مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!

  



کل (یکم اگست 2018ء) کے اخبارات کی فائل دیکھی تو دو خبریں بہت نمایاں نظر آئیں۔ کسی بھی قاری کی چشمِ بینا ان خبروں میں پوشیدہ دور رس نتائج دیکھنے میں دیر نہیں لگائے گی۔۔۔ بقولِ اقبال:

جو ہے پردوں میں پنہاں چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے

زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

پہلی خبر باتصویر تھی جس میں پاکستان آرمی کے چیف CMH راولپنڈی میں ایک روسی کوہ پیما کی چارپائی کے سرہانے کھڑے اس کو دلاسا دے رہے تھے۔

اس روسی کوہ پیما کا نام الیگزینڈر گوکوف (Gukov) ہے جو ’’لاٹوک‘‘ (Latok) نامی پاکستان کی ایک کوہستانی چوٹی پر پھنس کے رہ گیا تھا۔ اس کے تھیلے میں خوراک ختم ہو گئی تھی البتہ آکسیجن موجود تھی اور برفانی آب و ہوا سے محفوظ رکھنے والا لباس بھی تھا۔ یہ روسی کوہ پیما پچھلے پانچ چھ دنوں سے برفانی جھکڑوں کے تھپیڑے کھا کھا کر نیم بے ہوش ہو چکا تھا۔

اس نے اپنے بیس کیمپ سے رابطہ کرکے اطلاع دی کہ وہ بھوکا ہے اور خراب موسم کی وجہ سے راستہ گم کر بیٹھا ہے، اس کی مدد کی جائے۔ اس نے اپنے روسی کوہ پیما وفد کی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا اور اس صورتِ حال سے متعلقہ لوگوں کو مطلع کیا۔

GHQ نے جب یہ صورتِ حال دیکھی تو فوراً ہی اپنے دو ہیلی کاپٹر گوکوف کو نکالنے کے لئے بھیجے۔ لیکن بار بار کی کوششوں کے باوجود خراب موسم کی وجہ سے اس تک رسائی ممکن نہ ہوئی۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان کی ایک ریسکیو ٹیم جو ہیلی کاپٹروں اور ابتدائی طبی ادویات سے مسلح ہوتی ہے وہ کوہ نوردی کے اس موسم میں ہر قسم کی ناگہانیت سے عہدہ برآ ہونے کو تیار رہتی ہے۔

گزشتہ ماہ جولائی کے آخری عشرے میں اسی ریسکیو ٹیم نے دو برطانوی کوہ پیماؤں کو بھی بچایا تھا۔ وہ کوہ پیما وادی ء ہنزہ میں ایک کوہستانی مہم کے دوران ایوالانچ کی زد میں آ گئے تھے۔

ایوالانچ برف کے اس طوفان کو کہتے ہیں جو برف پوش چوٹیوں سے بہت سی وجوہات کی بناء پر اوپر سے پھسل کر بڑی تیزی سے نیچے دامنِ کوہ کی طرف لڑھکتا ہے اور اس کی راہ میں جو چیز بھی حائل ہوتی ہے، اس کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ یہ جھکڑ (Avalanches) بالعموم ان علاقوں میں آتے رہتے ہیں اور لوگوں کی جانیں ضائع ہوتی رہتی ہیں۔

یہ برطانوی کوہ پیما بھی اس علاقے میں کوہِ الترسار (Ultar Sar) کو سر کرتے ہوئے ایوالانچ کی زد میں آ گئے تھے۔ خیریت گزری کہ اس جھکڑ کا ایک کنارہ ہی ان کی جانب آسکا وگرنہ وہ اگر چند گز اِدھر اُدھر ہوتے تو ان کا نام و نشان بھی نہ ملتا۔ ان دونوں برطانوی کوہ پیماؤں کو آرمی کی ریسکیو ٹیم نے بچاکر ایک عظیم انسانی فریضہ انجام دیا۔

لیکن گوکوف کو بچانے کے لئے جب یہ ٹیم روانہ ہوئی تو بہت کوششوں کے بعد بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ آرمی کے دو ہیلی کاپٹر ہر روز تلاش میں نکلتے لیکن جائے مطلوبہ پر لینڈ نہ کر سکتے اور واپس آ جاتے۔ اس روسی کوہ پیما ٹیم کی افسر رابطہ ایک روسی خاتون تھی جس کا نام آنا پی نووا (Anna Piunova) تھا۔ وہ دن رات ریسکیو ٹیم سے رابطے میں رہتی تھی۔ آخر چھٹے روز آرمی ریسکیو ٹیم کو کامیابی ملی۔

موسم صاف ہوا تو معلوم ہوا کہ گوکوف زندہ تو ہے لیکن عالمِ نزع میں ہے۔ اس ٹیم میں چونکہ ڈاکٹر بھی ساتھ تھا اس لئے اس نے فوراً اس کو جان بچانے والے انجکشن لگائے، بڑی مشکل سے ہیلی کاپٹر میں بٹھایا اور راولپنڈی پہنچ گئے۔

وہاں اس کی دیکھ بھال کی گئی جو یہ سطور لکھتے وقت تک جاری ہے۔ جس ڈاکٹر نے اس کو ہیلی کاپٹر میں بٹھانے میں مدد دی تھی اس کا کہنا ہے کہ اس کی حالت بہت نازک (Critical) تھی لیکن CMH راولپنڈی کے طبی عملے کی کوششوں سے اس کی جان بچ گئی۔۔۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب ہسپتال میں اس کوہ پیما کی عیادت کی تو اس کی حالت کافی سنبھل چکی تھی اور خطرے سے باہر تھی۔

پاک آرمی کی ریسکیو ٹیم نے گوکوف کی جان بچانے میں جو کردار ادا کیا اسے پاکستان میں روسی سفیر الیکسی دیدوف (Alexey Dedov) نے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اپنی ٹویٹ میں کہا: ’’ہم گوکوف کی جان بچانے والے پاکستانی ریسکیو ٹیم کے بہادر اراکین کے شکر گزار ہیں!‘‘

یہ خبر اور اس پر روسی اربابِ اختیار نے جو تحسینی کلمات ادا کئے وہ کل کے تمام پاکستانی اخباروں نے صفحہ اول پر شائع کئے۔۔۔ دوسری طرف ماسکو سے شائع ہونے والے اخبارات میں بھی پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا اور رشین ٹی وی (RT) پر بھی متعلقہ روسی اہلکاروں نے آکر اس پاکستانی کاوش کو خوب خوب سراہا۔

پاکستانی پرنٹ اور ای (E) میڈیا نے کل ایک اور خبر بھی اپنے صفحہ اول میں شہ سرخیوں سے شائع اور نشر کی جو یہ تھی کہ: ’’امریکہ پاکستان کو دیئے جانے والے مجوزہ آئی ایم ایف (IMF) پیکیج کی مخالفت کرے گا۔

امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو(Mike Pompeo) نے ایک بیان میں واشگاف الفاظ میں خبردار کیا اور کہا: ’’خبردار کوئی غلطی نہ کرنا۔ ہم آئی ایم ایف کی ہر ہر حرکت پر نگاہ رکھ رہے ہیں۔

ہمیں معلوم ہوا ہے کہ IMF پاکستان کو 10ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکیج دینے پر مائل ہو رہا ہے۔ لیکن امریکہ یہ نہیں چاہے گا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقوم پاکستان کو قرضے میں دی جائیں اور پاکستان اس بیل آؤٹ پیکیج کو چین کے قرضے اتارنے میں صرف کر دے!‘‘

ہمارا (اور ساری دنیا کا) میڈیا چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ پاکستان کو آنے والے چند دنوں میں آئی ایم ایف کے سامنے جانا پڑے گا۔ ہمارے نامزد وزیرخزانہ اسد عمر نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ ہو سکتا ہے، مستقبل قریب میں ہمیں مزید قرضہ لینے اور پاکستان کو مالیاتی دلدل سے نکالنے کے لئے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) سے رجوع کرنا پڑے۔ میڈیا پر اس خبر کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ کی تصویر دی ہوئی تھی جس میں ان کا منہ ’’سوجا‘‘ ہوا ہے اور آنکھوں سے غضبناکی ٹپک رہی ہے۔

یہ بات تو ہر پاکستانی کے علم میں ہے کہ 2014ء میں چین اور پاکستان میں اقتصادی راہداری کا معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق چین نے اس راہداری کی تعمیر و تشکیل کے لئے پاکستان کو ابتداً 46ارب ڈالر کا پیکیج آفر کیا تھا جو بعد میں بڑھ کر 60ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ اس منصوبے پر بڑے زور شور سے کام جاری ہے۔بہت سا کام مکمل ہو چکا ہے اور بہت سا باقی بھی ہے۔

پاکستان کے دشمنوں کی نگاہ میں یہ منصوبہ پاکستان کی خوشحالی کا ضامن اور مغربی بلاک، انڈیا اور افغانستان وغیرہ کی آنکھوں کا کانٹا ہے۔ چین اس کو ’’بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو‘‘ (Belt and Rood Initiative) کا نام دیتا ہے جس کے ذریعے بیجنگ سے دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں اور دارالحکومتوں کے صدر مقامات تک نہ صرف چین کی رسائی ہو سکے گی بلکہ پاکستان بھی آنے والے برسوں میں ان شاہراہوں سے مستفید ہو گا۔ پاکستان کے ہر سیاستدان، دانشور، بہی خواہ اور عام شہری نے اس کی دل کھول کر حمائت کی ہے۔

لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہر معاشرے میں قنوطی بھی پائے جاتے ہیں جو ساون بھادوں کی ٹھنڈی ٹھار ہواؤں کے جھونکوں میں گِھر کر بھی حبس اور گھٹن کی رٹ لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ پُروا تو چند گھنٹوں کی مہمان ہے۔ دیکھتے جاؤ۔ کچھ دیر میں یہ ہوا بند ہو کر بہت غدر مچائے گی اور ساری خلقِ خدا بدبو دار پسینے سے شرابور ہو جائے گی!

فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست

پاکستان نے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے پچھلے دنوں اپنے روپے کی قدر کم کی تھی (بمقابلہ ڈالر) بعض برآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد کر دی تھی لیکن یہ اقدامات بھی پاکستان کی گرتی ہوئی معاشی زبوں حالی کا مداوا نہ کرسکے۔ عام خیال یہی پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو اس بحران سے نکلنے کے لئے آئی ایم ایف کا رخ کرنا پڑے گا۔

اکثر قارئین کے علم میں ہے کہ IMF ایک ’’ساہوکار‘‘ عالمی ادارہ ہے جو امیر ملکوں نے مل کر بنایا ہوا ہے۔ اس میں وہ اربوں ڈالر کی نقد سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ گویا ایک ایسا بینک ہے جس سے غریب غربا کو قرضہ مل سکتا ہے جو ایک موعودہ مدت کے بعد مع سود ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس کا صدرمقام واشنگٹن میں ہے۔ اسے 1945ء میں قائم کیا گیا تھا۔

مقصد یہ تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو اگر وہ چاہیں تو بطور امداد مالی سپورٹ مہیا کی جائے تاکہ وہ کسی مالی بحران کی صورت میں دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں۔189 ممالک اس کے ممبر ہیں۔ اس میں 2700اہلکار کام کر رہے ہیں۔

اس کے تمام ممبران ہر سال اس کو چندہ دیتے ہیں اور اس چندے ہی کی رقم کے ’’شایانِ شان‘‘ ہر ملک کا اختیاری کوٹہ بھی طے کیا جاتا ہے۔اس کا کل سرمایہ 666ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس کے موجودہ چیئرمین کا نام کرسٹن لگارڈی (Christine Lagarde) ہے جو فرانسیسی باشندہ ہے اور گزشتہ سات سال سے مسلسل اسی ادارے کا منیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین ہے۔

اس ادارے سے قرض لینے میں تو کوئی قباحت نہیں لیکن سود کی رقم کی وقتِ مقررہ پر ادائیگی، مقروض ملک کو بعض اوقات مشکل میں ڈال دیتی ہے۔

جو ممالک قرض لے کر اسے اپنے معاشرے کی ترقی کے منصوبوں میں لگاتے ہیں وہ منصوبے بالعموم نفع بخش ہوتے ہیں۔ چنانچہ مقروض قوم کے لئے قرض کی ادائیگی (مع سود) کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن پاکستان تو ہر سال قرضہ لیتا رہا ہے اورہر بار سود کی قسط ادا کرکے اصل زر کا پھر مقروض رہتا ہے۔یعنی:

ہر سال فیل ہوتا ہے بچہ غریب کا

قارئین گرامی! میں نے یہ دونوں خبریں آپ کے سامنے رکھی ہیں۔ ایک طرف اگر امریکہ ہماری راہ میں اقتصادی کانٹے بچھانے کو ادھار کھائے بیٹھا ہے تو دوسری طرف ہماری فوجی قیادت نے روس کی حمائت حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔۔۔آرمی چیف کا CMH میں جا کر گوکوف کی عیادت کرنا اور روسی سفیر کا شکر گزار ہونا، پاکستان اور روس کے مستقبل کے تعلقات میں مثبت اشاریئے ہیں اور نیک شگون بھی۔۔۔ ہم نے سالہا سال تک اپنے سارے انڈے امریکی ٹوکری میں رکھے ہوئے تھے۔اب یہ انڈے چینی اور روسی ٹوکریوں کی طرف رکھے جا رہے ہیں!۔۔۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ ’’کاروبارِ انتقالِ بیضہ‘‘ پاکستان کو راس آئے گا!

مزید : رائے /کالم


loading...