ود ہولڈنگ ٹیکس کیخلاف شٹر ڈاؤن ،معیشت کو اربوں کا نقصان

ود ہولڈنگ ٹیکس کیخلاف شٹر ڈاؤن ،معیشت کو اربوں کا نقصان

  

 لاہور ( اسد اقبال )تاجر برادری کی طرف سے یکم اگست کو بنکوں سے رقوم کے لین دین پرٹرانزیکشن ٹیکس عائد کر نے کے خلاف کی جانے والی ہڑتال سے ملکی معیشت اربوں روپے کے گردشی ذر سے محروم رہی جبکہ کاروباری سر گر میاں تعطل کا شکار رہنے کی وجہ سے تاجر مجمو عی طورپر اربوں روپے کی آمد ن حاصل کر نے میں ناکام رہے گزشتہ روز جہاں ملک کی تھوک و بڑی مارکیٹوں میں اشیاء کی خرید کا کاروبار بند رہا وہاں تاجروں نے مالیاتی اداروں سے رقوم کے لین دین سے بھی ہاتھ کھینچے رکھا دوسری جانب تھوک مارکیٹوں اور دکانوں میں کام کر نے والے ہزاروں دیہاڑی دار محنت کشوں کی معیشت کا پہیہ بھی جام رہا اور ان کے اہل خانہ یکم اگست کو روٹی کو تر ستے رہے۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر گزشتہ روز لاہور سمیت ملک بھر میں تاجروں نے بنک ٹرانزیکشن ٹیکس کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے شٹر ڈاؤ ن پاور کا استعمال کیا جس سے ملک بھر میں ہو نے والا اربوں روپے کا کاروبار نہ ہو سکا اور اربوں روپے گردشی ذر سے محروم رہے جس سے حکو متی خزانہ کو بھی نقصان پہنچا ۔ماہرین معاشیات اور سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ مجمو عی طور پر 3سو ارب روپے کی پیداوار ہے ہڑتال کے باعث کاروباری سر گرمیاں تو بند رہی تاہم اس سے حکومتی ٹیکسز پر منفی اثرات مر تب نہ ہوئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ تاجر برادری نے بنک ٹرانزیکشن ٹیکس نہ دینے کے لیے حکو مت وقت پر پر یشر ڈال رہے ہیں اگر احتجاج کے بعد تاجر طبقہ بنکوں سے لین دین ختم کر دیتا ہے تو اس سے معیشت کو دھچکا لگے گا اور اکانومی کیش کی طرف جائے گی جو پاکستان کی ترقی میں بیک سٹیپ ہو گا ۔انھوں نے حکو مت کو مشورہ دیا ہے کہ بنک ٹرانزیکشن ٹیکس کے حوالے سے تاجر نمائندوں سے مذاکرات کرے جبکہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لائے جو ملکی معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -