کیا خواتین مالی کرپشن کو روک سکتی ہیں

کیا خواتین مالی کرپشن کو روک سکتی ہیں
کیا خواتین مالی کرپشن کو روک سکتی ہیں

  

ہوا یوں کہ 15 مئی کو قومی احتساب بیوریو (NAB) نے ایک مقامی یونیورسٹی کے تعاون سے ایک سمینار منعقد کیا۔ عنوان سیمینار کا کچھ اسی قسم کا تھا کہ اگر خواتین مالی بدعنوانیاں ختم کرنے میں دلچسپی لیں تو معاشرے میں بڑے مثبت نتائج برپا ہو سکتے ہیں۔ اس سیمینار میں میَں بھی بطو ر ایک سپیکر مدعو تھا۔ سمینار کا عنوان جہاں دلچسپ تھا وہاں اس کے دور رس اثرات بھی تھے۔ عورت، خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہویا بیوی ہر شکل میں وہ مرد کو مالی بدعنوانی پر اُکسا بھی سکتی ہے اور اُس کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتی ہے۔ عورت بذات خود مرد کے مقابلے میں اتنی مالی بد عنوانی نہیں کرتی جتنا کہ مرد اُس قسم کے عہدے پر رہ کر رشوت کا بازار گرم کر سکتا ہے۔ میَں نے اپنے کسی سابقہ مضمون میں تحریر کیا تھا کہ شیطان کی ایک اہم خصلت ہوّس یا لالچ بھی ہے۔ اکثر ہماری خواتین نادانستہ طور پر شیطان کی اس خصلت کے چُنگل میں پھنس جاتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو مرد جو بھی کماتا ہے اُس کا زیادہ حصہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی خوشحالی اور گھر کے افراد کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وہ گھرخواہ اُس مرد کی ماں کا ہو جہاں اُس کے بہن بھائی رہتے ہوں یا اُس کاا پنا گھر ہو جس میں اُس کے بیوی بچے رہتے ہوں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ 90فیصد مرد رشوت اپنے گھر کا معیار اُونچا کرنے کے لئے لیتے ہیں بہت کم مرد ا یسے ہوتے ہیں جو محض اپنی ذاتی عیاشی اور نام و نمود کے لئے رشوت لیتے ہوں گے۔

آپ یہ دیکھئے کہ روائتی طور پر کرپشن کا روپیہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ جوں ہی میرے پاس حرام کی کمائی آتی ہے میں سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل اور اُس کی جگہ موٹر کار خریدنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر کسی محلے میں میری رہائش ہو گی اور اگر کہیں سے بڑی رشوت بھی مل گئی تو میَں کسی اعلیٰ رہائشی کالونی میں مکان خریدوں گا۔ عموماً یہ مکان اپنے نام نہیں لوں گا بلکہ ماں کے یا بیوی کے نام پر لوں گا۔ اگر میری ماں یا بیوی یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری ملازمت معمولی ہے وہ مجھ سے میری کار کا نہیں پوچھتی یا نئے پوش گھر کے بارے میں سوال جواب نہیں کرتی تو دراصل میری بدعنوانی کو اِن خواتین کی خاموش تائید حاصل ہے ۔ میرے پاس مزید حرام کا پیسہ آتا ہے۔ اَب میَں اپنے ماں باپ اور شائد بیوی کو عمرہ بھی کرواتا ہوں۔ گھر والے ثواب کمانے کے شوق میں یہ جاننا گوارہ ہی نہیں کرتے کہ برخوردار کے پاس رقم کہاں سے آرہی ہے۔ بہن کی شادی کی تیاریاں ہیں۔ شادی کا مہنگا جوڑا، مہنگا بیوٹی پارلر، معروف کیٹررز کا کھانا، اونچے درجے کا شادی ہال، مہمانوں کی بھرمار ، لمبی چوری سلامیاں اور تحائف، یہ سب اخراجات کی وہ مدیں ہیں، جس میں گھر کی خواتین کی مرضی نہ صرف شامل ہوتی ہے، بلکہ وہ گھر کے سربراہ کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ بھاری اخراجات کرے۔

اگر ہماری خواتین رسم و رواج کی تکمیل کے لئے ہوشربا اخراجات کا بائیکاٹ کر دیں ،اگر وہ اپنے مردوں کو اُن کی آمدنی سے زیادہ اخراجات کرتے دیکھیں اور پھر باز پرس کریں تو بدعنوانی بہت کم ہو سکتی ہے۔ اگر انسان کو یہ احساس ہو کہ میری بد عنوا نیاں میری ماں، بہن ، بیوی اور بیٹی کو بالکل قبول نہیں ہیں تو عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مردوں میں رشوت لینے کی ہوّس بہت کم رہ جاتی ہے۔ رشوت سے حاصل شدہ خوشحالی کو جب گھر والوں سے پذیرائی نہیں ملے گی تو رشوت لینے کی خواہش بھی آہستہ آہستہ دم توڑ دے گی۔

