لاہور میں جمہو ریت کی بہترین شکل

لاہور میں جمہو ریت کی بہترین شکل
لاہور میں جمہو ریت کی بہترین شکل

  

پنجا ب کے وزیر خوراک بلا ل یا سین نے کہا ہے کہ پنجاب حکو مت آٹے پر 30 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے ، پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی سے اشیائے خوردنی میں استحکام آیا ہے ۔ پنجاب کیلئے یہ قابل فخر بات ہے کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ صوبہ سندھ ،صوبہ خیبر پختونخوا اور صو بہ بلوچستان کی غذائی ضروریات بھی پوری کر رہا ہے۔

نوجوان متحرک اور پنجاب کے دبنگ وزیر خوراک دلیر ، انتہائی ساد ہ منشن اور پنجاب کے ماتھے کا جھومر ہیں ۔ وی آئی پی کے کلچر نا م سے بھی ناواقف ہیں جس گھر میں وہ موہنی روڈ پر پیدا ہو ئے تھے آ ج بھی ، اسی گھر میں رہائش پذیر ہیں ، تیسری مر تبہ رکن اسمبلی منتخب ہو ئے اس بار وزیر اعلیٰ پنجاب نے انہیں وزار تِ خوراک دی جسے وہ انتہا ئی کامیا بی اور جانفشانی سے چلا رہے ہیں، وہ جو کہتے ہیں کرکے بھی دکھاتے ہیں ،ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور کارکنوں کو بھی سچ کی تلقین کرتے ہیں روزانہ عوام سے ملا قا ت کے لئے اپنے انتخابی دفتر میں بیٹھتے ہیں ۔لاہور کے لو گ بغیر کسی مشکل کے انہیں ملتے ہیں ۔ ان کے آفس اور گھر میں کسی قسم کی کو ئی سیکورٹی کا نام و نشاں نہیں ہے ۔ حیرت انگیز طور پر انہیں کام سے دلچسپی ہے ۔ ان کے انتخا بی دفتر اور گھر کا فاصلہ بظاہر تو چند گلیوں کا ہے تاہم آدھا کلو میٹر تو ضرور ہے، جہاں سے گزر کر روزانہ جا نا انکا معمو ل ہے، وزیر بننے کے بعد جی او آر میں کو ٹھی میں منتقل ہونا انکا استحقاق تھا لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا کہ اس طرح وہ اپنے کارکنوں اور اہل علا قہ سے دور ہو جائیں گے ۔انہوں نے اپنا سرکاری آفس بھی سیکر ٹیریٹ میں نہیں لیا بلکہ عو ام کی سہو لت اور رابطہ رکھنے کی خاطر پرانی انارکلی میں واقع ریونیو بور ڈ کے آفس میں بیٹھتے ہیں جہاں ان کا سر کاری آفس ہے ۔ انکا خیال ہے کہ سیکر ٹیریٹ میں عام لوگوں کو داخلہ کی مشکلا ت ہیں اور لوگوں کو مشکل پیش آئیگی وزارت خوراک کا حلف اٹھا تے ہی لاہور کے بڑے چھوٹے ہوٹلوں اور شا دی ہالوں میں کھانوں کی چیکنگ کیلئے چھا پے مارنے شروع کئے تھے اور کئی ہو ٹلوں کو بند کر نے کے بھی احکام جاری کئے جس کے بعد اب ہر چھوٹے بڑے شا دی ہال بلکہ پنجاب کے دیگر شہر وں میں بھی کھا نو ں کا معیا ر بہتر ہوچکا ہے ۔ ہر وقت چھا پوں کے خوف سے اس شعبہ میں نمایاں بہتری آ چکی ہے۔

روزانہ اپنے آ فس میں آنیوالوں کے مسا ئل حل کرنے کے لئے تمام سا ئلوں کی درخوا ستوں پر کارروائی کے آر ڈر جاری کر دیتے ہیں جہاں فو ن کر نا ہو بذریعہ سیکرٹری با ت کر کے متعلقہ افسر وں تک بات پہنچا دیتے ہیں ۔ بعض لو گ بر طانوی جمہوریت کی مثا لیں دیتے ہیں کہ وہاں اراکین پا رلیمنٹ خو د ذاتی طور پر گھر گھر جا کر مسا ئل معلو م کرتے ہیں ، اسی طرح بلا ل یاسین کا بھی یہی معمول ہے اور اکثر لوگوں کی درخواستیں ضروری ہدا یات لکھ کر ان کے گھروں میں بھی خود جا کر دیتے ہیں ۔میں ذاتی طورپر ایک درخواست دیکر آ گیا تھا ، اسی روز رات 9 بجے مجھے موبائل پر فو ن آ یا کہ آ پ گھر پر ہیں اس وقت لو ڈشیڈنگ تھی ، میں نے انہیں بتایا کہ میں تو گھر ہی ہوں آ پ کہاں ہیں انہوں نے بتایا کہ میں آپ کے گھر کے با ہر کھڑا ہوں ،میں فوراً باہر گیا تو د یکھا کہ اندھیرے میں اکیلے کھڑے ہیں اور کو ئی کارکن یا سیکر ٹری بھی ساتھ نہیں ہے ۔گھپ اندھیرے میں کسی سیکورٹی کے بغیر کسی وزیر کا نکلنا ، اس کے خدا پر مکمل یقین کی علا مت ہے ۔ میں نے انتہائی خلو ص سے انہیں اندر آ نے اور چائے کے کپ کی پیشکش کی جو انہوں نے قبو ل نہیں کی اور کہا کہ میں نے ابھی اور لوگوں کو بھی درخواستیں دینے جا نا ہے ۔

یہ کہہ کر وہ تو چلے گئے لبکن میر ے ذہن میں کئی سوالات چھو ڑ گئے کہ جس طرح کی باتیں ہم یو رپی جمہوریت کے بارے میں سنتے رہتے ہیں وہ کم ازکم ہمارے علاقہ میں تو مو جود ہیں ۔ اگر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو تما م وزراء کرام اسی قسم کے مل جاتے تو آ ج وہ اس مقام پر نہ ہوتے ۔مجھے لاہور یا پنجاب کے باقی وزراء کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں ہے لیکن میرے شہر کے میر ے علاقہ میں جمہوریت کی بہترین شکل موجودہے ۔ تمام وزراء کو محترم بلا ل یا سین کی تقلید کرنی چاہیے ۔ جہاں وی آ ئی پی کلچر نام کی کو ئی چیز نہیں ہے جو حقیقی جمہوریت کی اصل روح ہے

مزید :

کالم -