پاکستان اللہ کی نعمت،ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے،ابراہیم طاہر

پاکستان اللہ کی نعمت،ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے،ابراہیم طاہر

  



لاہور ( جنرل رپورٹر) پاکستان مسلمانان برصغیر کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ اس کی وجہ سے ہی ہم اس قابل ہوئے کہ آزاد فضا میں سانس لے سکیں، لہٰذا ہمیں اس نعمت خداوندی کی قدر کرنی چاہئے ان خیالات کا اظہار تحریکِ پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن میاں محمد ابراہیم طاہر نے ایوان کارکنان تحریکِ پاکستان لاہور میں 71 ویں سال آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ لیکچر کے دوران طلبا و طالبات سے خطاب میں کیا۔ اس لیکچر سیریز کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا ہے۔میاں محمد ابراہیم طاہر نے کہا کہ میرا تعلق ریاست کپور تھلہ سے تھا۔ میں نے سات آٹھ برس کی عمر میں ہی تحریکِ پاکستان میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ جب پاکستان بنا تو میری عمر چودہ برس تھی۔ تحریک پاکستان کے دوران ہم طالب علموں نے اپنے سکول میں ’’بچہ مسلم لیگ‘‘ بنائی ہوئی تھی جس کے تحت ہم گلی کوچوں میں جلوس نکالتے تھے اور ’’بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کے نعرے لگاتے تھے۔ جلوس نکالتے وقت ہم سبز اور سفید رنگ کا لباس پہنا کرتے تھے۔ میں نے پہلی مرتبہ قائداعظمؒ کو تب دیکھا جب وہ جالندھر تشریف لائے۔ میں نے اپنے والد سے ضد کی کہ مجھے قائداعظمؒ سے ملوانے کے لئے ریلوے اسٹیشن لے کر چلیں۔ چنانچہ وہ مجھے اپنے کندھوں پر سوار کر کے وہاں لے گئے۔ قائداعظمؒ کے استقبال کے لئے مسلمانوں کا جم غفیر وہاں موجود تھا تاہم ہمیں دیکھ کر انہوں نے میرے والد کو اشارے سے اپنے قریب بلایا اور مجھے تھپکی دی۔ قائداعظمؒ کے ہاتھ کا لمس آج بھی میرے ساتھ ہے اور میں اسے اپنی زندگی کی بہت بڑی سعادت تصور کرتا ہوں۔ میاں محمد ابراہیم طاہر نے مزید کہا کہ کپور تھلہ میں ہزاروں مسلمان قتل ہوئے اور لاتعداد بچیوں کو اغواء کیا گیا۔ میں اس وقت باشعور تھا اور میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آخر میں میاں محمد ابراہیم طاہر نے طلبا و طالبات کے سوالوں کے جواب دیئے۔

ابراہیم طاہر

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...