اگر سکول کے زمانے میں آپ کو صنف مخالف سے بات کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتاتھا تو پریشان نہ ہوں ،سائنسدانوں نے ایسے افراد کو زبردست خوشخبری سنا دی

اگر سکول کے زمانے میں آپ کو صنف مخالف سے بات کرنے میں دشواری کا سامنا ...
اگر سکول کے زمانے میں آپ کو صنف مخالف سے بات کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتاتھا تو پریشان نہ ہوں ،سائنسدانوں نے ایسے افراد کو زبردست خوشخبری سنا دی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) سکول و کالجز میں جنس مخالف میں غیرمقبول ہونے پر طلباءو طالبات اکثر دل گرفتہ نظر آتے ہیں لیکن یہ تحقیق آنے کے بعد شاید وہ اپنی غیرمقبولیت پر خوشی محسوس کرنے لگیں۔ ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جو طلباءو طالبات سکول یا کالج میں اپنی مخالف جنس کے افراد میں غیرمقبول ہوتے ہیں ان کا جی پی اے دوسروں کی اوسطاً 0.4 بہتر ہوتا ہے اور جو لوگ جنس مخالف میں مقبول ہوں ان کے مارکس کم آتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے تحقیق کاروں نے اپنی تحقیق میں 80 سے زائد سکولوں کے 20ہزار طلباءو طالبات کی مقبولیت اور ان کی امتحانی کارکردگی کا موازنہ کیا۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ہل کا کہنا ہے کہ جو طلباءو طالبات جنس مخالف میں مقبول ہوتے ہیں وہ کلاس میں اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز نہیں کر پاتے اور نہ ہی ٹیچر کی توجہ کا مرکز بن پاتے ہیں۔ان کے برعکس جو لوگ سکول میں تنہائی کا شکار ہوتے ہیں وہ کلاس میں یکسو ہو کر ٹیچر کی بات سنتے ہیں اس لیے انہیں ٹیچر کا قرب بھی حاصل ہوتا ہے اور وہ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -