جوڈیشل کمیشن : مرغے کی ایک ہی ٹانگ

جوڈیشل کمیشن : مرغے کی ایک ہی ٹانگ
جوڈیشل کمیشن : مرغے کی ایک ہی ٹانگ

  

ہماری قومی سیاست کے ڈراموں نے بار ہا ، ملکی سلامتی کو خطرات سے دو چار کیا ہے۔ سیاسی عمل میں جب بھی " مَیں ناں مانوں" کی رٹ لگائی گئی، اس کا نقصان جمہوریت اور ملک کو اٹھانا پڑا۔ جمہوریت میں سیاسی عمل، افہام و تفہیم اور باہمی اظہار خیال کا تقاضا کرتا ہے۔ 2013 ء کے الیکشن میں انتظامی بے ضابطگیوں کے بارے میں، ہر کسی نے آواز بلند کی، کیونکہ پاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ عمومی طور پر، انجینئرڈ یا دھاندلی جیسے الفاظ سے یاد کی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر الیکشن کے بعد ، ہارنے والوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات عائد کر دیئے جاتے ہیں۔۔۔ اگر عام انتخابات میں اکثریتی نتائج شفاف اور منصفانہ عمل سے سامنے آبھی جائیں تب بھی، ہمارے سیاسی پنڈت اپنی ڈفلی بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ 2013 ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے علاوہ تحریک انصاف نے بھی، جمہوریت کے اعلیٰ مفاد میں نتائج کو تسلیم کر لیا تھا اور جمہوری عمل کے تسلسل کو جاری رکھنے کے عہدو پیمان کئے تھے۔ قومی اسمبلی میں قائد ایوان میاں محمد نواز شریف کو سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، بشمول تحریک انصاف کے عمران خان نے مبارک باد دی، لیکن پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ جمہوریت کی گاڑی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دی گئیں۔

عمران خان، جنہیں ایک سنجیدہ سیاستدان سمجھتے ہوئے، پاکستان کے عوام نے قومی اسمبلی اور پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں پہلی مرتبہ نمایاں کامیابیاں دلائیں، انہوں نے ایک ناراض سیاستدان کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا، جس نے جو بات کان میں ڈالی ، انہوں نے میڈیا اور جلسوں میں کہنا شروع کر دی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ناراض، بعض سیاستدانوں نے یہ موقع غنیمت جانا ،پھر عمران خان، جنہیں اپنا چپڑاسی رکھنا بھی پسندنہیں کرتے تھے، وہ ان کی ناک کا بال بن گئے۔ جس نے لاہور کی ایک مسجد میں امامت کی اور اپنی تنظیم کے لئے عطیات وصول کئے، جو نواز شریف اور شہباز شریف کے کندھوں پر چڑھ کر طواف کرتا رہا، جس کے دل کاعلاج امریکہ میں کروایا گیا، وہ بھی غیر ملکی شہریت حاصل کر کے، بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے آگیا۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے انتخابی نظام میں اصلاح اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر 2013 ء میں انتظامی خرابیاں سامنے آئی ہیں تو ہمیں انہیں دور کرنا چاہیے۔

ملک میں ایک طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری تھی تو دوسری جانب سیاسی دنگل شروع کر دیا گیا۔ دنگل کا پہلوان، سب کو للکارتا رہا۔ سب کو جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ جلسے ہوئے ، جلوس ہوئے اور پھر ایک طویل دھرنا دیا گیا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا تھا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کچھ نادیدہ قوتیں متحرک ہیں، کیونکہ 2013 ء کے عام انتخابات کے لئے، چیف الیکشن کمشنر سمیت ، وفاقی اور صوبائی نگران حکومتی عہدیدار، سب کی مشاورت سے تعینات کئے گئے تھے۔ ایسے میں نادیدہ قوتوں یا غیر ملکی ایجنڈے کا خیال ذہنوں میں آنا فطری تھا۔وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دونوں ایوانوں کے سربراہوں کو انتخابی اصلاحات کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کے لئے خطوط لکھے ،مگر پارلیمنٹ کے باہر دھرنا سیاست ، پارلیمنٹ اور ارکان پارلیمنٹ کو چور اور نجانے کیا کیا کہتے رہے ۔سول نافرمانی کی کال دے کر یوٹیلٹی بل ادا نہ کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔ہمارے میڈیا کے لئے یہ طول ڈرامہ ’’ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ سے کم نہیں تھا، لہٰذا خود کش حملوں ،دھماکوں ،ٹارگٹ کلنگ ، بھتہ خوری اور قبضہ مافیا کی سر گرمیوں اور خبروں کو پس پشت ڈال کر ، یہ ڈرامہ جاری رہا۔ایک دن میں درجن بھر خطاب اور پریس کانفرنسیں، کسی ایک جانب سے ،مَیں نے اپنی صحافتی زندگی میں پہلی بار دیکھیں ،پھر سرکاری ٹی وی کی نشریات روک کر قبضہ اور پارلیمنٹ پر حملے کی کارروائیوں نے غیر ملکی میڈیا پر بھی جگ ہنسائی کا اہتمام کیا۔

دنیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ یہ حکومت آج گئی کہ اب گئی۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کی ضد کی گئی،قاتلوں سے مذاکرات اور حکومت کے لئے فساد کی پالیسی بنائی گئی ۔عمران خان کو ایک مدبر سیاسی رہنما کے طور پر دیکھنے والے حیرت زدہ تھے کہ کیسا لہجہ اور کیسی زبان استعمال کی جارہی ہے ۔دھرنے کے شرکاء نے میڈیا کے نمائندوں کی بھی خوب خبر لی ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں مذاکرات شروع ہوئے ،جو بے نتیجہ رہے ،پھر آرمی پبلک سکول کے شہید بچو ں نے دھرنے کے خاتمے کا جواز فراہم کر دیا ۔اعلیٰ سطحی جوڈیشنل کمیشن ، چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں قائم ہوا۔مبینہ ثبوت اور گواہ پیش ہوئے،مگر جو الزام بار بار لگائے جاتے رہے، اُن کے ثبوت مہیا نہ کئے جاسکے ۔سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ، جسٹس رمدے ،نجم سیٹھی کے 35 پنکچر، اردو بازار کے بیلٹ پیپر چھاپنے والے پریس ،سمیت دیگر کئی الزامات کمیشن کے سامنے دہرائے نہ جا سکے ۔نواز شریف کی بطور پارٹی کے سربراہ نتائج سے پہلے کی تقریر اور ایک نجی چینل پر الزامات بھی گونگے رہے۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران،الزام لگانے والے ،قوم کو خوشخبری کی نوید سناتے رہے۔بالآخر فیصلہ آگیا۔قوم کو ان معاملات نے، جس ہیجان میں مبتلا کئے رکھا، دنیا کی نظریں ، جس طرح پاکستان کی جانب لگی ہوئی تھیں ،اُس ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ۔ اسمبلیوں سے طویل غیر حاضری انہیں جعلی کہہ کر، کوئی کام نہ کرنے والوں نے اسمبلیوں میں واپس جا کر تنخواہیں وصول کیں اور جوڈیشنل کمیشن کے حتمی فیصلے کو من و عن تسلیم کر لیا۔ عمران خان کی ناک کا بال بننے والا ، ٹی وی چینل سے غائب ہو گیا ۔دوسری پارٹیوں کو چھوڑ کر ، وفاداریاں بدلنے والے بھی اب طویل سوچ میں گم ہیں ۔حکمران قیادت نے کہہ دیا کہ یہ کسی کی جیت یا ہار نہیں ۔طے ہوا تھا کہ کمیشن کے فیصلے کے بعد الزامات نہیں دہرائے جائیں گے ،مگر عمران خان نے ایک ہی سانس میں کمیشن کی کارروائی کے عمل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ،اس کو تسلیم کیا تو دوسری سانس میں کہہ دیا کہ اُن کے الزامات اپنی جگہ قائم ہیں ،پھر یہ بھی کہہ دیا کہ جوڈیشل کمیشن نے ادھورا کام کیا ہے ۔شائدکسی نے پھر کان میں کچھ کہہ دیا ہے ۔ جس طرح کھیل کے میدان کی غلطیاں دہرائی نہیں جاتیں ،اُسی طرح سیاست میں بھی غلطیوں سے سبق سیکھا جاتا ہے، مگر جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد بھی، مرغے کی وہی ایک ٹانگ ۔ *

مزید :

کالم -