پاکستان کی ”شید ی“ خاتون کے کارنامے نے پاکستانیوں سمیت دنیا کو حیران کردیا

پاکستان کی ”شید ی“ خاتون کے کارنامے نے پاکستانیوں سمیت دنیا کو حیران کردیا
پاکستان کی ”شید ی“ خاتون کے کارنامے نے پاکستانیوں سمیت دنیا کو حیران کردیا

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) حالیہ عام انتخابات میں بہت کچھ ایسا ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ مثلاً خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقے دیر میں خواتین کا گھروں سے ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنا، چترال میں آباد کیلاش قبیلے کے ایک رکن کا صوبائی اسمبلی کا رکن بننا اورسندھ میں پہلی خاتون ’شیدی‘ رکنِ اسمبلی کا اضافہ ہونا اپنی نوعیت کے منفرد واقعات ہیں۔

پیپلز پارٹی کی کارکن تنزیلہ قمبرانی کا تعلقہ ضلع بدین کے علاقے ماتلی سے ہے۔غیر ملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تنزیلہ نے بتایا، "میرا تعلق شیدی برادری سے ہے۔ ہمارے یہاں بچہ جیے بھٹو کے نعرے کے ساتھ پیدا ہوتا اور اسی نعرے کے سائے تلے پل کر بڑا ہوتا ہے۔ میرے والد ایڈوکیٹ ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی عہدیدار بھی تھے جبکہ والدہ ایک سکول میں ہیڈ مسٹریس تھیں۔“

تنزیلہ نے بتایا کہ سن 70 کی انتخابی مہم بھٹو صاحب نے ضلع بدین میں ان کے گھر سے شروع کی تھی اور ان کے ہاں ہی قیام کیا تھا۔ اس لیے، ان کے بقول ان کا سیاست میں آنا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے کام کرنا ایک طرح سے طے شدہ تھا۔

مورخین کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں آباد 'شیدی' برادری کے اجداد کا شجرہ افریقہ سے جا ملتا ہے۔کراچی میں اس برادری کی بڑی تعداد آباد ہے۔تنزیلہ عمر کی 39 بہاریں دیکھ چکی ہیں اور سادگی سے رہنا پسند کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا رہن سہن شیدی برادری کی روایتی خواتین سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتا۔

انہوں نے بتایا "میں نے سندھ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کیا ہے۔ میرے تین بچے ہیں۔ میں پیپلز پارٹی کی مخصو ص نشستوں پر سندھ اسمبلی کی رکن بنی ہوں جب کہ پانچ سال سے ماتلی میں خواتین کی فلاح و بہبود اور پارٹی کے لیے کام کر رہی ہوں۔"تنزیلہ تین سال سے پی پی پی کے علاقائی خواتین ونگ کی صدر ہیں جب کہ وہ ماتلی میونسپل کمیٹی کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ایک سوال پر تنزیلہ کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی میں جا کر ان شعبوں میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کریں گی جن میں قانون سازی کی گنجائش موجود ہے۔ان کے بقول دیہی خواتین، شہری خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ باہمت ہوتی ہیں لیکن تعلیم اور صحت کے مسائل نے انہیں معاشرے میں پوری طرح طاقت ور بننے نہیں دیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...