سہانا موسم اور مسائل!

سہانا موسم اور مسائل!
سہانا موسم اور مسائل!

  

گزشتہ رات ہی سے بادل چھائے ہوئے تھے،سحر سے فجر تک بھی موسم بہت ہی خوشگوار اور سہانا تھا، آکسیجن بھی وافر تھی اور سیر بھی لطف دے رہی تھی۔۔۔سیر کے بعد گپ شپ کے لئے بیٹھے تو ساون کا موسم اور پکوان ہی یاد آتے رہے، خواجہ طارق اپنے چکوال کے دور کو یاد کرتے اور ہم نے پرانے شہر لاہور کی روائتوں کا بیان کیا کہ جب ساون کی جھڑی لگتی تو گھروں میں میٹھے پوڑے اور حلوہ بنایا جاتا اور کڑاہی چولہے پر رہتی پھر پکوڑے بھی گھر ہی میں بنتے، ہم نے یاد کیا اور بتایا کہ موسموں میں بہت تبدیلی آئی، لیکن اس بار مون سون(ساون) باقاعدہ پچھلے دور کی طرح ہے،جہاں قدرت کی طرف سے روزے بہتر گزرے۔ اب موسم بھی اِسی طرح گزر رہا ہے، اور آج تو موسم واقعی بہت اچھا ہے۔راناحنیف نے لقمہ دیا کہ پھر پکوڑے بنوا کیوں نہیں لیتے، ہمارا جواب تھا کہ اہلیہ کو بچھڑے چھ سال ہو چکے، اب صاحبزادی سارا کام کرتی ہے، تو اسے کم سے کم فرمائشی پروگراموں کے لئے کہا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یاد آیا کہ ایک طرف اللہ کی یہ مہربانی ہے تو دوسری طرف انہی بادلوں اور اِسی بارش نے انسان کو اس کی حیثیت یاد دلا دی ہے، پورا مُلک بارش کی لپیٹ میں ہے تو سیلاب نے بھی تباہی مچائی ہے، اللہ کو پیارے ہونے والے حاضر ہو گئے تو بے شمار مکان اور فصلیں بھی دریا بُرد ہو گئی ہیں اور ابھی بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، ایسے میں جب ایسی تباہی ہو رہی ہو تو جشن پر جی نہیں چاہتا، ورنہ تو یہ موسم آموں کی پکنک کا بھی ہے۔۔۔اس بھینی بھینی اورخوشگوار ہوا نے جلد ہی رُخ فانی انسانوں کی طرف موڑ دیا کہ اس موسم کی وجہ سے تباہی میں بھی تو انسانی نالائقی اور بے حسی ہی شامل ہے، جبکہ یہی انسان ایک ادارے میں منضبط ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بچانے کے لئے امدادی کارروائیوں کے لئے اپنی جانیں بھی تو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔

مرزا منور حسین بیگ نے حسب روایت اپنے صاحب علم ہونے کا ثبوت دیا اور پھر زمین کی ہیئت سے کرۂ ارض اور اس دُنیا میں موسموں کے تغیرات کی بات کرتے ہوئے کہا یہ سب بھی تو انسان ہی کر رہا ہے۔ جنگل کاٹ کر پہاڑ گنجے ہوں گے تو لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو گی، پھر گیسیں بناتے چلے جائیں گے، تو اوزان کی تہ کا مسئلہ بھی درپیش ہو گا۔ ان کے بقول گلیشیر بھی تو انسانی دست برد سے محفوظ نہیں ہیں اور یہ جو دُنیا میں بارود کا کھیل جاری ہے، کیا یہ موسمی تغیرات کا ذریعہ بننے کے لئے کافی نہیں ہے، پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خود ان کے دیکھتے دیکھتے شمالی پہاڑی علاقوں اور آزاد کشمیر کے جنگلات کی شامت آئی رہتی ہے۔کہیں ترقی کی نام پر رقبہ کم ہو جاتا ہے تو کہیں لکڑی چور کام دکھاتے ہیں اور پھر یہ پہاڑی لوگ اپنا چولہا جلانے کے لئے بھی تو جنگل ہی کی لکڑی کاٹتے ہیں، کٹائی تو یوں بری طرح جاری ہے، لیکن ان کے بدلے پیڑ لگانے اور ان کی دیکھ بھال کے بعد ان کو درخت بنانے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا، ایسے میں اوپر کی مٹی کے لئے رکاوٹ کیا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ تو ہو گی، کسی بھی حکومت نے اپنے دعوؤں کے مطابق پہاڑوں کی جنگلی حیات کے لئے کام نہیں کیا اور درخت لگا کر جنگلوں میں اضافہ نہیں کیا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ موسمیاتی تغیرات کے ساتھ مل کر بہت پریشانی پیدا کرے گا۔

انسانی نقصان، جبلت اور فطرت کے حوالے سے بات چلی تو پھر پکوڑے اور پکنک کہیں اور ہی چلی گئی اور بات سیاست سے گڈ گورننس تک آ گئی۔ اسے بریک اُس وقت لگی، جب رانا حنیف نے کہا تو پھر پکوڑے کون کھلا رہا ہے؟ ہماری ہنسی چھوٹ گئی کہ بات کیا ہو رہی تھی، درمیان میں کھابا ٹوٹ پڑا۔ بہرحال مرزا منور حسین بیگ نے پیشکش کر دی کہ شام کی چائے ان کے گھر پی لیں تو پکوڑے بھی ہو ہی جائیں گے۔ خواجہ طارق بھی ہماری طرح پرہیز گار ہیں، لیکن بہت بڑے ’’فوڈ شناس‘‘ اور ’’چسکا خور‘‘ بھی ہیں، انہوں نے اضافہ کر دیا کہ جلیبی بھی منگوا لی جائے، چنانچہ موسم سے شروع ہونے والی ساری گفتگو موسم پر ہی اختتام پذیر ہوئی، ہمیں تو دفتر آنا تھا اس لئے اُٹھ کر چلے آئے اب کام مکمل کرنے کے بعد ہی واپسی ہو گی، ویسے یہ حقیقت ہے کہ طویل عرصہ کے بعد آج صبح ساون نظر آیا اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے یاد دلایا کہ اسی موسم کو تو یاد گار کہا گیا، لیکن افسوس کہ انسانی ہاتھوں ہی سے اسے نقصان بھی ہو رہا ہے، انسان کو خود ٹھیک ہونا ہو گا۔ *

مزید :

کالم -