تہران معاہدے سے مشکلات حل نہیں ہونگی جرمن وزیر خارجہ

تہران معاہدے سے مشکلات حل نہیں ہونگی جرمن وزیر خارجہ

  

برلن ( آن لائن ) جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ باقی ملکوں کی طرح جرمنی کو بھی مغربی دنیا اور ایران کے مابین طے پانے والے معاہدے سے ہٹ کر خدشات لاحق ہیں۔ ان میں تہران کی بشار الاسد حکومت اور حزب اللہ جیسی ملیشیا کی حمایت قابل ذکر ہیں۔ ایران ایسی مشکلات میں گھرا ہوا ہے جن کا حل نیوکلیئر معاہدے کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ ایرانی بالادستی کی کوشش سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔ یہ خدشات نیوکلیئر معاملات سے ہٹ کر ہیں۔ ہم شام میں ایران کے کردار، عراق میں شیعہ ملشیاوں اور حزب اللہ کی حمایت جیسے معاملات کو درست تسلیم نہیں کرتے۔ یہ معاملات ایران مغربی دنیا کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کر کے بھی حل نہیں کر سکے گا۔ تاہم اس کے ساتھ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ ویانا معاہدہ ایک لحاظ سے علاقائی امن کا بھی ضامن ہے۔ اس معاہدے کے بغیر ہمارا سامنا سنہ 2013ء کی صورتحال سے ہوتا کہ جس میں ایران تمام تر پابندیوں کے باوجود ایٹم بم بنانے کے قریب تھا۔ہم نے بارہ برس پہلے ایران کے ساتھ مذاکرات کے آغاز سے ہی خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ مسلسل اور مضبوط رابطہ استوار رکھا۔ آخر کار ہم ایک ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ جس نے ایران کے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے تمام ممکنہ ذرائع موثر طور پر بند کر دیئے۔ اس امر کی باقاعدہ یقین دہانی کی جا سکتی ہے۔ فیصلہ کن امر یہی ہے کہ ویانا معاہدے کے نتائج پر عمل درآمد کیا جائے، اب ہم اپنی تمام تر توجہ اسی بات پر مرکورز رکھیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ویانا معاہدہ ایران کے اندر بھی ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات اور کھلے پن کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں کو مزید توانا بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے شامی تنازع کے پرامن حل کی تمام ناکام کوششوں کی ناکامی کی وجہ عالمی ادارے میں اتحاد کی کمی اور روس امریکا کے متضاد مفادات ہیں۔ مجھے مخلصانہ طور پر امید ہے کہ ہم اس بحران پر قابو پا لیں گے چاہے ماسکو، بشار الاسد حکومت کے کتنے ہی قصیدے پڑھے۔ علاقے کے تمام ملکوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا کیونکہ بہرحال شام کا انتشار ان کے مفاد میں بھی نہیں ہو گا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام ڈی میستورا نے مسئلے کے حل کی خاطر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک درست کوشش ہے۔

مزید :

عالمی منظر -