میَں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کتنے ہی قوانین اور محکمہ جات برائے اِنسدادِ رشوت اور بدعنوانی بنا لیں، وہ اتنے نتیجہ خیز نہیں ہوں گے جتنا کہ معاشرتی دباؤ اور خاندانی عدم تعاون کار آمد ہو گا، بدعنوانیاں ختم کرنے کے لئے پاکستان کا بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ ہماری خواتین خانہ ہوّس کا شکار ہو گئی ہیں۔ مقابلے بازی کی بیماری نے ناجائز آمدنی کے حصول کے لئے مہمیز کا کام کیا ہے۔ ناجائز آمدنی کے ذرائع بھی بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ عوام کا جتنا واسطہ آج حکومتی کارندوں سے پڑتا ہے اِتنا تعلق آج سے 50 سال پہلے نہیں تھا۔ اپنے بچپن میں ہم رشوت کے حوالے سے پولیس ، پٹواری اور چھوٹے درجے کے عدالتی اہل کاروں کانام سنتے تھے۔ اُن دِنوں یہ سوچا بھی نہ جا سکتا تھا کہ ایک ریلوے ملازم، یا سکول کا اُستاد، محکمہ خوراک، تعلیم، صحت، امدادِ باہمی ، صنعت اور کامرس کا ملازم بڑی بڑی رشوت لیتا ہوگا۔ چھوٹی موٹی ریز گاری ٹائپ کی رشوت تو اُس وقت بھی چلتی تھی، لیکن وہ رشوت معاشرے میں آج کل کی طرح اُکھاڑ پچھاڑ نہیں کرتی تھی۔ اُن دِنوں ہر ہمسائے کی ایک دوسرے پر نظر رہتی تھی۔ محلے کے بزرگ ہی غلط کار نوجوان سرکاری ملازم کو ٹوکنے کے لئے کافی ہوتے تھے۔

خرابی کی ابتدا ہوئی جب ہماری آبادی بے تحاشہ بڑھنے لگی۔ حکومتیں بہت زیادہ کاروباری شعبوں میں بھی عمل دخل رکھنے لگیں، عوام کو اپنے اکثر کاموں کے لئے حکومت کی طرف دیکھنا پڑا، زیادہ آبادی اور کم ذرائع پیداوار ہونے کی وجہ سے بیکاری پھیلی، جائز کام کروانے کے لئے بھی یا تو کسی واسطے کی ضرورت پڑنے لگی یا پھر رشوت دے کر کام چلانا پڑا، رشوت نے میرٹ (Merit) کا بیڑہ غرق کردیا۔ اہلِ اور قابل نوجوان کا جب حق مارا جانے لگا تو وہ ناجائز کمائی کی طرف لگ گیا، وہ افسروں، سیاست دانوں اور سرکاری محکموں کا دلال بن گیا۔ کم پڑھا لکھا نوجوان محرومیوں کا شکار ہو کر سیدھا سیدھا جرائم کی طرف چل پڑا۔ جرائم کی سزا سے بچنے کے لئے رشوت کا بازار مزید گرم ہوا ۔ جب کوئی معاشرہ رشوت اور مالی جرائم کو معمول کا حصہ جاننے لگے تو پھر نہ تو انسدادِ بدعنوانی کے قوانین اثر رکھتے ہیں اور نہ ہی NAB سے کوئی خوفزدہ ہوتا ہے۔

آج کے زمانے میں نِت نئے فیشنوں سے ہماری نوجوان لڑکیاں اور گھریلو خواتین بھی متاثر ہوئی ہیں۔ رشوت کا بازار زیادہ گرم ہو گیا ہے۔ ٹیلی ویژن کی سکرین پر نئے ڈیزائنوں اور رنگوں کے ملبوسات پہن کر جب ماڈلز لہراتی ہوئی کیٹ واک کرتی نظر آتی ہیں تو ہمارے نچلے متوسط طبقے کی بچیاں بھی کمزور پڑجاتی ہیں اور وہ اپنے اَبو ، بھائی یا خاوند کو فرمائشوں سے لاد دیتی ہیں ۔ کم آمدنی والے اَبو یا شوہر اپنے گھر کی خواتین کی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے ناجائز آمدنی کا سہارا لیتے ہیں۔ ہمارے پرانے معاشرے میں مالی بدعنوانی کے اِرتکاب میں روکاوٹ ہماری خواتین ہوتی تھیں ایک وجہ تو یہ کہ عورت روائتی طور پر مذہبی رجحان رکھتی ہے۔ اُسے خدا خوفی ہوتی ہے۔ رشوت کو وہ چوری کا مقام دیتی ہے۔ ابھی 60-50 سال پہلے کی بات ہے ، ہماری بچیاں سرکار ی سکولوں میں پڑھتی تھیں یا اسلامی NGO'S کے سکولوں میں جاتی تھیں جیسے لاہور میں ادبستانِ صوفیہ ، مدرستہ البنات اسلامیہ ہائی سکول وغیرہ ۔ماڈرن ناموں والے سکول ابھی نہیں آئے تھے۔بوتیک (Boutique) کا بھی رواج نہ تھا، بیوٹی پارلرز کی جگہ تبت سنو، افغان کریم یا پونڈ سنو کا چلن تھا۔ ایسے سادہ ماحول میں ہماری بچیوں کو موجودہ چمک دمک کا پتہ بھی نہ تھا۔

