ایسے نظام کو دفن کر دینگے جس نے ہمارے بچوں کے ہاتھ میں بندوق دی ڈاکٹر طاہرالقادری

ایسے نظام کو دفن کر دینگے جس نے ہمارے بچوں کے ہاتھ میں بندوق دی ڈاکٹر ...

  

 لاہور(خبر نگار)تحریک منہاج القرآن کے بانی ومنہاج یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم کو مذہب اور سیکولر ازم کے خانے میں بانٹ کر معاشرے کو تضادات اور فکری انتشار کے حوالے کر دیا گیا ،ایسے نظام اور باطل فکر کو دفن کر دینگے جس نے ہمارے بچوں کے ہاتھ میں قلم کی بجائے بندوق دی اور دلوں میں محبت کی جگہ نفرت پیدا کی۔ آنے والا دورعلم، سچ کی بالادستی اور انتہائی رویوں کی شکست فاش کا ہے۔تحریک منہاج القرآن نے دینی و جدید دنیاوی علوم کو یکجا کر کے انتہا پسندی سے پاک اور اعتدال پسند اسلامی معاشرہ کی تشکیل کی بنیاد رکھ دی۔جدید عصری علوم سے آرائستہ یونیورسٹی کا قیام میرا خواب تھا جو اللہ نے پورا کر دیا۔کانووکیشن سے بورڈ آف گورنر کے وائس چیئرمین ڈاکٹر حسین محی الدین القادری ،وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم غوری نے بھی خطاب کیا۔ منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین، خرم نواز گنڈاپور،رجسٹرار کرنل(ر) محمد احمد، کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر شجاعت محمود خالد، جاوید اقبال قادری نے ہونہار طلباء میں انعامات تقسیم کیے۔منہاج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل 770 گریجویٹس طلباء اور طالبات کو ڈگریاں دی گئیں۔ 22 طلباء کو گولڈمیڈل دئیے گئے۔ 200 طلباء و طالبات کو رول آف آنر۔88 طلباء وطالبات کو میرٹ سرٹیفکیٹس اور 2 کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ انہوں نے پی ایچ ڈی، ایم فل اور ایم ایس سی کرنے والے طلباء و طالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں اور انہیں مبارکباد دی۔ انہوں نے فروغ امن اور انسداد دہشتگردی کے نصاب پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ 25 کتابوں پر مشتمل یہ نصاب دہشتگردی اور انتہا پسندوں کی جہاد کے حوالے سے خودساختہ اور گمراہ کن تعریف کو رد کر ے گا۔ نئی نسل کو انتہا پسندی اور فکری تنگ نظری کے اندھیروں سے نکالنا میری جدوجہد کا مرکزی نکتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تعمیر پاکستان کے اس اہم مرحلہ پر بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کی باگ ڈورسنبھالیں اور جہالت کے اندھیروں کو علم کے چراغوں سے ختم کر دیں۔وائس چیئرمین ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشن تعلیم برائے ترقی ،تعلیم برائے شعور وآگہی اور تعلیم برائے خدمت ہے۔ ہم نے تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیا اور جدید اور بامقصد تعلیم کی فراہمی کیلئے جملہ وسائل اور صلاحتیں صرف کیں ۔

طاہرالقادری

مزید :

صفحہ آخر -