پنجاب میں گڈ گورننس: تحریک انصاف کا بڑا امتحان

پنجاب میں گڈ گورننس: تحریک انصاف کا بڑا امتحان
پنجاب میں گڈ گورننس: تحریک انصاف کا بڑا امتحان

  



اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) پچھلے دس سال پنجاب میں بلا شرکت غیرے راج کرنے کے بعد اس بار حکومت نہیں بنا پائے گی۔ اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود وہ آزاد ارکان کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام رہی اور وہ سب پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔

اصل میں فضا ایسی نہیں کہ مسلم لیگ (ن) آزاد ارکان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ پنجاب کا تخت لینے کے لئے ساتھ ملا سکے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) نے اُس کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا۔

یہ بات مسلم لیگ (ن) کے قائدین اور ممبران کے لئے بالکل انہونی ہے۔ اقتدار میں رہنے والی پارٹیوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن بھول جاتی ہیں۔ پنجاب کے بارے میں تو کبھی مسلم لیگ (ن) نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ہاتھ سے نکل جائے گا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شہباز شریف نے دس سالہ اقتدار میں پنجاب پر توجہ دی بھی نہیں، اُن کا سارا زور لاہور کو بنانے سنوارنے پر صرف ہوتا رہا۔ پھر بھی لاہور نے انہیں کلین سوئپ نہیں کرنے دیا۔

انہوں نے لاہور سے ہٹ کر پورے پنجاب پر توجہ دی ہوتی تو کم از کم صوبے میں اُن کے اقتدار کا سورج غروب نہ ہوتا۔ اب نئی حکومت آئے گی اور حکمرانی کے نئے اطوار متعارف کرائے گی تو تب اندازہ ہوگا کہ شہباز شریف کی گورننس اچھی تھی یا بُری؟ اُن کی حکومت کے بارے میں صاف پانی کیس، 56کمپنیوں اور خاص افسروں کو نوازنے کے جو شواہد سامنے آچکے ہیں، وہ اُن کے طرز حکمرانی پر پہلے ہی سوالات اُٹھا گئے ہیں۔

میں ان دس برسوں میں نجانے کتنی بار یہ لکھ چکا ہوں کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نوٹس لینے کا جو طرز حکمرانی شہباز شریف متعارف کرا رہے ہیں، وہ بدترین گورننس کے زمرے میں آتا ہے۔

اگر صوبے کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی سرکاری مشینری اور ہزاروں عمال حکومت وزیر اعلیٰ کے نوٹس لینے پر ہی حرکت میں آتے ہیں تو اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

شہباز شریف کو شکت ماننے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مان لینا چاہئے کہ انہوں نے شہنشاہ جہانگیر کی طرح نوٹس لینے کا جو نظام چلایا وہ بالکل ناکام ثابت ہوا۔ صوبے میں ظلم اور لاقانونیت اُس کی وجہ سے بڑھی، جہاں طیارہ لے کر شہباز شریف پہنچ جاتے ، وہاں معطلیاں بھی ہو جاتیں اور ملزم بھی گرفتار ہو جاتے، مگر اُس کے بعد وہ مڑکر نہیں دیکھتے تھے کہ ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی یا نہیں، غریب مظلوموں کو انصاف بھی ملا کہ نہیں؟۔۔۔اب حکومت بدلے گی تو پنجاب میں طرزِ حکمرانی بھی تبدیل ہوگا۔ وہ بیوروکریسی جس کو ایک ہی جماعت کے ساتھ کام کرتے زنگ لگ چکا تھا، افسران نے اپنے گروپ بنالئے تھے، خلقِ خدا پر زمین تنگ کرنے کو ہی افسری سمجھ لیا تھا، سرکاری دفاتر کے دروازے عوام پر بند کردیئے تھے، پنجاب کی جان نہیں چھوڑتے تھے، کیونکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں تو انہیں ایسی فضا ملتی نہیں تھی، پشاور میں تعینات افسران اپنے دروازے لوگوں پر بند نہیں کرسکتے، لیکن پنجاب میں اُن کے دروازے کھلتے نہیں تھے، ایک نہیں کئی دربان عام آدمی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے تھے، اب انہیں ایک بدلی ہوئی صورت حال میں کام کرنا پڑے گا۔

وہ سیاسی سرپرست جو ہمیشہ اُن کی ڈھال بن جاتے اور انہیں کسی بھی مشکل سے بچا لیتے تھے، اب بے اختیار اور بے بس ہوگئے ہیں، پنجاب کی پگ کسی اور کے سر پر سجنے جا رہی ہے، یہ صوبہ انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی مخدوش صورت حال کا شکار ہے، اس میں تمیز بندہ و آقا اتنی زیادہ ہے کہ عام آدمی اپنے جائز حق کے لئے بھی برسوں ذلیل و خوار ہوتا ہے۔

صوبے میں قبضہ گروپوں کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم ہیں، جنہیں کسی نہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کی آشیر باد حاصل رہی ہے یا پھر وہ قبضہ گروپ بنائے ہی انہوں نے ہیں۔

پنجاب پولیس بدترین زوال کا شکار بھی اس لئے ہوئی کہ اسے عوامی نمائندوں کے زیر نگیں کردیا گیا۔ شہباز شریف علاقے سے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی سفارش پر ڈی سی اور ڈی پی او لگاتے تھے اور انہی کے کہنے پر تبدیل بھی کرتے ہوئے رکن اسمبلی سے اجازت لیتے تھے۔ فورس کی کمان اگر کمانڈر کے پاس نہ ہو اور کسی دوسرے ہاتھ میں چلی جائے تووہ فورس نہیں رہتی، بلکہ مختلف ٹکڑوں میں بٹا ہوا گروہ رہ جاتی ہے۔

میں نے کئی ایسے پولیس افسران کو دیکھا ہے، جو میرٹ پر کام کرنے کا جذبہ لے کر آئے، تاہم جلد ہی انہیں بے توقیر کرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ وہ ممبران اسمبلی کی ناجائز سفارش نہیں مانتے تھے۔

مجھے ملتان کے ایک سابق سی پی او احسن یونس کے ساتھ ہونے والا سلوک ابھی تک یاد ہے، انہوں نے ملتان پولیس کو عوامی اُمنگوں کا ترجمان بنادیا تھا، ایس ایچ اوز میرٹ پر تعینات کرتے اور سیاسی دباؤ پر کام نہیں کرتے تھے، کرائم ریٹ کو بہت نیچے لے آئے تھے، ایف آئی آر کے اندراج کو انتہائی سہل بنادیا تھا۔

ملتان میں گینگ ریپ کا ایک واقعہ ہوا، انہوں نے فوری ایکشن لیا۔ ایف آئی آر درج کی، اگلے روز وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے شہباز شریف شجاع آباد آئے۔

اُن کی متلون مزاجی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ارکان اسمبلی نے بلاوجہ ساری ذمہ داری سی پی او احسن یونس پر ڈال دی، شہباز شریف نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً انہیں او ایس ڈی بنانے کا حکم جاری کردیا۔ بعد میں تحقیق ہوئی تو کھلا کہ سی پی او نے تو بروقت اقدامات کئے تھے، مگر اُس وقت تک تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

پنجاب میں دفتری نظام دورِ غلامی کی یاد دلاتا ہے، کسی دفتر میں چلے جائیں، چھوٹے سے چھوٹا اہلکار بھی انانیت کی آخری حدوں کو چھوتا نظر آئے گا۔ جو ذلت عوام کو پنجاب کے دفاتر میں اُٹھانا پڑتی ہے، شاید ہی کسی اور صوبے میں ہو۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ افسر شاہی نے اس صوبے کو اپنی جنت بنائے رکھا ہے۔جس دفتر کا سربراہ آدم بے زار ہو، رشوت کے سوا کام نہ کرتا ہو، اُس کے ماتحت کیسے نیک و پار سا ہوسکتے ہیں؟ کسی ڈسٹرکٹ اکاؤ نٹس آفس میں جائیں، وہاں بوڑھے پنشنرز، اساتذہ، سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں، پنشنوں اور واجبات کے لئے ایسے رُلتے نظر آئیں گے، جیسے وہ قیدی یا غلام ہوں، ساتھ ہی ڈپٹی کمشنر کا دفتر ہوگا، اُس کی ناک کے نیچے یہ اس لئے بے خوفی سے جاری رہتا ہے کہ اُس نے اپنے ناجائز بل بھی اُسی اکاؤنٹس آفس سے پاس کرانے ہوتے ہیں، وہ باز پُرس کرے گا تو بلوں پر اعتراض لگ جائیں گے، لہٰذا اُسے عوام کی ذلت تو گوارا ہوتی ہے، اپنے بلوں کی رکاوٹ برداشت نہیں ہوتی۔

