دورہ سری لنکااختتام پذیر!

دورہ سری لنکااختتام پذیر!

  

پاکستان کا دورہ سری لنکا اختتام پزیر ہوچکا ہے طویل دورہ میں پاکستان نے مجموعی طور پر بہت عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا خاص طور پر ٹیم میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی قابل تعریف ہے دورہ سے قبل اس دورے کو پاکستانی ٹیم کے لئے بہت اہمیت حامل قرار دیا جارہا تھا اور کہا جارہا تھا کہ سری لنکا کی سر زمین پر پاکستانی ٹیم کے لئے کامیابی کا حصول آسان نہیں ہوگا، لیکن ٹیم نے متحد ہوکر کھیل کر نہ صرف ٹیسٹ سیریز اپنے نام کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ و ن ڈے سیریز میں بھی کامیابی حاصل کرکے سری لنکا میں ایک طویل عرصہ کے بعد کامیابی حاصل کی، جبکہ ٹی ٹوٹنی میچوں میں بھی پاکستان نے بہت اچھی پرفارمنس دی اس سیریز سے قبل پاکستانی ٹیم پر چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کے حوالے سے جو تلوار لٹک رہی تھی وہ بھی اب ٹل گئی ہے اور قومی ٹیم کو منی ورلڈ کپ میں شرکت کا پروانہ مل گیا ہے اور ٹیم کے ساتھ ساتھ شائقین کرکٹ کے لئے بھی یہ باعث سکون بات ہے پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے اس سیریز میں بطور ون ڈے کپتان پہلی سیریز اپنے نام کی، جبکہ مصباح الحق کو ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل ہوئی۔ قومی کرکٹ ٹیم نے تینوں شعبوں میں ہی بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ٹیم نے اب زمبابوے کے خلاف کھیلنے کے لئے اس کی سر زمین جانا ہے اور امید ہے کہ یہ کارکردگی وہاں پر ٹیم کے کام آئے گی اور جس طرح اب کھلاڑیوں نے بہت عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے تمام کھلاڑی اسی طرح اب زمبابوے کے خلاف بھی عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے بھارت کے خلاف سیریز جس کا انعقاد دسمبر میں شیڈول ہے بہت اہمیت کی حامل ہے سری لنکا کے خلاف پاکستان نے عمدہ پرفارمنس سے تینو ں فارمیٹس میں اپنی رینکنگ بھی مضبوط بنائی ہے اور اس وقت پاکستان ریکنگ میں بہت اوپر آگیا ہے کھلاڑیوں کی محنت رنگ لے کر آئی ہے اور سب نے جس طرح ہر شعبہ میں مل کر کھیل پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اس حوالے سے کھلاڑیوں کے کھیل کی تعریف کی جانی چاہئے امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ اِسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔سابق کرکٹرز نے ٹیم کی موجودہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہنا چاہئے، لیکن اس پرفارمنس کو مسلسل جاری رکھنے کی ضرورت ہے نوجوان کھلاڑیوں کی پرفارمنس قابل تعریف ہے اور انہوں نے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کروایا ہے امید ہے کہ ٹیم کے یہ نوجوان کھلاڑی محنت سے آگے بڑھیں گے کھلاڑیوں کو بہت محنت کی ضرورت ہے اور اس بل بوتے پر ہی ٹیم ترقی کرسکتی ہے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ٹیم متوازن کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور بہترین کمبی نیشن ہے۔ بہرحال امید ہے کہ یہ کارکردگی اِسی طرح جاری رہے گی اور اس سے ٹیم مستقبل میں مزید کامیابیاں سمیٹتی رہے گی۔دوسری جانب قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ وہ روایتی حریف بھارت کے ساتھ کرکٹ تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں اورامید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں دونوں ٹیمیں دو طرفہ سیریز میں مدمقابل دیکھی جائیں گی۔ اس سے قبل ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق بھی ایسی ہی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارتی کرکٹ آفیشلز طویل عرصے سے جاری ٹال مٹول کے بعد گورداس پور واقعے کو بنیاد بنا کے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کرکٹ بحال کرنے کے وعدے سے ایک بار پھر مُکر چکے ہیں تاہم اظہر علی کہتے ہیں کہ بھارت کے خلاف کھیلنا ہر پاکستانی کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے۔ انہوں نے کہ بھارت کے خلاف کھیلنا اس لئے بھی اچھا ہے، کیونکہ ہر کھلاڑی کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف پرفارم کرے۔ کرکٹرز کی خواہش تو ہے تاہم یہ فیصلہ کرنا کرکٹ حکام اور حکومتوں کا ہے۔اگر ہم سیریز منعقد کرنے میں کامیاب رہے تویہ بہت اچھا ہوگا۔اس سے قبل سابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی بھی کہہ چکے ہیں کہ دسمبر میں سیریز کے انعقاد کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے تاہم ان کی دلی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے بیچ کرکٹ بحال ہو۔ دوسری جانب دورۂ سری لنکا کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے اب اس دورے کے بعد پاکستان کا اگلا امتحان اب زمبابوے کا دورہ ہے زمبابوے کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا اب قومی ٹیم جواب میں اس کی سر زمین پر جاکر کھیلے گی، جس کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا دونوں ٹیمیں ستمبر میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی تین و ن ڈے میچوں کے ساتھ ساتھ دوٹی ٹونٹی میچز کھیلے جائیں گے اس سیریز کے لئے ٹیم کو بھرپور تیاری کی ضرورت ہے سری لنکا کے خلاف شاندار پرفارمنس کے باوجود ٹیم کو اپنی محنت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے زمبابوے کی ٹیم آسان حریف نہیں ہے اور اس نے پاکستان کو ہمیشہ ٹف ٹائم دیا ہے اس سیریز کے بعد پاکستانی ٹیم اس سال کے آخرمیں بھارت کے مدمقابل آئے گی، لیکن اس حوالے سے ابھی محتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن امید ہے کہ دونوں ٹیمیں شیڈول کے مطابق ضرور ایک دوسرے کے مقابلے کے لئے میدان میں اتریں گی اور یہ سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔ پاکستان کی ٹیم نے جب بھی محنت کی اور یک جان ہوکر حریف ٹیم کا مقابلہ کیا کامیابی اس کا مقدر بنی ہے شائقین کرکٹ دونوں ممالک کے درمیان سیریز کا انعقاد چاہتے ہیں اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کی گئیں کاوشیں ضرور رنگ لے کر آئیں گی اور امید ہے کہ نہ صرف پاک بھارت سیریز ہوگی، بلکہ پاکستان میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا جلد آغاز ہوجائے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -