سیاسی اور عسکری قیادت کے متفقہ فیصلے

سیاسی اور عسکری قیادت کے متفقہ فیصلے
 سیاسی اور عسکری قیادت کے متفقہ فیصلے

  

ماضی میں سوبلین حکومتوں اور عسکری قیادتوں کے مابین تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے جس کا خمیازہ ملک کو قومی، سیاسی اور معاشی مسائل کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔ جمہوریت کے مستحکم نہ ہونے کی بھی بہت سی وجوہات تھیں، جن میں ملکی کے علاوہ غیر ملکی عوامل بھی کار فرما رہے اور اس کا نقصان بھی پاکستانی عوام اُٹھاتے رہے ۔ جب سے موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے، ملک و قوم کو درپیش مسائل مفاہمت اوریکجہتی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ افغانستان میں روس کی امریکہ اور اتحادیوں کے ہاتھوں شکست کے بعد خطے کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا، اُن میں دہشت گردی سرفہرست ہے، جِس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اُٹھایا ۔ سُپر طاقتوں کے مفادات کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کو استحکام نہ مل سکا ۔ یہ قدرت کی طرف سے ایک تحفہ تھا کہ پاکستان کو وزیر اعظم محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی صورت میں دو ایسی محب وطن قیادتیں ملیں، جنہوں نے عالمی مفادات سے ہٹ کر ملک کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں سوچا اور اِن مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے قومی مفاہمت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور غیر ملکی عناصر کی پاکستان مخالف کارروائیوں کو ختم کرنے کے لئے مشترکہ طور پر کوششیں شروع کیں ۔

حکومت، افواج پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل ترتیب دیا، جِس کے تحت ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے، امن و امان کی بحالی کے لئے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کا آغاز کیا گیا۔ اس پلان پر عمل درآمد کامیابی سے جاری ہے اور اس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسی لعنت کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایپکس کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن کے زیر نگرانی صوبوں میں ملک دشمنوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، خصوصاً کراچی اور بلوچستان میں امن وامان بحال کرنے کے لئے بھر پور کوششیں کی جاری ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی اور بلوچستان میں امن وامان قائم کر دیا گیا ہے اور رہے سہے شر پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔ یہ سب سیاسی اور عسکری قیادت کے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے ممکن ہوا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے اور باہمی مشاورت کے ساتھ ملک کوپُر امن بنانے کے لئے کوششیں جاری ہیں، جِس کا اظہار دونوں قیادتوں کی جانب سے اکثر بیانات کی صورت میں بھی سامنے آتا رہتا ہے ۔

بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ملک اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور ملک کو پھر سے پُر امن اورخوشحال پاکستان بنانے کے لئے جو کوششیں جاری ہیں اُن کو ثبوتاژ کرنے کے لئے چند عناصر منفی سوچ ، بے بنیاد اور من گھڑت پراپیگنڈہ کر رہے ہیں اور سیاسی اور عسکری قیادت میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس پراپیگنڈے کا نہ تو پہلے عسکری اور سیاسی قیادت پر اثر ہو ا ہے اور نہ اب ہو گا ۔آپریشن ضرب عضب کے دوران بہت سی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، اِن کامیابیوں پر عوام ، افواج پاکستان ، سیکیورٹی ایجنسیاں ، قومی اداروں اور سیاسی قیادت کے ممنون ہیں ،جن کی کوششوں سے پاکستان آج پھر سے امن کا گہوراہ بن گیا ہے، دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور افغانستان کی سرحد پر سخت اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ دہشت گرد اور شرپسند عناصر پھر سے پاکستان میں یہ کارروائیاں شروع نہ کر سکیں۔ پانچ جولائی 2013ء کو چین اور پاکستان نے 46ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی منظوری دی ۔ اس منصوبہ کے تحت بحرۂ عرب پر واقع پاکستان کی گوادر بندر گاہ کو چین کے شہر کا شغر سے ملانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔ 24دسمبر 2013ء کو چین نے کراچی میں 1100میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دو ایٹمی ری ایکٹر لگانے کا وعدہ کیا ، جن پر لاگت کا تخمینہ ساڑھے چھ بلین ڈالر ہے اور یہ فنڈز چین فراہم کرے گا ۔ 2014ء میں چین کے وزیراعظم نے پاکستان میں توانائی ، بنیادی ڈھانچے اور گوادر بندرگاہ کی توسیع کے لئے بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جبکہ ابتدائی طور پر پندرہ سے بیس بلین ڈالر کے منصوبوں، جن میں لاہور کراچی موٹروے، گوادر بندر گاہ کی توسیع اور تونائی کے بڑے منصوبے، جن میں گڈانی اورر تھر کول فیلڈ کے نزدیک توانائی کے چھ منصوبے لگانے کی ابتدا کی گئی ۔ اسی دوران صدر پاکستان ممنون حسین نے چین کا پہلا سرکاری دورہ بھی کیا، جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے 9سے 11اپریل تک باؤ فورم برائے ایشیامیں شرکت کی ۔صدر پاکستان نے دوبارہ چین کا دورہ کیا اور سیسا (CICA)کا نفرنس 2014 ء میں شر کت کی ۔ 22 مئی 2014 ء کو حکومت پاکستان اور چین کے مابین لاہور میں 27.1کلومیٹر لمبے لاہور میٹرو ٹرین پروجیکٹ جس پر لاگت کا تخمینہ 1.27بلین ڈالرہے کے معا ہدے پر دستخط ہوئے نو مبر 2014ئمیں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے چین کا ایک اور دورہ کیا، اس دورے کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت 19معاہدوں پرد ستخط ہوئے، جس کے تحت چین پاکستان میں مختلف منصوبوں پر 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا ۔

