وسطی افریقی جمہوریہ: مسلمانوں کا جبراً مذہب تبدیل کیا جانے لگا

وسطی افریقی جمہوریہ: مسلمانوں کا جبراً مذہب تبدیل کیا جانے لگا
وسطی افریقی جمہوریہ: مسلمانوں کا جبراً مذہب تبدیل کیا جانے لگا

  

ہنگوئی (ویب ڈیسک) وسطی افریقی جمہوریہ میں مسلح مسیحی ملیشیا گروپ مقامی مسلمانوں کو اپنا مذہب ترک کردینے یا مسیحیت اختیار کرلینے پر مجبور کررہے ہیں۔ یہ بات انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی کی ایک نئی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ ہنگوئی سے اے ایف پی کے مطابق یمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی یہ رپورٹ گزشتہ روز جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وسطی افریقی جمہوریہ کے مغربی حصے میں مقامی مسلمانوں کے جن آبائی علاقوں پر اب تک مسیحی ملیشیا گروپوں کو کنٹرول حاصل ہوچکا ہے، وہاں لوٹنے والے مسلمان شہریوں کو زیادہ تر یہ اجازت نہیں دی جارہی کہ وہ اپنے مذہب اور اس کی تعلیمات پر کھلے عام عمل پیرا ہوسکیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کے مغربی حصے میں اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے والے ان مسلمانوں کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ وسطی افریقی جمہوریہ زیادہ تر مسیحی تشخص والی ایک ایسی ریاست ہے، جو اس وقت سے مسلسل انتشار کا شکار ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق جب سے ملیشیا گروپوں نے ملک کے مغربی حصے سے ہزاروں مسلمانوں کو جبری طور پر بے دخل کیا ہے تب سے لے کر اب تک جو مسلمان وہاں بچے ہیں یا سینکڑوں دیگر واپس وہاں جاچکے ہیں، ان کے مذہبی تشخص کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -