مقبوضہ کشمیر، پٹن قتل عام کی تلخ یادیں 25برس کا عرصہ گزر جانے کی باجود زندہ بچ جانے والوں کے ذہنوں میں تازہ

مقبوضہ کشمیر، پٹن قتل عام کی تلخ یادیں 25برس کا عرصہ گزر جانے کی باجود زندہ بچ ...

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے 1990میں ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن میں شہریوں کے قتل عام کی درد بھری یادیں پچیس برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک زندہ بچ جانے والے کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یکم اگست 1990کو بھارتی فوجیوں کی طرف سے پٹن بازار میں بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کے باعث کم از کم 12افراد شہید جبکہ 82زخمی ہو گئے تھے۔ قتل عام میں زندہ بچ جانے والے لوگوں نے میڈیا کو بتایا کو یکم اگست1990کو بھارتی فوج کا ایک قافلہ بارہولہ سے سرینگر جارہا تھا کہ پٹن بازار میں ایک فوجی گاڑی کا ٹائر اچانک پھٹ گیا اور دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی فوجیوں نے اپنی بندوقوں کے دھانے کھول دیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی ٹائر پھٹنے کو مجاہدین کا حملہ سمجھ بیٹھے اورتقریباً آٹھ منٹ تک اندھا دھند فائرنگ کر تے رہے ۔

انہوں نے کہا کہ فوجی نشانہ لے لے کر دکانداروں اور بازار میں موجود لوگوں کو گولیاں مارتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً سوافراد کو گولیاں لگیں جن میں سے 12شہید ہو گئے تھے۔پٹن کے رہاشتی غلام حسن بٹ نے کہا کہ واقعے کے وقت وہ بھی بازار میں موجود تھا اور اسے سولہ گولیاں لگی تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا۔ انہوں نے کہا کہ بازؤں، ٹانگوں اور جسم کے نچلے حصے میں گولیاں لگنے کے بعد وہ ایک نالی میں گرگئے تھے ۔ایک اور عینی شاہد غلام محی الدین نے کہا کہ قتل عام کے بعد فوجی پٹن محلے میں گھس گئے اور کئی گھروں کو آگ لگادی۔ قتل عام کے واقعے کے خلاف مقبوضہ علاقے میں کئی روز تک شدید بھارت مخالف مظاہرے کیے گئے تھے ۔

مزید :

عالمی منظر -