اُس وقت کی خاتون بڑی متوکل اور صبر شکر کرنے والی ہوتی تھی۔ ویسے بھی ابھی دُنیا میں Consumerism کی وبائیں پھیلی نہیں تھیں۔ تھوڑے پر گزارا کرنا کچھ تو دین نے سکھایا تھا اور باقی دوسری جنگِ عظیم کی راشن بندی نے سکھا دیا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپ کی دوبارہ آباد کاری (Reconstruction) کی وجہ سے سرمائے کا پھیلاؤ ہوا ۔ سرمائے نے Consumerism کو جنم دیا، لیکن یہ عفریت ابھی یورپ تک ہی محدود رہا۔ برصغیر میں 60ء کی دھائی میں صرف معاشرے کے بالائی طبقے تک رہا۔ ہماری مڈل کلاس اور غریب گھرانے 1970ء تک کافی حد تک کنزیومرازم کے حملے سے بچے رہے۔ ہماری خواتین دیسی ڈیزائن دار ملبوسات اور سادہ رہن سہن سے مانوس تھیں۔ بہت زیادہ فیشن کرنا ہوتا تھا تو انارکلی کے بانو بازار سے کوئی نیا نکور ڈایزائن دار لباس شادی کے لئے خرید لیتی تھیں۔ ابھی فرج، ائیر کنڈیشنرز اور ٹیلی ویژن بھی عام نہیں ہوئے تھے۔ گلبرگ اور شاہ جمال کی دنیا سے الگ تھلگ لاہور کی اکثر آبادی سادہ بستیوں میں رہتی تھی۔ دِل کے مچلنے کے لئے ابھی جاپانی کاریں نہیں آئی تھیں۔ روپے کی ہوّس پیدا ہوتی ہے قیمتی اشیائے صرف کو دیکھ کر۔ قیمتی رہن سہن کی خواہش ہمارے نچلے طبقے کی خواتین میں اُس وقت پیدا ہوئی جب ہمارے پاکستانی ہنر مند، کلرک اور مزدور تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک میں ملازمت کے لئے گئے۔

عرب ممالک بھی 1973ء کے تیل کے انقلاب کی دولت سے نئے نئے امیر ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے عرب دنیا مجرمانہ اسراف کی آخری حدوں کو چھونے لگی۔ ہمارے تارکینِ وطن کی بھی آنکھیں دولت کی چمک سے خیرہ ہو گئیں۔ پاکستانی جب چھٹیوں پر واپس آتے تو لاہور کی ہال روڈ، بیڈن روڈ اور مال روڈ کی دوکانوں کو امپورٹڈ Luxury اشیاء سے بھردیتے ۔ اِن اشیا کا زیادہ استعمال گھر میں ہی ہوتا تھا۔ V.C.R ، نئے نویلے ڈیزائن کے ٹیلی ویژن ، ائیر کنڈیشنرز، کراکری، کمبل، کپڑا، کھلونے اور گھریلو سجاوٹ کی اشیا سے لاہور کے چھوٹے بڑے سٹور بھر گئے۔ ہماری لوکل اِندسٹری کا بیڑہ غرق تو ہوا ہی، ہماری اِخلاقی قدروں میں بھی بگاڑ آگیا۔ ہمارے بچے ، ہماری خواتین اور ہمارے مرد اِن خوشنما مصنوعات کو حاصل کرنے کے لئے شیطانی خصلت یعنی لالچ کا شکار ہونا شروع ہو گئے۔ قلیل تنخواہوں سے تو اِمپورٹڈ چمک دمک خریدی نہیں جا سکتی تھی۔ ناجائز کمائی کے ذریعے ہی یہ تعیشات خریدی جا سکتی تھیں۔ ہماری خواتین جو توکل کی وجہ سے کسی لالچ کا شکار نہیں ہوتی تھیں، وہ بھی امپورٹڈ اشیاء کے سحر میں پھنس گئیں۔ اُنہوں نے اپنے گھر کے مرد سے ناجائز کمائی کا پوچھنا ہی چھوڑ دیااور یوں کرپشن کے خلاف جو معاشرتی بندش ہوا کرتی تھی وہ کمزور پڑ گئی۔ اَب ناجائز کمائی کرنے والے مرد کو نہ گھر کی خواتین کی پوچھ گچھ کا ڈر ہے اور نہ ہی محلے داری کا۔

دُنیا کی معتبر سماجی تنظیموں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ خواتین بطور سرکاری اہل کار اور ایڈمنسٹر یٹر زیادہ دیانتدار اور محنتی ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ ورلڈ بینک کی بھی سفارشات ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں خواتین افسران کو مالی ذمہ داریاں سونپی جائیں، کیونکہ وہ نہ صرف اپنے فرائض کو اہلیت سے سر انجام دیتی ہیں، بلکہ مالی معاملات میں بھی وہ عموماً ایماندار ہوتی ہیں۔

ahmad_manzoor@hotmail.com

مزید :

کالم -