وزیر اعظم کے قافلے میں مشکوک گاڑی گھس گئی ، ٹکر مارنے کی کوشش ، حقیقت کچھ اور ہی نکلی

وزیر اعظم کے قافلے میں مشکوک گاڑی گھس گئی ، ٹکر مارنے کی کوشش ، حقیقت کچھ اور ...
وزیر اعظم کے قافلے میں مشکوک گاڑی گھس گئی ، ٹکر مارنے کی کوشش ، حقیقت کچھ اور ہی نکلی

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک )سرکاری ٹی وی کے مطابق  وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے قافلے میں نامعلوم گاڑی گھس گئی جس نے وزیر اعظم کی گاڑی کو ٹکر مارنے کی بھی کوشش کی۔ سیکورٹی اداروں نے گاڑی کو قبضے میں لے کر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا لیکن ابتدائی تحقیقات کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور پاک فضائیہ کا سابق ایئر کموڈور تھا اور وہ غلطی سے اس قافلے میں گھس گیا تھا۔ 

تفصیلات کے مطابق سرکاری ٹی وی کی جانب سے خبر دی گئی تھی کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف پر حملہ ہو گیا ہے اور ایک مشکوک گاڑی نے ان کے قافلے میں گھس کر ان کی گاڑی کو ٹکر مارنے کی کوشش کی ہے لیکن ذرائع نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گاڑی میں سوار شخص کا نام حفیظ الرحمان ہے اور وہ پاک فضائیہ کا سابق ایئر کموڈور تھا جو غلطی سے قافلے میں گھس گیا تھا ۔ حفیظ الرحمان اپنی فیملی کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور وزیر اعظم کی سیکورٹی پروٹوکول کے لیے مری سے اسلام آباد تک کا کچھ راستہ بند کیا گیا تھا جس کے باعث وہ غلطی سے قافلے میں شامل ہو گیا ۔ سیکیورٹی اداروں نے پوچھ گچھ کے بعد حفیظ الرحمان کو جانے کی اجازت دے دی ۔ 

دوسری جانب سرکاری ٹی وی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اپنی فیملی کے ہمراہ مری سے اسلام آباد آ رہے تھے کہ سفید رنگ کی پراڈو گاڑی ان کے قافلے میں گھس گئی جس نے وزیر اعظم کی گاڑی کو ٹکر مارنے کی کوشش بھی کی ۔ اس ممکنہ حملے کے بعد سیکورٹی اداروں میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے فوری طور پر گاڑی کو اپنے قبضے میں لے کر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ۔

ابتدائی طور پر یہ بھی بتایا گیا تھا کہ حفیظ الرحمان نے پہلے خود کو ایئر فورس کا سابق افسر بتایا لیکن پھر اپنے بیان سے بدل گیا ۔ ابتدائی تحقیقات میں گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلیہونے کی خبر بھی دی گئی تھی لیکن ساتھ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ  گاڑی سے کوئی مشکوک چیز برآمد نہیں ہوئی ۔   سیکورٹی اداروں نے اس ڈرائیور کو حراست میں لے کر تحقیقات کو آغاز کر دیا تھا لیکن ابتدائی تحقیقات کے بعد ان کو جانے کی اجازت دے دی ہے ۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم پاکستان کو پیش کر دی گئی ہے ۔ 

واضح رہے وزیر اعظم نوزاز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز اوور اہلیہ کلثوم نواز ، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر سمیت بھتیجے اور دیگر اگراد  بھی موجود تھے جبکہ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی فیملی سب خیریت سے ہیں ۔دوسری جانب وزیر اعظم کی سیکورٹی پر معمور افسران اور پروٹول کے اہلکاروں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے ۔ یاد رہے وزیر اعظم کے قافلے میں گاڑی گھس جانے کے بعد سرکاری ٹی وی کی جانب سے حملے کی خبر دی گئی تھی ۔ 

مزید :

قومی -اہم خبریں -