صنعتوں میں حادثات کی روک تھام کیلئے سیفٹی پروگرام کا نفاذ ضروری ہے‘مقررین

صنعتوں میں حادثات کی روک تھام کیلئے سیفٹی پروگرام کا نفاذ ضروری ہے‘مقررین

  



لاہور(کامرس رپورٹر)مہلک کیمیائی مواد استعمال کرنے والی صنعتوں میں حادثات کی روک تھام کیلئے ایک قابل عمل سیفٹی پروگرام کا نفاذ اشد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کیمیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام سیفٹی مینجمنٹ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کر تے ہوئے مختلف مقررین نے کیا۔ مقررین میں عالمی سیفٹی پریکٹشنرمحمد داؤد کلیدی مقرر تھے۔ جبکہ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اقبال قدوائی نے اس موقع پر خطبہءِ استقبالیہ پیش کیا۔کلیدی مقرر محمد داؤد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک کیمیکل انڈسٹری صرف اپنے یونٹ کے اندر واقع انسانی اور مادی وسائل کی حفاظت ہی کی ذمہ دارنہیں ہوتی بلکہ وہ اپنی پیداواری مصنوعات کی ترسیل کے دوران یونٹ سے لیکر مارکیٹ تک کے روٹ کو محفوظ رکھنے کی بھی ذمہ دار ہوتی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ترقی یافتہ ملکوں کی کیمیکل انڈسٹر ی میں رائج بہترین سیفٹی مینجمنٹ پروگراموں کے بارے میں سیمینار کے شرکاء کو آگاہ کیا اور انہیں مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے میں رہنمائی بھی کی۔

قبل ازیں پی سی ایم اے کے سیکرٹری جنرل نے اپنے خطبہءِ استقبالیہ میں بتا یاکہ ایسوسی ایشن نے اپنے دو سالہ قیام کے دوران اپنی تمام تر توجہ کیمیکل یونٹوں کے نظامِ کار کو محفوظ بنانے پر رکھی ہے اور اس سلسلے میں عالمی سطح اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت مقرر شدہ معیاروں کو نافذالعمل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان معیاروں کے نفاذ سے پاکستان کی کیمیکل صنعتوں میں آتش گیر، دھماکہ خیز اور حواس گرفتہ کیمیائی مواد سے ہونے والے حادثات کا امکان تقریباََ ختم ہوگئے ہیں اور عالمی کیمیکل کمینونٹی نے پاکستان کیمیکل مینوفیچرنگ ایسوسی ایشن کو اپنا حصہ بنا لیا ہے۔ پھر بھی ہم کیمیکل پلانٹس پر کام کرنے والے کارکنوں اور منتظمین کو سیفٹی مینجمنٹ کے جدید طریقوں سے آگاہ رکھنے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔ سیمینار میں نمیر کیمیکلز، الفا کیمیکلز، سپر ایشیا ایگر، برجر پینٹس، غنی گیسز، ڈی آئی سی پاکستان، ڈائینیا پاکستان اور اتحاد کییکلز سمیت دیگر متعدد کیمیکل فیکٹریوں کے نمائیدوں نے شرکت کی اور سیفٹی مینجمنٹ کے حوالے سے پی سی ایم اے کی کوشوں کی تعریف کی ۔

مزید : کامرس


loading...