اس ملک کی خواتین کیسا کاروبار کرتی ہیں کہ حکومت ان کی حرکات سے خوش نہیں جان کر ۔۔۔

اس ملک کی خواتین کیسا کاروبار کرتی ہیں کہ حکومت ان کی حرکات سے خوش نہیں جان کر ...
اس ملک کی خواتین کیسا کاروبار کرتی ہیں کہ حکومت ان کی حرکات سے خوش نہیں جان کر ۔۔۔

  



برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن)جرمنی میں ہر تین میں سے ایک کاروبار کا آغاز خواتین کرتی ہیں۔ تاہم جرمن حکومت ان اعداد و شمار سے خوش نہیں ہے اور خواتین کو ذاتی کاروبار چلانے کی طرف زیادہ راغب کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق مختلف خواتین نے کاروبار کے حوالے سے اپنے اپنے خیا لات کا اظہار کیا ہے جو کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک خاتون بیربل گرون برگر کو شروع ہی سے معلوم تھا کہ وہ اپنا کاروبار کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے،” میں کاروباری ماحول میں بڑی ہوئی۔ ذمہ داری اٹھانا میری زندگی کا ہمیشہ سے حصہ تھا۔“

باویریا سے تعلق رکھنے والی گرون برگر کا کہنا ہے کہ جرمنی میں تجارت اور کاروبار کی دنیا میں مردوں کی اجارہ داری ہے۔ لیکن اب اس 37 سالہ خاتون تاجر کے لیے کچھ مشکل نہیں رہا۔ چند ماہ قبل گرون برگر نے ایک اور نئے کاروبار کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے ای کامرس یا پھر آن لائن تجارت کی دنیا میں اپنے قدم جمانا شروع کر دیے ہیں۔

جرمنی کی وزارت خزانہ کے مطابق ،” خواتین کی جانب سے نئی کاروباری کمپنیوں کی بنیاد رکھنے کا مطلب زیادہ نئے خیالات، زیادہ نوکریاں اور جرمنی کی اقتصادی ترقی ہے۔“اس تناظر میں جرمن وزارت خزانہ کی جانب سے کئی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ حکومت نے ’خواتین تاجروں کی قومی ایجنسی‘ تشکیل دی ہے اس کے علاوہ ’ویمن ان ڈیجیٹل‘ نامی پروگرام کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ جرمنی میں خواتین تاجروں کی حوصلہ افزائی اور کاروبار آغاز کرنے کی خواہش پیدا کرنے کے لیے حکومت کے علاوہ دوسری تنظیمیں بھی اقدامات اٹھا رہی ہیں۔

بڑی کاروباری کمپنیاں جیسے کہ ایمازون اور جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے مل کر ’مستقبل کی خواتین تاجر ‘ کے نام سے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ ان اقدامات سے جرمنی میں خواتین کاروبار شعبے میں زیادہ دلچسپی لیں گی اور اپنی کاروباری صلاحیتیں دکھانے میں کامیاب بھی ہوں گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...