بھارت اور بنگلہ دیش کا سرحد ی بستیوں کا تنا زعہ ختم ہو گیا

بھارت اور بنگلہ دیش کا سرحد ی بستیوں کا تنا زعہ ختم ہو گیا

  

ڈھا کہ ( آن لائن )بھارت اور بنگلہ دیش نے اپنی سرحد پر چھوٹی بستیوں کے کنٹرول کا تبادلہ کر کے طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع ختم کر لیا ہے۔یہ معاہدہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق 12 بجے عمل میں آیا اور اس کے تحت بھارتی حدود میں واقع بستیاں بھارت اور بنگلہ دیشی حدود میں واقع بستیاں بنگلہ دیش کا حصہ قرار دی گئی ہیں۔ یہ بستیاں 18ویں صدی میں قائم ہوئی تھیں اور برصغیر کی تقسیم اور پھر بنگلہ دیش کے قیام کے باوجود ان کے باسیوں کی شہریت کا مسئلہ حل طلب رہا تھا۔ بر طانو ی میڈیا کے مطابق 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد تقریباً چھ دہائیوں تک ان افراد سے بیوطن افراد کا سا سلوک ہوتا رہا اور یہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہے۔بھارتی علاقے میں واقع 51 بنگلہ دیشی بستیوں کے تمام رہائشیوں نے شہریت بدل کر بھارتی شہری بننے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اب بھارت اور بنگلہ دیش کے اس تاریخی معاہدہ سے اب انھیں ان کی شناخت مل جائے گی۔اب ان بستیوں کے 50 ہزار رہائشیوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ بھارت یا بنگلہ دیش کسی ایک ملک کی بستی میں رہائش رکھیں اور اس ملک کی شہریت حاصل کر لیں۔ان 162 میں سے 111 بستیاں بنگلہ دیشی علاقے میں جبکہ 51 بھارتی علاقے میں واقع ہیں اور اگر ان بستیوں کے رہائشی اپنی پرانی جگہ پر رہنا چاہیں گے تو انھیں شہریت تبدیل کرنا ہوگی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیشی حدود میں قائم بھارتی بستیوں کے رہائشیوں کی اکثریت نے بنگلہ دیش کا شہری بننے کو ترجیح دی جبکہ ایک ہزار کے قریب افراد نے بھارتی شہریت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔اب یہ ایک ہزار افراد نومبر میں اپنے گھر بار چھوڑ کر بھارتی ریاست مغربی بنگال میں جا کر دوبارہ آباد ہوں گے۔ادھر بھارتی علاقے میں واقع 51 بنگلہ دیشی بستیوں کے تمام رہائشیوں نے شہریت بدل کر بھارتی شہری بننے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے کہ ان بستیوں کے کنٹرول کے بارے میں معاہدے کی بنگلہ دیش نے تو 1974 میں ہی منظوری دے تھی لیکن بھارت کی جانب سے اس پر رواں برس جون میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ ڈھاکہ کے موقع پر ہی دستخط کیے گئے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -