وکلاءنے بھی بینکوں سے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی مخالفت کردی ،پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں قرارداد منظور

وکلاءنے بھی بینکوں سے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی مخالفت کردی ،پاکستان بار ...
وکلاءنے بھی بینکوں سے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی مخالفت کردی ،پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں قرارداد منظور

  

لاہور (نامہ نگا رخصوصی ) پاکستان بار کونسل نے پروفیشنل سروسز پر 16 فیصداور بینکوں سے لین دین پر عائد کیا گیا ودہولڈنگ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔یہ مطالبہ گزشتہ روز وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت لاہور میں منعقد کئے گئے اجلاس میں کیا گیا ہے۔اجلاس میں چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی احسن بھون ، ممبران سید قلب حسن ، سید محمد کلیم احمد خورشید ، میاں اسرار الحق ،میاں عباس احمد ،محمد یاسین آزاد اور حاجی سید رحمان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے بجٹ برائے 2015-16 کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی پر وکلاءبرادری کے تحفظات اور حکومت پاکستان سے آئین کے آرٹیکل 175A میں ترمیم کرکے جوڈیشل کمیشن میں بار ممبران کو سپریم کورٹ کے ججوں کے برابر نمائندگی دینے کیلئے قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل نے پروفیشنل سروسز پر 16 فیصداور بینکوں سے لین دین پرعائد کیا گیا ودہولڈنگ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران پارٹی کے منشور کے خلاف ٹیکس لگائے گئے ہیںجبکہ یہ ٹیکس آئین کے آرٹیکل 38 کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آج تک وصول کئے گئے ود ہولڈنگ ٹیکس بینکوں کو واپس کرنے کا حکم دے جبکہ ان ٹیکسوں کو ختم بھی کیا جائے۔اجلاس میں ستمبر کے مہینے میں یو این ڈی پی کے تعاون سے فری لیگل ایڈ کے موضوع پر سیمینار کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید :

لاہور -