سیاستدانوں کی صحت اقتدار میں ٹھیک ہوتی ہے

سیاستدانوں کی صحت اقتدار میں ٹھیک ہوتی ہے

  



عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے برسوں سے برسر اقتدار طبقہ پاکستان میں اپنے لئے ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بنا سکا جس میں وہ اپنا علاج کروا سکے یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو اگر چھینک بھی آجائے تو وہ علاج کے لئے لندن چلے جاتے ہیں۔ اگرجیل میں ان کی صحت خراب ہو گئی ہے تو پاکستانی ڈاکٹرز ہی یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے یا ان کو علاج کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے ،وہ ایشو آف دی ڈے میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاستدان جب اقتدار میں آ کر لوٹ مار میں مصروف ہوتے ہیں تب ان کی صحت ٹھیک ہوتی ہے لیکن جب یہ اقتدار سے باہر ہوں اور ان سے ان کی لوٹ مار کا حساب لیا جائے تو ان کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور انہیں کئی قسم کے مرض لاحق ہو جاتے ہیں ۔اگر میاں نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے تو ان کا علاج اسی ملک میں کیا جانا چاہئے اور اگر ان کی صحت کے حوالے سے ڈاکٹرز ان کا علاج بیرون ملک کروانا چاہیں تو پھر یہ فیصلہ نیب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کرنا چاہئے۔

شیخ رشید

مزید : صفحہ اول


loading...