سوشل میڈیا کا تدارک، ذمہ دارانہ آزاد صحافت؟

سوشل میڈیا کا تدارک، ذمہ دارانہ آزاد صحافت؟
سوشل میڈیا کا تدارک، ذمہ دارانہ آزاد صحافت؟

  



انتخابات کو ایک ہفتہ ہوگیا، تحفظات کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں، ہارنے والے تو الزام لگا ہی رہے ہیں، جیتنے والے بھی مطمئن نہیں اور ایک شور سا ہے یہ سلسلہ اس وقت تک تو بہرحال جاری رہے گا جب تک اسمبلیوں میں حلف برداری اور پھر قائد ایوان کے انتخابات مکمل نہیں ہو جاتے، زمینی حقائق اور معروضی حالات کے مطابق اسمبلیوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، اس حوالے سے بہت کچھ کہنے اور لکھنے کے لئے ہے۔

مگر میں رجائیت پسند ہونے کے باوجود کچھ زود حس سا ہوگیا ہوں کہ میں ملکی حالات کو دل کی آنکھوں سے بھی دیکھ رہا ہوں، فکر مند ہوں کہ میرے پیارے ملک پاکستان کو کسی کی نظر لگ گئی ہے کہ یہاں مفادات اولیت اختیار کرچکے اور انداز فکر قومی سے انفرادی ہوگیا ہے، سیاست کے لئے بہت کچھ ہے، بعض اندرونی اطلاعات بھی ہیں، جی تو چاہتا ہے کہ قارئین سے بات کرلی جائے لیکن آج ایک اور انتہائی اہم ترین مسئلہ ذہن کو اتھل پتھل کررہا ہے اور ان حالات میں شاید معروضی سیاسی حالات سے انصاف نہ کر پاؤں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی اور زیر زمین بہت کچھ ہے جو آگے چل کر ہونے والا ہے، جو مسئلہ مجھے تنگ کررہا ہے وہ خود میرے اپنے شعبہ اور پیشہ سے متعلق ہے جس میں میری عمر بیت چلی ہے، میں نے یہ شعبہ ایوب خان کے دور میں اختیار کیا،اس کے بعد یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لائی ادوار دیکھے، درمیان میں ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، محمد نواز شریف، بے نظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کا زمانہ بھی دیکھا اور اب عمران خان کی باری ہے تو بشرط صحت و زندگی یہ بھی دیکھ ہی لوں گا۔

یہ سب عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی آمرانہ، جمہوری یا نیم جمہوری دور میں صحافت کو ان معنوں میں آزاد نہیں دیکھا جس کے لئے میں اپنے راہنماؤں کی قیادت میں جدوجہد کرتا رہا، طویل تاریخ ہے، اس میں بے روز گاری، قید و بند اور تشدد برداشت کرنا بھی شامل ہے لیکن کبھی کار کن صحافی کو وہ آزادی نہیں ملی جس کا وہ حق دار ہے، میں ذاتی اور تنظیمی طور پر کبھی بے لگام آزادی کے حق میں نہیں رہا، بلکہ ہم تو ذمہ دارانہ آزاد صحافت کے لئے جدوجہد کرتے رہے جو کبھی حاصل نہیں ہوئی، آج تو یوں بھی مشکل ترین حالات سے گزر رہے ہیں۔

