سرکاری کالجوں میں داخلے کے مسائل

سرکاری کالجوں میں داخلے کے مسائل

  



ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری کالجوں میں محدود نشستیں ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں طالب علموں کو پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لینا پڑ رہا ہے۔پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لینے کے باعث طالب علموں کے والدین کو بہت زیادہ مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔اِس مرتبہ میٹرک کے امتحانات میں کامیابی کے نتائج75فیصد رہنے سے سرکاری کالجوں میں انٹرمیڈیٹ داخلے کی شرح میں خاصا اضافہ ہوا ہے،جبکہ سرکاری کالجوں میں گزشتہ برسوں میں کئے گئے فیصلے کے مطابق نشستوں کی تعداد محدود ہے۔اس صورتِ حال نے طالب علموں کے والدین کو پریشان کر رکھا ہے۔ اِس مسئلے کے حوالے سے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ فوری طور پر سرکاری کالجوں کی نشستوں میں اضافہ کرنا ممکن نہیں،البتہ کالجوں میں ایوننگ کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اِس بارے میں ہنگامی طور پر انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ یہ پریشان کن مسئلہ اِس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ اس مرتبہ دو لاکھ32ہزار سے زائد طالب علموں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا،ان میں سے ایک لاکھ74ہزار سے زائد طلباء اور طالبات نے کامیابی حاصل کی۔اتنی بڑی تعداد میں سرکاری کالجوں میں داخلے کی کوئی گنجائش نہیں۔کلاسز میں گنجائش سے زیادہ طالب علموں کو بٹھانے کا فوری بندوبست نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اضافی کلاسز کے لئے لیکچررز دستیاب ہیں۔

جن طالب علموں کو سرکاری کالجوں میں داخلہ نہیں ملا،وہ پرائیویٹ کالجوں میں داخلہ لینے پر مجبور ہیں، ان کالجوں کی مہنگی فیسیں والدین کے لئے بہت بڑا مالی بوجھ ہے۔اس وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں،جہاں تک محکمہ تعلیم کی طرف سے مارننگ شفٹ کے ساتھ ساتھ ایوننگ کلاسز شروع کر کے یہ مسئلہ حل کرنے کی بات ہے تو اِس کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا، کیونکہ ایوننگ شفٹ کے لئے ٹیچرز اور دیگر سٹاف موجود نہیں، جو طالب علم سیکنڈ شفٹ میں داخلہ لیں گے، اُن کے لئے مختلف سبجیکٹس کے لیکچررز نہ ہونے سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکے گا۔والدین نے اِس مسئلے کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اُن کے بچوں کا تعلیمی سال متاثر نہ ہو۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ محض ہنگامی فیصلہ کر کے ہدایات جاری کر کے مطمئن ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے،بلکہ تمام ضروری سہولتوں کو یقینی بنایا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اگلے ایک ماہ میں تمام انتظامات مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔آئندہ برسوں میں طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر صبح کی شفٹ میں طالب علموں کی تعداد میں اضافے کی پیشگی منظوری دی جائے،جبکہ شام کی کلاسز میں لیکچرز اور دیگر سٹاف کی بھرتی کا کام احسن طریق سے مکمل کیا جانا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