تحریک انصاف کے نمبرزپورے، متحدہ کی حمایت حاصل ، اپوزیشن کی اے پی سی آج پھر طلب

تحریک انصاف کے نمبرزپورے، متحدہ کی حمایت حاصل ، اپوزیشن کی اے پی سی آج پھر ...

  



لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) پاکستان تحریکِ انصاف نے آزاد امیدواروں کی شمولیت کے حوالے سے میدان مار لیا، 23 ارکان پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے، جس کے بعد پنجاب میں تحریکِ انصاف کی مسلم لیگ ق کی حمایت سے تعداد 154 پر پہنچ گئی۔نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘کے مطابق پنجاب میں انتخابات جیتنے والے 30 آزاد ارکان میں سے اب تک 23 تحریکِ انصاف کے کھلاڑی بن چکے ہیں، ان میں سے ایک آزاد رکن مسلم لیگ (ق) میں شامل جبکہ 6 نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا،چودھری نثار علی خان، غلام رسول سانگھا اور محمد معاویہ اعظم کی ابھی آزاد حیثیت برقرار ہے جبکہ سیدہ میمنت محسن، مخدوم ہاشمی اور احمد علی اولکھ بھی ابھی کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہونے والے امیدواروں میں فیصل آباد کے حلقہ این اے 101 سے رکن قومی اسمبلی عاصم نذیر، ڈیرہ غازی خان میں کھوسہ فیملی کو شکست سے دوچار کرنے والے آزاد رکن قومی اسمبلی امجد کھوسہ اور ایم پی اے محسن عطا کھوسہ، چنیوٹ کے حلقہ پی پی 93 سے تیمور لالی، پی پی 124 جھنگ سے تیمور خان اور پی پی 277 سے علمدار قریشی جبکہ مظفر گڑھ سے سردار خرم خان لغاری اور جھنگ سے مہر اسلم بھروانہ شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں23 آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہوگئی، جبکہ6 آزاد ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہوگئی،پنجاب میں حکومت سازی کیلیے پی ٹی آئی مطلوبہ تعداد سے بہت آگے نکل گئی ہے،تحریک انصاف کوپنجاب اسمبلی میں154 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ پنجاب میں سادہ اکثریت حاصل کرلی ، مرکز میں دونمبرز باقی ہیں، جام کمال کے نام پر تحریک انصاف بلوچستان والوں کو منا لیں گے، دریں اثناپنجاب کی وزارتِ اعلیٰ اور کابینہ کے لیے پی ٹی آئی کے نام سامنے آگئے۔عام انتخابات میں پنجاب میں (ن) لیگ اور تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی ہیں اور دونوں جماعتوں کی جانب سے صوبے میں حکومت سازی کے لیے رسہ کشی جاری ہے، دونوں جماعتیں سادہ اکثریت کا دعویٰ کررہی ہیں پنجاب میں وزیراعلیٰ کے لیے بھی تحریک انصاف میں لابنگ جاری ہے اور اب صوبے کے سربراہ کے لیے پی ٹی آئی کے نام سامنے آگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی وزیراعلیٰ پنجاب کی لسٹ میں یاسر ہمایوں اور میاں اسلم اقبال کے نام شامل ہیں جب کہ نیب نوٹسز کے باعث وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جانے والے علیم خان کے اس منصب پر بیٹھنے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی وزارت اعلیٰ کے لیے تاحال فائنل نہیں ہوسکا ہے۔ذرائع کے مطابق پنجاب کابینہ کے لیے بھی کئی نام سامنے آئے ہیں جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزیر صحت اور سابق اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کو سینئر وزیر بنائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سبطین خان، راجہ بشارت، میاں وارث اور مخدوم ہاشم جواں بخت بھی وزرا کی دوڑ میں شامل ہیں۔دریں اثنا کوئٹہ میں پلوچستان عوامی پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں جام کمال کو وزیر اعلیٰ کیلئے نامزد کر دیا گیاجبکہ عبدالقدوس بزنجو کو بلوچستان اسمبلی کا سپیکر نامزد کیا گیا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ پارٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کو کسی کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھے گی۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم سب کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں لہٰذا ہمارے مینڈیٹ کا بھی احترام کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ اتنے تجربات کے بعد ایم کیو ایم سندھ حکومت میں شامل ہوگی۔جہانگیر ترین سے ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کو کچھ نہیں چاہیے، صرف شہر کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میں دیرینہ پانی کا مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں کے فور منصوبے کی تکمیل ضروری ہے، اس کے علاوہ سیوریج کا پانی کا بھی مسئلہ ہے۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ(ن)کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ رابطہ کمیٹی نے کیا ہے یاد رہے رہنماء ن لیگ اور سابق گورنر سندھ محمدزبیرنے فیصل سبزواری سے رابطہ کیاتھا اور ایم کیوایم کواے پی سی میں شرکت کی دعوت دی تھی ۔واضح رہے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان کیا تھا جس کے تین اجلاس ہو چکے ہیں اور آئندہ اجلاس آج جمعرات کو اسلام آبادمیں ہوگا۔دریں اثناء چیئرمین پی ٹی آئی عمران کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک انصاف کے حکومت سنبھالتے ہی عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ عمران خان کی بطور وزیراعظم حلف برداری کی تقریب کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی اور کیا گیا عمران خان ایوان صدر میں سادہ اور پروقار تقریب میں حلف اٹھائیں گے۔

جوڑتوڑ

جوڑ توڑ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،آن لائن) مسلم لیگ ن کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس آج جمعرات کو ایم ایم اے کے رہنما میاں اسلم لی رہائش گاہ پر طلب کرلیا گیا ہے اور پیپلزپارٹی ایم ایم اے ،اے این پی،پختونخواہ عوامی ملی پارٹی، ایم کیو ایم ،پاک سرزمین پارٹی،قومی وطن پارٹی اور بی این پی مینگل سمیت دیگر پارٹیوں کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے اس کانفرنس میں وزیرا عظم ،سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کیلئے متفقہ امیدوار نامزد کیا جائے گا جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا نام بھی طے کیا جائے گا۔

اے پی سی

مزید : صفحہ اول


loading...