میں طویل غورو فکر کے بعد بہت پریشان ہوں کہ اگر ملک میں ذمہ دارانہ اور آزاد صحافت نہ ہوئی تو کیا ہوگا کہ سوشل میڈیا بے لگام ہوچکا، اب کوئی بات چھپ بھی نہیں سکتی، اگر ذمہ دار، باوقار اور آزاد صحافت نہ ہوئی تو سوشل میڈیا ملک کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگا یوں بھی ملکی میڈیا پر سے عوامی اعتماد کم ہوتا چلا جارہا ہے، اس میں خود میرے اپنے بھائیوں، دوستوں ہی کا قصور ہے جو صحافی سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے کارکن ہوچکے،کبھی میں بھی رائٹ اور لیفٹ کی کشمکش والے دور میں تھا اور سخت مشکل دور سے بھی گزرا ہوں کہ میرے عقیدے اور مسلک پر بھی حملہ ہوتا تھا اور فتوے بھی جاری ہوتے تھے لیکن آج تو صورت حال ہی مختلف ہے کہ یہاں رائٹ، لیفٹ کی بجائے مفاد پرستی نظر آرہی ہے اور لیفٹ والے رائٹ اور رائٹ والے لیفٹ جیسے خیالات اور نظریات پیش کرکے محفوظ و مامون رہتے اور بہت سے کارکنوں کا حق مار کر خود بہت کچھ حاصل کررہے ہیں، ان کی شان ہی نرالی ہے۔

بہر حال اس سے غرض نہیں، یہ بھی ایک موضوع ہے اور ذرا الگ سا ہے، جس پر بات ہو بھی ہو سکتی اور گریز بھی کیا جاسکتا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا بے لگام ہے، اس پر قابو بھی نہیں پایا جاسکتا، میڈیا کو کنٹرول کرسکتے ہیں، کیا بھی جارہا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر تو غلط سلط سب کچھ چل رہا ہے، بے ہودگی، توہین اور کچھ درست واقعات کو غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے، یہ مان لیا کہ سوشل میڈیا کا دائرہ محدود ہے لیکن یہ اتنا بھی کم نہیں کہ متاثر نہ کرے، جو کچھ اس پر ہوتا ہے وہ افواہوں کا ذریعہ بھی بنتا ہے، میڈیا کے لئے جو مقدس گائے ہے وہ سوشل میڈیا کے لئے ناپاک شے ہے اور میڈیا کو جن امور اور واقعات سے پرہیز اور گریز کرنا پڑتا ہے، ان کو سوشل میڈیا پر وائرل کرکے غلط مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، افواہوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور یہ سب قومی سلامتی کے لئے مناسب نہیں۔

میرے نزدیک اس کا واحد حل ذمہ دارانہ قومی صحافت اور آزادی صحافت ہے کہ جو دیکھا جائے اسے عوام کے سامنے درست اور قومی مفاد کی روشنی میں پیش کیا جائے، تجزیئے اور رائے بھی سیاست نہیں، ذاتی مفاد نہیں بلکہ قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کر دیانت داری سے پیش کی جائے، پیشگی معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ آج کل فاضل جج صاحبان، حساس اداروں اور مسلح افواج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو زبان اختیار کی جاچکی ہے وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں کہی جاسکتی اس کو روکا بھی تو نہیں جاسکتا ہے، میرے نزدیک بہتر حل آزادی صحافت ہے اور میں اس پر زور دیتا ہوں کہ قومی پریس میں صحیح خبر اور درست انداز ہی معتبر ہو کر اس کا ازالہ کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں میری ذاتی تجویز ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ مفادات کو بالائے طاق رکھ کر سی۔ پی۔ این ای، اور اے۔ پی۔ این۔ ایس والی تنظیمیں باقاعدہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور تمام حالات اور واقعات پر غور کرکے ایسا لائحہ عمل مرتب کریں کہ قومی مقصد حاصل ہوسکے اس سلسلے میں ذاتی اختلافات کو بھی بالائے طاق رکھنا ہوگا اور تاخیر مناسب نہیں ہوگی، پی۔ ایف۔ یو۔ جے میرے جسم کا حصہ تھی، اس کا میں نے جان بوجھ کر نام نہیں لیا کہ کس دھڑے کا ذکر کروں، میری پی، ایف، یو، جے تو کہیں کھو گئی ہے، یوں بھی اگر سی۔ پی۔ این۔ ای اور اے۔پی۔ این۔ ایس والے اختلافات بھلا کر بیٹھ جائیں تو پی۔ ایف۔ یو۔ جے بے چاری کا کیا، ہر دھڑا کسی نہ کسی آجر ہی کا تو ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...