پچھلے دس برسوں میں سرکاری ہسپتالوں کا نظام بھی ٹھیک نہیں ہوسکا، کیونکہ اُن کے لئے بھی شہباز شریف نے نوٹس لینے کا فارمولا ایجاد کررکھا تھا، ہسپتالوں میں ایم ایس سیاسی بنیادوں پر تعینات ہوتے تھے، اُن کے لئے بھی کسی رکن اسمبلی کی بھرپور سفارش چاہئے ہوتی تھی، اُس کے بعد وہ خود کو ہر قسم کے احتساب سے بالا تر سمجھتا تھا۔

ملتان کا سب سے بڑا نشتر ہسپتال ایسے سیاسی افسروں کی وجہ سے تباہ ہوا، کروڑوں روپے کے فنڈز ملنے کے باوجود مریضوں کو ادویات نہیں ملتیں، جس آخری ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن کو برطرف کیا گیا ہے، اُس نے کروڑوں روپے لے کر سینکڑوں ملازمین کو بھرتی کیا۔ شہباز شریف کی حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت کے دور میں یہ تمام بھرتیاں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔

اس سے پہلے جو میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عاشق تعینات تھا، اس کے خلاف کروڑوں روپے کی بدعنوانی پر نیب تحقیقات کر رہا ہے جس طرح پانی ایک جگہ ٹھہرا رہے تو کائی جم جاتی ہے اُسی طرح ایک ہی جماعت کی دس سال تک حکومت رہے تو کئی مافیاز اس کی چھتری تلے کام کرنے لگتے ہیں، اُن کے اپنے اپنے چینلز ہوتے ہیں، جن کے ذریعے وہ اقتدار والوں کی سرپرستی حاصل کرلیتے ہیں۔

پنجاب میں کسی اچھے سیکرٹری کو ٹکنے نہیں دیا گیا، جس نے شہباز شریف کے اشارۂ چشم وآبرو پر چلنا سیکھ لیا، وہ مراد پاگیا، باقی سب بے مراد قرار دے کر یا تو کھڈے لائن لگا دیئے گئے یا پھر انہیں پنجاب بدر کردیا گیا۔

سب اس بات پر متفق ہیں کہ تحریک انصاف کو چاہئے کہ وہ کسی مضبوط اعصاب کے مالک شخص کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنائے، کیونکہ اُسے بہت کڑے فیصلے کرنے پڑیں گے اور بہت سے بت گرانے ہوں گے۔

ویسے تو یہ کام چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ترجیحات میں شامل ہے کہ وہ پنجاب میں ایک گڈگورننس دینا چاہتے ہیں، یہ بات تو وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ پنجاب کی پویس کو ٹھیک کرکے دکھائیں گے، پنجاب کی پولیس کو ٹھیک کرنا کوئی اتنا بڑا مسئلہ ہے بھی نہیں۔ بس اُسے سیاسی دباؤ سے آزاد کرکے کام کرنے کا موقع دینا چاہئے، پھر اگر کوئی گڑبڑ کرے تو اُسے محکمے سے نکال باہر پھینکا جائے۔

ایک اچھا آئی جی پنجاب پولیس کی کایا پلٹ سکتاہے، بشرطیکہ اُسے فری ہینڈ دیا جائے۔ دوسرا کام پٹوار سسٹم کا خاتمہ ہے، جیسے خیبرپختونخوا میں کیا گیا، یہ اتنا بڑا مافیا ہے کہ اس نے پنجاب میں کمپیوٹرائزڈ اراضی سسٹم کو چلنے نہیں دیا، حالانکہ شہباز شریف نے اُس پر اربوں روپے خرچ کئے۔ وجہ یہی تھی کہ پٹواریوں کے پیچھے بڑے بڑے سیاسی وڈیرے اور جاگیر دار موجود تھے۔

پنجاب کے لئے دفتری نظام کو بھی دور غلامی کے نظام سے آزاد کرانے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے، سرکاری عمال کے اختیارات کو کم سے کم کیا جائے اور ایک ہی دفتر میں کئی مراحل سے فائل گزارنے کے ضابطے بھی تبدیل کئے جائیں۔ سرخ فیتے کی جو اصلاح پنجاب میں عموماً استعمال کی جاتی ہے، اس کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔

تحریک انصاف کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ پنجاب میں اپنی حکومت قائم ہوتے ہی عوام کو تبدیلی کا احساس دلائے، کیونکہ پنجاب کے لوگوں کو تحریک انصاف کی صوبے میں حکومت بننے کی جو خوشی ہے، وہ مرکز سے کہیں زیادہ ہے، دیکھتے ہیں یہ توقعات کیسے پوری ہوتی ہیں؟

مزید : رائے /کالم