اے شہر یار، تُو بھی کچھ اپنا حساب دے

اے شہر یار، تُو بھی کچھ اپنا حساب دے
 اے شہر یار، تُو بھی کچھ اپنا حساب دے

  



پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے پر اسلام آباد میں ’’جشن‘‘ منایا۔انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مخصوص انداز میں اپنے مدمقابل اور مخالفین کو للکارا،اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ(عمران خان)کس قسم کی اونچی فضاؤں میں اُڑ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ’’تیار رہو،نواز شریف کو نااہل قرار دلوانے کے بعد اب تمہاری باری ہے!‘‘ انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو خبردار کیا ’’ کچھ بھی کر لو، تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔وغیرہ وغیرہ‘‘۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان (جنہیں ان کی پارٹی کے لوگ ’’کپتان‘‘ بھی کہتے ہیں) نے اونچی فضاؤں سے کچھ وعدے بھی کئے ہیں۔ یہ وعدے انہوں نے خود کو مستقبل کا وزیراعظم سمجھتے ہوئے قوم سے کئے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ ایسی اصلاحات لاؤں گا کہ خوشحالی کا دور ہو گا اور زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔یہ وعدہ بھی کیا کہ مُلک میں جتنے بھی گورنر ہاؤس ہیں،اُنہیں پارکوں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

جہاں تک آصف علی زرداری کو مخاطب کر کے عمران خان نے اپنے ’’پُرعزم‘‘ ہونے کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے، اُس پر یہ مصرع بے ساختہ یاد آتا ہے۔۔۔ اب جگر تھام کے بیٹھو،میری باری آئی‘‘۔ پُرعزم عمران خان نے جس انداز سے آصف علی زرداری کو للکارا ہے، اس حوالے سے اس مصرعے کے کچھ الفاظ تبدیل کرنا پڑتے ہیں ’’اب سنبھل کر بیٹھو، تیری باری آئی!‘‘دراصل عمران خان جلد از جلد اس مرحلے تک پہنچنا چاہتے ہیں، کہ( گلیاں ہو جان سُنجیاں، وچ عمران خان پھرے) (گلیاں سنسان ہو جائیں اوران میں صرف عمران خان پھرتا ہوا دکھائی دے)۔گزشتہ دِنوں وہ ایک ٹی وی چینل پر ہمارے دیرینہ دوست سہیل وڑائچ کو انٹرویو دے رہے تھے تو اس انداز سے گفتگو کر رہے تھے، جیسے کسی بھی وقت وہ ’’وزیراعظم‘‘ بن جائیں گے۔اسی کیفیت میں وہ کہہ رہے تھے کہ مَیں وزیراعظم ہاؤس میں رہنے کی بجائے کسی چھوٹے گھر میں رہنا پسند کروں گا‘‘۔،یعنی اربوں روپے سے بنائے گئے وزیراعظم ہاؤس میں رہنے کو وہ عیاشی قرار دے رہے تھے۔عمران خان ویسے بھی خود کو سادگی پسند کہتے ہیں،لہٰذا وسیع و عریض وزیراعظم ہاؤس انہیں پسند نہیں ہے۔ انٹرویو کے دوران وہ بار بار کہہ رہے تھے، ہم یہ کریں گے، ہم وہ کریں گے! یہ کہتے ہوے وہ کسی دولہے کی طرح ’’شرما‘‘ بھی رہے تھے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ عمران خان اپنے سیاسی کیریئر میں ’’وزیراعظم‘‘بنتے بھی ہیں یا نہیں۔ایک خاتون آسٹرالوجسٹ نے اُنہیں کہا تھا کہ عمران خان جب شادی کریں گے تو وزیراعظم ہاؤس کے دروازے اُن کے لئے کھل جائیں گے۔ خاتون سمیعہ خان نے پیش گوئی ریحام خان کو طلاق دیئے جانے کے بعد کی تھی، یعنی عمران خان کی تیسری شادی اُنہیں اقتدار میں لائے گی۔اِسی طرح آصف علی زرداری کے پیر صاحب پیر اعجاز حسین نے کہا تھا، مجھے معلوم ہے، عمران کے وزیراعظم بننے میں کیا رکاوٹ ہے۔ عمران خان میرے آستانے پر تین بار حاضری دیں،مَیں اُنہیں وزیراعظم بنا دوں گا۔ابھی تک عمران خان نے تیسری شادی نہیں کی اور آصف علی زرداری کے پیر صاحب کے آستانے پر حاضری بھی نہیں دی لہٰذا اُن کے وزیراعظم بننے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ گزشتہ ہفتے ہمیں ایک پارک میں جانے کا اتفاق ہُوا۔چھ سات نوجوان آپس میں مستی کر رہے تھے۔ ایک نوجوان نجومی بنا ہوا تھا، جس نے اپنے ساتھی کو عمران خان بنارکھا تھا۔ اس کا ہاتھ دیکھتے ہوئے ’’نجومی‘‘ نے پیش گوئی کی کہ جتنے بھی سیاست دان اس وقت سیاست کے میدان میں ہیں،ان میں سے ہر سیاستدان وزیراعظم بن سکتا ہے،لیکن عمران خان تم کبھی وزیراعظم نہیں بن سکو گے، کیونکہ تمہارے ہاتھ میں اقتدار کی لکیر ہی نہیں۔ خواہ مخواہ ٹکریں مارنے اور خواب دیکھنے کا کیا فائدہ؟

بات ہو رہی تھی کہ عمران خان نے مدمقابل اور مخالف سیاسی رہنماؤں کو للکارا ہے اور وزیراعظم کی حیثیت سے قوم کے ساتھ کچھ وعدے بھی کئے ہیں۔ ہزاروں خواہش ایسی، کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔ ہر کسی کو خواہش پالنے کا حق ہے عمران خان پر پابندی کیسے لگائی جا سکتی ہے۔ البتہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ مصرع ذہن میں آجاتا ہے۔۔۔ ہزاروں لغزشیں ہیں، لبوں تک جام آنے میں۔ عمران خان کے خلاف کئی کیس عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ نواز شریف کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے نااہل کیا تو یار لوگوں نے اپنے اپنے ذہن اور اندازے کے مطابق کہنا شروع کردیا کہ عمران خان کو بھی نااہلی کا صدمہ برداشت کرنا ہوگا۔ اصل صورتِ حال تو عدالتی فیصلے کے بعد ہی سامنے آئے گی، لیکن عمران خان کو یار لوگوں نے یہ پیغام دے دیا کہ وہ بھی نااہل ہوسکتے ہیں۔ فرض کریں، عدالت نے عمران خان کے خلاف فیصلہ دے دیا تو پھر یہ ساری خواہشیں اور وزیراعظم بننے کے خواب کیسے پورے ہوں گے؟تمام پلاننگ تو دھری کی دھری رہ جائے گی۔لہٰذا اتنا تیز نہ چلیں۔ مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔

ابھی عمران خان کی للکار اور ’’قوم‘‘ سے کئے گئے وعدوں کی گونج باقی تھی کہ باغی جاوید ہاشمی نے قسم کھا کر بیان دیا کہ وہ (جاوید ہاشمی) تحریک انصاف میں تھے تو عمران خان کی پلاننگ کیا تھی اور ان کا ایجنڈا کیا تھا۔ یہ بھی بتایا کہ عمران خان کے بقول، جسٹس آصف کھوسہ نے انہیں کہا کہ اپنا کیس میرے پاس لے کر آؤ۔ یہ کیا بات ہوئی۔ ایسے جج کو تو جوڈیشل کونسل میں لے کر جانا چاہئے‘‘۔ یہ بات کہاں تک درست ہے، اس بحث میں پڑے بغیر جاوید ہاشمی کے اس انکشاف پر عمران خان نے جو کہا، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے ہر الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے جاوید ہاشمی پر اپنے ’’احسان‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ ’’جاوید ہاشمی نے ٹکٹوں کے پیسے وصول کئے تھے، ثبوتوں کے ساتھ رپورٹ مجھے دی گئی، لیکن مَیں نے وہ رپورٹ دبا لی‘‘۔ جہاں تک ’’احسان‘‘ کی بات ہے تو اس میں شک نہیں کہ عمران خان جیسا بااصول شخص اگر ٹکٹوں کے پیسے لینے کی رپورٹ دبا لیتا ہے تو جاوید ہاشمی پر احسان تو کیا گیا تھا۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مذکورہ رپورٹ کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے ٹکٹوں کے پیسے لینے پر جاوید ہاشمی کی رشوت خوری اور کرپشن کی مذمت ہوتی اورجاوید ہاشمی کو پاکستان تحریک انصاف سے نکالنے کا اعلان کیا جاتا، لیکن اصول پسند اور کرپشن کے سخت مخالف عمران خان نے ترس کھا کر جاوید ہاشمی کو بدستور اپنا بایاں بازو بنائے رکھا۔ انہیں سب ساتھیوں سے زیادہ عزت دیتے رہے۔ جاوید ہاشمی سے ’’دوستی‘‘ نبھائی۔ اس ’’احسان‘‘ پر تو عمران خان کو ایوارڈ یا گولڈ میڈل دیا جانا چاہئے۔ عمران خان نے ثابت کیا کہ وہ اپنی پارٹی کے ساتھیوں کی کرپشن کو چھپاتے رہتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی سے لے کر تازہ تازہ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی خاتون رہنما فردوس عاشق اعوان تک سبھی کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جائے گا۔ (جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان، پرویز خٹک اور دیگر رہنماؤں کے حوالے سے بات کی جاتی رہی ہے کہ وہ مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ہیں)، کیونکہ جو ’’لیڈر‘‘ اپنے ساتھی جاوید ہاشمی پر ’’احسان‘‘ کرسکتا ہے، وہ پارٹی کے دوسرے ساتھیوں میں سے کسی پر بھی ’’مہربان‘‘ ہوکر اس کی کرپشن چھپا سکتا ہے۔ عمران خان نے خود ہی ’’دوست نوازی اور فیورٹ ازم‘‘ کا اعتراف کیا ہے ان کے اس ’’اعترافِ جرم‘‘ پر کون ہے جو سزا دے سکتا ہے۔ جہاں تک اخلاقیات کی بات ہے، تو سیاست میں اس کا جنازہ کچھ اس طرح نکل چکا ہے کہ اس کا ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ عمران خان خود ہی اپنے ’’احسان‘‘ یعنی دوست نوازی اور فیورٹ ازم کے حوالے سے اپنے لئے کوئی سزا تجویز کرلیں۔ یار لوگ ان کے اس ’’اعتراف جرم‘‘ پرآئین کے آرٹیکل 63,62 کے نفاذ کا مطالبہ نہ کرنے لگیں۔ ایسا نہ ہوکہ عمران خان کے خلاف ایک اور کیس زیر سماعت لانے کے لئے سپریم کورٹ کا نیا بنچ تشکیل دے دیا جائے! پھر یار لوگ انہیں یہ کہہ کر چھیڑیں گے۔۔۔اے شہریار، تو بھی کچھ اپنا حساب دے!

مزید : کالم