20اپریل 2015ء کو چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، چین کے صدر کا نو سال بعد پاکستان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا ۔ اس دورے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت 51 یادواشتوں پر دستخط ہوے ۔اقتصادی تعلقات کے علاوہ چین نے ہر بُرے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ 2005ء میں چین میں زلزلہ اور 2008ء میں پاکستان میں زلزلہ کے وقت دونوں ملکوں نے وسائل سے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی ۔ چین نے 2008ء کے زلزلہ میں پاکستان کے لئے 6.2ملین ڈالر کی امداد فراہم کی، جبکہ ڈیڑ ھ لاکھ کے قریب کمبل، 3380خیمے و دیگر سامان فراہم کیا گیا، جس کی مجموعی مالیت 20.5ملین ڈالر ہے اسی طرح چین میں مئی 2008ء میں زلزلہ آیا تو حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے خیمے، کمبل اور جان بچانے والی ادویات بھیجیں۔ 2010ء کے سیلاب میں نقصانات کے ازالہ کے لئے چین نے پاکستان کو 250ملین ڈالر کی امداددی ،یہ کسی بھی ملک کی طرف سے پہلی مرتبہ اتنی بڑی امداد تھی ۔

معیشت کی بحالی کا مختصراً جائزہ لیا جائے تو حکومتی کو ششوں سے بجٹ خسارے کو کم کرکے 5.3 فیصد تک لایا گیا ہے۔ افراطِ زر کی شرح کم ہوکر 4.53 فیصد رہ گئی ہے۔ زرعی قرضوں میں تقریباً 516 ارب کا اضافہ کیا گیا ہے، قومی سطح پر منصوبوں پر 428 ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں، قومی شرح نمو اب پھر سے 4.24فیصد تک پہنچ گئی ہے فی کس سالانہ آمدنی 1513 ڈالر تک بڑھ گئی ہے۔ سٹاک مارکیٹ نئی حدوں کو چھو رہی ہے، شرح سود گزشتہ 42 سالوں میں کم ترین سطح پر ہے۔ ٹیکس و صولیوں میں تقریباً9 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر21ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈہے۔ سکوک بانڈز اورتھری جی اورفورجی کی نیلامی سے بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ معاشی صورت حال میں یہ بہتر ی، گزشتہ سیلابوں ، ضرب عضب آپریشن، نیشنل ایکشن پلان اور بھاری غیر ملکی ادائیگیوں کے باوجود دیکھنے میں آرہی ہے۔ توانائی کے بڑے بڑے منصوبے شروع کئے گئے ہیں، جن کی تکمیل سے 2018ء کے آخر تک لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، بلکہ دس سے بارہ ہزار میگا واٹ تک اضافی بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔ یہ سب حکومت کی معاشی اصلاحات اور وزیراعظم کے معاشی وژن کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔

مزید :

کالم -