آئی ایم ایف امریکی رضا مندی سے قرضہ دے گا، ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

آئی ایم ایف امریکی رضا مندی سے قرضہ دے گا، ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

  



کراچی (نصیر احمد سلیمی) معروف ماہر معتبر اور ممتاز معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی روزنامہ ’’پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو۔امریکی وزیر خارجہ کے تازہ بیان کے حوالے سے، جس میں انہوں نے آئی ایم ایف کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کو چین کے قرضے اتارنے کے لئے بیل آؤٹ پیکج (تجارتی پیکج) نہ دیں۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ’’روزنامہ پاکستان‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان دراصل پاکستان پر قرضوں کے سلسلے میں دباؤ ڈالنے کی ایک حقیقت پسندانہ کوشش ہے، جسے دوسرے لفظوں میں ایک ناپاک کوشش کہا جاسکتا ہے۔ امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ سابقہ وفاقی و چاروں صوبائی حکومتوں اور اسٹیٹ بنک کی ناقص پالیسیوں اور آئی ایم ایف کی تباہ کن معاشی شرائط کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور پاکستان کا بیرونی شعبہ سنگین بحران کا شکار ہوچکا ہے۔امریکہ یہ بات بھی سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں چین کی جانب سے پاکستان کو دئیے جانے والے قرضے اور دوست اسلامی ممالک کی جانب سے ملنے والی ممکنہ قرضے اور نقد امداد آئی ایم ایف کے قرضوں کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ امریکی وزیر خارجہ کا مذکورہ بیان، دہشت گردوں کی جنگ میں مزید مور اور‘‘ پر مجبور کرنے اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے ذریعہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کی پرانی پالیسی کا اعادہ ہے، جس سے پاکستان غیر مستحکم ہوگا۔ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات یقینی ہے کہ جونہی نئی منتخب حکومت آئی ایم ایف سے قرضے کی درخواست کرے گی، آئی ایم ایف مذاکرات شروع کر دے گا۔ آئی ایم ایف امریکہ کی رضا مندی سے پاکستان کے لئے نیا قرضہ منظور کرے گا۔ تاہم ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے خیال میں یہ ممکن ہے کہ اگر نئی حکومت چاہے تو اپنے منشور اور وعدوں پر عمل کرکے چند ماہ میں اتنی رقوم اکٹھی کرسکتی ہے، وہ آئی ایم ایف کے قرضے، وقت سے پہلے واپس کرکے اس کے شکنجے سے باہر نکل آئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا کوئی امکان نہیں ہے آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے دینے سے انکار کر دے۔ اس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ کا بیان پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ آئی ایم ایف کی قرضوں کی شرائط سے پاکستان کو روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑ سکتی ہے جبکہ بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کا پاکستان پر دباؤ ہوگا کہ پاکستان اسٹیٹ بنک کے پالیسی ریٹ میں مزید اضافہ کرے۔ ڈاکٹر صدیقی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے لئے ایک پریشانی کی بات یہ ہوگی کہ حکومتی شعبے خسارہ میں چلنے والے اداروں کی تیزی سے نجکاری کی جائے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو اس حوالے سے مہلت دینے کا روادار شاید نہ ہو۔ پاکستان کو اس سے نکلنے کے لئے ٹیکسوں کی وصولی میں تیزی سے اضافہ کرنا ہوگا، تاکہ ان اداروں کی تنظیم کی جائے۔ ہم نے اگر ان اداروں کی تنظیم کی بجائے اس سے نکلنے کے لئے اس مشورہ پر عمل کیا گیا کہ ٹیکسوں کی وصولی میں تیزی سے اضافہ کے بجائے سمندر پاکستان پاکستانیوں کے تعاون سے اس بحران سے نکلا جاے تو یہ خسارہ کا سودا ہوگا۔ ان کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں، بیرون ملک موجود سرمایہ کو پاکستان میں لانے اور اس سے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کی قابل عمل پالیسی بنانا ہوگی۔

شاہد حسن صدیقی

مزید : صفحہ اول