الیکشن دھاندلی زدہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ذمہ دار ہیں ، سینیٹ ریسرچ پالیسی فورم

الیکشن دھاندلی زدہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن ذمہ دار ہیں ، سینیٹ ریسرچ ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )سینیٹ کے ریسرچ پالیسی فورم میں سینیٹرز نے حالیہ الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن دھاندلی زدہ تھے جس کے ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ اورالیکشن کمیشن ہیں ،چیئرمین ریسرچ پالیسی سینیٹ نے کہا ہے فورم کے پاس الیکشن کمیشن کو طلب کرنے کا کوئی اختیار نہیں ، معاملہ سینیٹ کی ہول کمیٹی میں بھیجاکیا جائے گا ،الیکشن میں ذاتیات پر حملے نہیں ہونے چاہییءں تھے ، وزیراعظم کسی پارٹی کا نہیں پورے ملک کا ہوتا ہے ، پاک فوج بطور ادارہ محترم ، تنقید وہاں ہوتی ہے جب وہ اپنے متعین کردار سے بڑھ کر دوسری جگہ مداخلت کرتا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی ریسرچ پالیسی فورم کا اجلاس پیپس ہال اسلام آباد میں چیئرمین کمیٹی سید طا ہر حسین مشہدی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ ، محمد علی سیف، نزہت صادق ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، سحر کامران ، الیاس بلور، میر نصیر مینگل ، سینیٹر محسن خان لغاری نے شرکت کی ۔ سینیٹر (ر) الیاس بلور نے کہا وہ 1988سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ، حالیہ الیکشن 6بجے تک شفاف انداز میں ہوئے ،اس کے بعد آرمی نے ان کے پولنگ ایجنٹوں کو زبردستی باہر نکال دیا ،اسٹیبلشمنٹ نے اگر تہیہ کیا ہوا تھا پی ٹی آئی کو جتوانا ہے تو وہ انہیں 125سے130سیٹیں دے دیتے ، اس الیکشن سے سارے پریشان بیٹھے ہیں جن میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے ۔ بی این پی چار سیٹوں کیساتھ ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ مانگ رہی ہے ، حالیہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن تھے ۔سینیٹر (ر) محسن لغاری نے کہا ان کا خاندان 1921سے پارلیمنٹ کا حصہ رہا ہے ، یہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آرہا ہے جو ہار جائیں وہ دھاندلی جو جیت جائیں وہ شفافیت کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ الیکشن میں دھاندلی ہوتی تو جی ڈی اے اورسرفراز بگٹی جیت جاتے ۔ کوئی ووٹ جعلی نہیں ڈالے گئے ، الیکشن کمیشن کی نااہلی ہے کہ الیکٹرانک رپورٹنگ کو کیوں نہیں آزمایا گیا ۔ تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہارنیوالی پارٹیاں دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہیں لیکن وہ ثبوت دینے میں ناکام رہیں ، الیکشن پر امن ماحول میں ہوئے ۔ پیپلزپارٹی کی (ر) سینیٹر سحر کامران نے کہا تیسری جمہوری حکومت اقتدار سنبھالنے جا رہی ہے ، تمام تر خدشات کے باوجود جمہوریت آہستہ آہستہ مضبوط ہو رہی ہے ، الیکشن میں جھول تھے ، الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد نہ کرا سکا ، گالی گلوچ اور ذاتیات پر تقاریر کی گئیں ،چوبیس گھنٹے اگر رزلٹ نہ ملیں تو شکوک پیدا ہو جاتے ہیں ،گنتی کے عمل کو شفاف ہونا چاہیے تھا لیکن نہ ہو سکا ، جہاں خواتین کی پولنگ دس فیصد کمی ہوئی وہاں الیکشن کینسل کئے جانے چا ہیءں ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا الیکشن میں سودے بازی ہو رہی ہے اور اس کی وجوہات ہیں ، داخلہ کمیٹی میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے یقین دلایا تھا آرٹی ایس سسٹم کام کرے گا وقت آنے پر سسٹم بیٹھ گیا ، قوم کے کروڑوں روپے خرچ کر دیے گئے ، الیکشن میں ادارتی دھاندلی کی گئی ہے ۔افراسیاب خٹک نے کہا الیکشن میں انفرادی نہیں بلکہ انڈسٹری لیول کی دھاندلی ہوئی ہے جس میں فوج اور اس کے خفیہ ادارے پوری طرح ملوث تھے ۔ سابق جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ سیاسی پارٹیاں مجھ سے 100سیٹیں مانگ رہی ہیں لیکن میں انہیں دس تک دے سکتا ہوں ،ا س وقت بھی یہی ادارے ملوث تھے ، الیکشن کمیشن سے پوچھنا چاہیے کہ وہ بتائے کہ بیلٹ پیپر پرنٹنگ پریس سے کون لایا ، پہنچایا کس نے اور واپس کس نے لائے تو ساری بات سمجھ آجائے گی ، بتایا جائے کہ آرمی کو پولنگ اسٹیشن کے اندر کیوں تعینات کیا گیا ، (ن) لیگ کی سینیٹر نزہت صادق نے کہا الیکشن کے دنوں میں حنیف عباسی کی نا اہلی اور ہمارے ووٹروں پر دہشت گردی کی دفعات لگا کر جیل میں ڈا ل دیا گیا ، پولنگ اسٹیشن کے اندر کہا گیا ووٹ تحریک انصاف کو دینا ہے ، گنتی کے وقت فوج کا کیا کام تھا ، اب تک ملک بھر کے نتائج سامنے نہیں آئے ، ملک تب ہی چلے گا جب تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے ۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا حالیہ الیکشن میں فائدہ اٹھانے والوں میں پی پی پی ، بی اے پی اور پی ٹی آئی شامل ہیں جن پر الزام عائد کیا جاتا ہے انہیں فوج کی حمایت حاصل تھی ۔ الیکشن میٹریل سے لیکر سٹا ف تک الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ، کبھی فوج اور کبھی سکول ٹیچر لگائے جاتے ہیں ، کل اگر کسی آئی جی نے فیصلہ کر لیا الیکشن ثبوتاژ کرنا ہے تو روکنے کی صلاحیت ادارے کے پاس نہیں ، جس کے پاس جتنی طاقت ہوگی وہ اتنا ہی بااثر اور فیصلہ کن ہوگا ۔

مزید : صفحہ اول


loading...