساتھ اس قسم کا واقعہ نہیں دہرایا جائے گا اسی یقین دہانی کی بناءپر احتجاج ختم کر رہے ہیں اور پیر سے وکلاءعدالتوں میں پیش ہوں گے۔

مزید :

لاہور -