بینک ٹرانزیکشن ٹیکس پر تاجروں کا احتجاج تحریری معاہدے کی خلاف ورزی ہے ،اسحاق ڈار

بینک ٹرانزیکشن ٹیکس پر تاجروں کا احتجاج تحریری معاہدے کی خلاف ورزی ہے ...

  

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمارا ایجنڈا پاکستان کو بہتر بنانا ہے ،سرکلرڈیٹ اس وقت 260ارب ہے ، ہم نے اپنے دور میں مشکل فیصلے کئے،پرویز مشرف اپنے د ماغ کو درست کریں،تحریک انصاف اصولوں پر کاربند رہے ، ہم تاجروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ان کی جائز شکایات کا حل چاہتے ہیں، پاکستان میں 9کروڑ سے زائد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ گزشتہ روزنجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی میں پارٹی لیڈر جس کو بہتر سمجھتا ہے اس کے ذمے مختلف کام لگاتا رہتا ہے، مجھ پر جو بھی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے کوشش کرتا ہوں کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق انہیں حل کروں،2013 میں پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کی باتیں ہو رہی تھیں جبکہ آج پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس نان فائلر کیلئے ہے، فائلر کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں ہے، تاجروں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ہمارا کچھ کاروبار آفیشل ہے اور کچھ ہمارے نام پر ہے، اس وقت بھی ہم تاجروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ان کی جائز مشکلات کا حل چاہتے ہیں، حکومت اور ایف بی آر کے پاس تمام معلومات ہیں، بزنس کمیونٹی سمیت پاکستانی عوام کی حمایت (ن) لیگ کو حاصل ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان میں 9کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، اگر کوئی 2کروڑ سالانہ گھریلو خرچ عورت کو دیتے ہیں تو ان کی آمدنی بھی سالانہ 20کروڑ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اپٹما نے اپنے مسائل کی تمام تفصیلات دے دی ہیں، ان کا بجلی کا مسئلہ تھا، انہیں بتایا ہے کہ عید کے بعد انڈسٹری کو مسلسل بجلی دی جا رہی ہے، لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی ان کے باقی مسائل بھی اس ماہ حل کریں گے، سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف اپنے د ماغ کو درست کریں، ان کا الزام بالکل غلط ہے، انہیں ان کی ٹیم نے مس لیڈ کیا، میں آج بھی انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی ثابت کرے کہ اعداد و شمار میں غلط بیانی کی گئی ہو تو سرکلرڈیٹ سرکلر مسئلہ ہے اس کی ریفارمز کر رہے ہیں، سرکلرڈیٹ اس وقت 260ارب ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ جو معاہدہ ہوا وہ لکھ کر کیا، میں نے معاہدے کو پاکستان کے ریکارڈ کا حصہ بنادیا، اس معاہدے کے تحت تحر یک انصاف اسمبلی میں اگر ہمارے خلاف فیصلہ آتا تو تمام اسمبلیاں گر جاتیں، وزیراعلیٰ بلوچستان اور رحمان ملک اس معاہدے کے گواہ تھے، میں اصولوں کے اوپر مفاہمت کا نہیں کہہ رہا، اصولوں پر رکے رہنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان کی پریس کانفرنس پر اسمبلی میں کھڑے ہو کر تمام ریکارڈبتایا اور ان کے معافی کے بیان کی مذمت کی، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اب ہم چاہتے ہیں کہ ملک کیلئے مل کر کام کریں ہر بندہ ملک کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

مزید :

صفحہ اول -