ملا عمر کی موت درست لیکن حالات غیر واضح ہیں، وائٹ ہاؤس

ملا عمر کی موت درست لیکن حالات غیر واضح ہیں، وائٹ ہاؤس

  

واشنگٹن( اظہر زمان، بیوروچیف) افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کی موت کی خبر آنے کے بعد امریکہ کے سرکاری حلقوں اور میڈیا میں اس کے بارے میں اصل حقائق پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ شام وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں بتایا کہ اگرچہ انٹیلی جنس سروسز نے ملا عمر کی موت کی تصدیق کر دی ہے لیکن اس کی موت کے اصل حالات غیر واضح ہیں۔ بدھ کے روز افغان حکومت نے پہلی مرتبہ ملا عمر کے موت کی خبر دی جس کے بعد طالبان نے پہلے تردید کی اور پھر تصدیق کر دی۔ امریکہ نے ایک مرتبہ ملا عمر کے بارے میں مصدقہ اطلاع دینے والے کو ایک کروڑ ڈالر کا انعام دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ملا عمر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے بدستور خطرے کا باعث ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ایک طویل جنگ اور ہزاروں جانوں کے نقصان کے بعد اب افغانستان کو مستحکم اور محفوظ بنانے کی جانب آگے بڑھنے کا نیا موقع پیدا ہے۔ طالبان کی سربراہی میں تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے طالبان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف جنگ جاری رکھیں اور ملک کو غیر مستحکم کریں یا پھر امن کا انتخاب کریں۔اس دوران طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کے بارے میں اقوام متحدہ کی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ وہ طالبان کے بلوچستان میں روپوش گروہ سے جسے’’ کوئٹہ شوریٰ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے تعلق رکھتا ہے۔ وہ طالبان حکومت میں شہری ہوا بازی کے وزیر تھے اور بعد میں اسلامتی کونسل نے جن دہشت گردوں کے خلاف پابندیاں عائد کی تھی ان میں وہ بھی شامل تھا۔ دسمبر2006ء میں پاکستان میں نظر بندی کے بعد اسے افغان حکومت ک حوالے کر دیا گیا تھا۔ وہ افغان صوبوں خوست اور پکیتا میں منشیات کے ناجائز کاروبار میں بھی ملوث تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ سی آئی اے کے موجودہ اور سابق حکام کو اگرچہ ملا عمر کی روپوش کے عرصے کی اطلاعات ملتی رہی تھیں۔ لیکن اس کی اسامہ بن لادن کی طرح شدت سے تلاش نہیں کی گئی۔ تاہم انٹیلی جنس ادارہ یقیناًیہ دعویٰ کرتا ہے کہ کراچی کے ہسپتال میں ملاعمر کا علاج طالبان سے آئی ایس آئی کے رابطے کو ظاہر کرتا ہے۔ سی آئی اے کی دستاویزات کے مطابق 1980- ء کے عشرے میں آئی ایس آئی سو ویت یونین کے خلاف جنگ میں طالبان کو اسلحہ اور فنڈ فراہم کرتی تھی۔ ’’ واشنگٹن پوسٹ‘‘نے خبر دی ہے کہ جنوری 2011ء میں صدر زرداری نے جب امریکی مندوب رچرڈ ہابروک کی آخری رسومات میں واشنگٹن میں شرکت کی تھی تو اس وقت بھی انہیں امریکی حکام نے کراچی ہسپتال میں ملا عمر کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔

مزید :

صفحہ اول -